“سید نام لیتا ہے اسلام کا اس زمانے میں”

تحریر :  اسریٰ غوری

پورے ملک کو ایک فون کال پر یرغمال بنانے والے ، پوری فوج کو کتے کے بچے اور سور کی اولاد کہنے والے ملک کو توڑ دینے کی کھلے عام دھمکی دینےوالے ..
پارلمنٹ ہاوس کے سامنے عورتوں بچوں کو کفن پہنا کر قبریں کھودنے والے ,
سرعام سول نافرمانی کا اعلان کرنے والے حکومت سے کھلے عام مقابلے کرنے کی دھمکیاں دینے والے ۔۔
کسی کے پیٹ میں درد نہیں اٹھتا ۔۔۔۔۔!!
کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی ۔۔۔۔!!
کسی کے وقار کو ٹھیس نہیں پہنچتی ۔۔۔۔۔۔!!
سب تم کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت ۔۔۔۔۔!!
ہاں مگر نہیں برداشت تو سید زادے کے منہ سے نکلے وہ الفاظ نہیں برداشت….
تمہارے منہ سے جھاگ نکلنے لگتے ہیں ۔۔۔۔۔
صرف اس لیے کہ وہ سید زادہ تمہارے عتاب کا نشانہ بنتا ھے کہ وہ ببانگ دہل رب اعلی کا فرمان سناتا ہےکسی سے ڈرتا نہیں کسی سے دبتا نہیں ….
تو سن لو کہ تم کتنا ہی تڑپو کتنا ہی مچلو یہ الفاظ کسی انسان کے نہیں یہ تو کائنات کے اس رب کے ہیں جو لمحوں میں تمہیں اور تم جیسوں کو تنکوں کی مانند اٹھا کر پھینک دیا کرتا ھے …
ڈرو اس وقت سے کہ جب اس کا حکم آجاے اور تم بھی دور پھینک دیے جاو ….!!
مت الجھو ہم دیوانو سے کہ ہم تو سروں کو ہتھیلی پر لیکر چلنے والے لوگ ہیں ..
بھارت ، امریکہ اسرائیل کل بھی ہمارا دشمن تھے آج بھی دشمن ہیں دشمنوں کے لیےہماری پالیسی وہی ہے جو اللہ نے دی ہے کسی کو اگر شک ہے کہ جماعت کی پالیسی کچھ بدل گیی ہے تو وہ کان کھول کر امیر جماعت کے وہ نعرے بھی سن لے اور وہ اعلان بھی کہ
” کشمیر کی آزادی تک … جنگ رہے گی جنگ رہے گی ”

ہم سے الجھوگے تو انجام قیامت ھوگا
ہم نے روندھا گے زمانے کے فرعونوں کا غرور

1 Comment
  1. 25 November, 2014
    شرجیل قریشی

    سید صاحب کے انٹرویو کے بعد یہ بھی واضح ہوگیا بہت سے علماکرام درحقیت یہ بات کرنا کام بھی تھا۔ انہوں نے سید صاحب کے بیان کو درست تو کہا مگر برملا کہنے سے وہ بھی ڈرتے ہیں۔ شائد جہاد کا نام لینا بھی آج کے دور میں مشکل ہے۔ لیکن کفار اور مفافقیت پر سید زادہ خوف اور للکار کی علامت بن ہوا ہے۔ اللہ سید صاحب کا دست شفقت جماعت پر قائم رکھیں۔

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: