افسوس کریں کس پر ؟؟

تحریر بشیر الدین بٹ

اپنے شہریوں کے بہتے خون اور بکھرے ہوے لاشوں پر
یا
ان کے روتے بلکتے آہ و بکاہ کرتے عزیز و اکارب سے؟

پاکستان میں موجود پاکستان کے وجود کو مٹانے کے خواب دیکھنے والوں پر
یا پھر
سرحد پار موجود اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری سے پاکستان کے ٹکرے کرنے کی پلاننگ کرتے اپنے ”ہمسایہ“ پر؟
یا افسوس کریں
اپنے ریشم و مخمل کے بستروں پر گہری نیند کے مزے لیتے حکمرانوں سے
یا
سونے کے نوالے لیے پیدا ہونے والے سیاستدانوں کی اولاد اور مستقبل کے حکمرانوں سے؟

یا افسوس کرنا چاہیے
منبر و محراب سے نفرت و تفریق پھیلاتے ناعاقبت اندیشوں سے
یا
ملک میں’ لا الٰہ‘ کے احکامات کی دھجیاں اُڑتے دیکھ کر
فحاشی و عریانی کے جال میں جکڑی نوجوان نسل کو دیکھ کر
ظالم کے ظلم پر اور مظلوم کے مظالم سرِ عام ہوتا دیکھ کر
اللہ اللہ اور استغفراللہ پر اکتفا کرنے والوں سے؟
یا مجھے افسوس کرنا چاہیے
پاکستانی میڈیا سے جو اسلامی ثقافت کی جگہ ہندؤ ثقافت کو اپنی تہزیب قرار دینے کیلیے شب و روز
”جہاد فی السبیل الشیطان“ کے رستے پر گامزن ہے
یا
اُن سے جنھوں نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھا رکھی ہے وہ جن پر سرگوشی بھی کریں تو” وقار“ پر ضرب پڑنے کا کہا جاتا ہے ….
اے میرے اللہ تو ہی ہمارا خالق ہے تو ہی مالک ہے
پس تو ہی ھمارا نگہبان بن جا .. آمین یا رب العالمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: