“سیکولرز اورلبرلز کے لئے لمحہ فکریہ”

تحریر : فضل وہاب
جہااد امت مسلمہ کے ما تھے کا جومر ہیں
سیکولر اور لبرلز جب جہاد اور قتال کا نام سنتے ہے تو ان کے ہوش ا ڑ جاتے حواس باختہ ہوجاتے ہیں .دہشتگردی اور انتہا پسندی کے لیبلز چسپا کرنا شوروع کردیتے ہیں .لیکن ان احمقوں ،اسلام اور مسلمان دشمنوں سے کوئی یہ پوچھ لے کہ جہاد اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ایک رکن ہیں۔یہ اللہ رب العزت کا حکم ہے۔یہ کسی اسامہ بن لادن کا،یاکسی صلاح الدین کا،یا کسی منور حسن کا ایجاد کردہ لفظ نہیں۔اورنہ لفظ جہاد کسی خوف اور دہشت و وحشت کی علامت ہیں ۔بلکہ یہ دنیا کومسخرکرنےکیلیے،اوردنیا کوامن کاگہوارہ بنانے کیلئےاوردنیاکے اندر خوشحالی کےقیام کو یقینی بنانے اورجبر اور ظلم کی طویل راتوں کو سحر کرنے کیلئے جہاد کا رستہ اختیار کیا جا تا ہیں .

یہ سیکولرز اور لبر لز اپنے آ پ کو بڑے روشن خیال کہتے ہے لیکن لعنت ہے ان کی روشن خیالی پر‘ جب امریکہ ،اسرایئل اور عالم کفر پوری دنیا میں امت مسلمہ پر یلغار کر رہی ہیں اور ظلم کی طویل رات کو طویل تر کر ر ہی ہے توان کے اس کھلی بد معاشی اور غنڈہ گردی ،جبر اور ظلم پہ لب کشایئ تو دور بلکہ اس کے خلاف نفرت کا اظہار تک بھی نہیں کر سکتے ،اس وقت ان کی زبانیں شل ہوجاتی ہیں.یہی تو ان کے اوقات ہے.دوسری طرف اگر غاصب فوجوں سےآذادی حاصل کرنے کی کویئ جدو جہد ہورہی ہے تو وہ دھشتگردی اور انتہا پسند ی ہیں.

لیکن سیکولرز اور لبرلز سن لو جہاد تا قیامت چلتارہےگا تم خود ختم ہوجاونگے .جہادامت مسلمہ کے ماتھے کا جومر ہیں.کیاتم ہمارے دلوں سے ایمان نکال سکتے ہو نہیں کھبی نہیں.جس طرح ہمارے دلوں سےایمان نکا لنا مشکل ہے اسی طرح تم ہمارے دلوں سے جہاد کی محبت نہیں ختم کرسکتے.لہٰذا اپنی توانایاں یہا ں ختم کرنے کی بجائے کسی اور کام میں لگائے.
آپ تاریخ اُ ٹھا کر دیکھیئے نبی اکرمﷺ کےبعثت سے پہلے عرب کے کیا حالات تھے اور پھر فتح مکہ کے بعد
جو تبدیلی آیئ آپ ان حالات کاپہلے کے حالات سے موازنہ کریں تو روز روشن کی طرح عیاں ہو جائے گا کہ اس جدوجہد کی وجہ سے دنیا جنت بن گئی تھی ‘ چار دانگ عالم میں امن تھا،خوشیاں تھی اور انسا نیت کی قدر اور عزت تھی .اور تقریباً باون لاکھ مربع میل پر اسلامی نظام کم و بیش ایک ہزار سال تک قائم رہا.اور لوگ اس کے ثمرات سے مصتفیض ہوتے رہے.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: