اسلام امن و سلامتی کا دین

تحریر : سعد مقصود
کسی کو بھی اسلام اجازت نہیں دیتا کہ وہ خود ہی جلاد بن جائے اور خود ہی منصف ایسا ہر کام کرنے والے کو عبرت ناک سزا دینی چاہیے اس سے اسلام کا چہرہ مسخ ہوتا ہے کوٹ رادھا کشن میں عیسائی میاں بیوی کو زندہ جلانے کے بعد پاکستانی علما کا متفقہ رد عمل،

٭ ایسے ہر واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرنی چاہیے ہر باشعور انسان اور مسلمان کو اسلام انسانیت سے محبت کا درس دیتا ہے اور انسان کی قدر اور اہمیت جس قدر اسلام کرتا ہے دنیاکاکوئی مذہب نہیں کرتا اقلتیوں کے حقوق پر خصوصی زور دیتا ہے اور حدیث رسولﷺ کا مفہوم ہے جس نے ایک بے گناہ کا قتل کیا گویا اس نے پوری انسانیت کا قتل کیا اس ساری تمہید باندھنے کو مقصد ہے کہ اسلام ہر گز کسی کو ایسے کام کرنے اور جذبات کا ایسے اظہار کرنے کو درس ہر گز نہیں دیتا ہے اور سب با شعور لوگ اس کا مطالبہ کرتے ہیں کہ مجرم کو کڑی سے کڑی سزا دی جائے مگر اس طرح کے واقعات کے بعد پاکستان میں ایک طبقہ بہت سی اُچھل کود شروع کر دیتا ہے .

یہ وہ طبقہ ہے جو زور زور سے انسانی حقوق اقلتیوں کے حقوق کا رونا رونے لگ جاتا ہے اور نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیموں کے لبادے میں چند بدبودار عورتوں اور مردوں کا ٹولہ ہے جو ان واقعات کو بنیاد بنا کر اسلام مولوی دین مذہب اور اس ملک میں رائج توہین رسالت کے قانون کو نشانہ بناتا ہے اور اس بات کا مطالبہ کرتا ہے کہ ایسے تمام قوانین کو ختم کیا جائے اس سے انسانی حقوق خطرے میں ہیں یہ وہی لوگ ہیں جو وزیرستان میں ڈرون حملوں میں مرنے والے معصوم بچوں کے انسانی حقوق کو کبھی انسانی حقوق نہیں سمجھتے یہ وہ لوگ ہیں جن کے نزدیک افغانستان میں امریکہ آسمان سے آگ برسا کر بے شمار لوگوں کو زندہ درگور کر دے خاندان کے خاندان اُجاڑ دے وہاں انسانی حقوق نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی نہ ہی یہ باہر نکل کر اُس کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں فلسطین پر اسرئیلی حملہ ہو یا کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ان لوگوں کی زبان بند رہتی ہے یہ کون سے انسانی حقوق ہیں جو صرف ایسے ہر واقعے کے وقت نظر آتے ہیں جس سے اسلام کو یا مولوی کو نشانہ بنایا جا سکے ؟ جبکہ اسلام سب سے زیادہ اقلتیوں کے تحفظ کو حکم دیتا ہے اور دنیا کی تاریخ گواہ ہے اسلام کے اس رویے سے متاثر ہو کر لوگ اسلام کے نزدیک آئے اور اسلام کو قبول کیا ایک نام نہاد این جی او کی خاتون فرزانہ باری صاحبہ کا ایک ٹی وی شو میں کہنا تھا کہ قادیانیوں کے حوالے سے بھی قانون کو ختم کیا جائے اس سے وہ اپنے آپ کو محفوظ نہیں سمجھتے ہیں اور پارلیمنٹ کو توہین رسالت کے قانون کو از سر نو دیکھنا چاہیے جواب میں ایک عالم دین علامہ ابتسام الہی ظہیر نے کہا کہ ایسا واقعہ کرنے والے کو پھانسی کی سزا دینی چاہیے کیوں کہ اس نے اسلام کا چہرہ مسخ کیا ہے مگر اس کی آڑ میں قانون توہین رسالت کو ختم کرنے اور قادیانی کو کافر قرار نہ دینے کی باتوں کی مذمت کرنی چاہیے۔

اللہ کے نبیﷺ کی محبت سے بڑھ کر مسلمان کے لیے کوئی چیز نہیں وہ اس پر کٹ مرنے کا جذبہ رکھتے ہیں اور پاکستان میں موجود قانون رسالت اور قادیانی کو کافر قرار دینے کا قانون اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ یہ ایک اسلامی آئین رکھنے والا ملک ہے یہاں پر سب کو مذہبی آزادی ہے اس کی متعین کردہ حدود میں رہ کر وہ اپنا مذہب اور اس کی عبادات کو سرانجام دے ہمیں اس قانون کو غلط استعمال کرنے والوں کو سخت سے سخت سزا دینی چاہیے اور کوئی توہین کرے تو اسے قانون کے حوالے کیا جائے علما پر اس کا ملبہ ڈالنے والے نام نہاد این جی اوز کو علما کی مذمت ہر گز نظر نہ آئے گی کیوں کہ ان کو صرف اور صرف اسلام سے مسئلہ ہے اور وہ اس قانون کو خاتمہ چاہتے ہیں جو کہ تمام سیاسی جماعتوں کا متفقہ فیصلہ ہے اور سب اس بات پر راضی ہیں اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشرے سے عدم برادشت کے روِیے کو ختم کیا جائے لوگوں کا بتایا جائے کہ اسلام کیا کہتا ہے اور اقلتیوں کے کیا حقوق ہیں اور کوئی بھی توہین رسالت کے اس قانون کو غلط استعمال کرے تو سب کو بلاتفریق اس کی مذمت کرنی چاہیے ۔ اور نام نہاد این جی اوز کو ڈرون حملوں میں مرنے والوں ، کشمیر ، فلسطین اور افغانستان میں مرنے والوں کو بھی انسان سمجھنا چاہیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: