“جماعتِ اسلامی کا اجتماعِ عام”

تحریر : پروفیسر مظہر 

تھَر کے مظلوموں ،مجبوروں سے بے نیاز ،لاکھوں مقہور آئی ڈی پیز سے لاتعلق ہوسِ اقتدار میں باہم دست وگریباں رہنماؤں نے بے یقینی ،بَداعتمادی اور افراتفری کی ایسی فضاقائم کردی کہ مایوسیوں کے اندھیرے کچھ اور گہرے ہوگئے ،قحط الرجال کا یہ عالم کہ علم وحکمت کے سارے کواڑ بند اور اور روشنی کی ہلکی سی کرن بھی مفقود ۔یوں محسوس ہوتا تھا کہ ابدی صداقتوں کی شمعیں روشن کرنے اور بھٹکے ہوؤں کی رہنمائی کرکے والے لَدچکے ،ضمیر مُردہ ہوچکے ، رگوں میں دوڑنے والا لہو جم چکااور اب صحنِ چمن میں کبھی موسمِ گُل آئے گا نہ بادِ نسیم کے معطر بھونکوں سے فضائیں عطربار ہونگی ۔اِس مایوس کُن ماحول اور بَددلی کی فضا میں جماعتِ اسلامی کا اجتماع تازہ ہوا کا جھونکا محسوس ہورہا ہے ۔لاکھوں مرد وزَن مینارِ پاکستان میں خیمہ زَن لیکن کوئی شور نہیں ،کوئی دعویٰ نہیں ،ٹریفک رواں دواں ،ماحول سنجیدہ اور رَبِّ ذوالجلال کی باتیں ۔امیرِ محترم سراج الحق کی ہر بات میں دِلی درد ،کسک ،تڑپ اور کچھ کر گزرنے کی اُمنگ لیکن مارو مَرجاؤ ،جلاؤگھیراؤ سے نہ سول نافرمانی سے ،بَس تائیدِربی کی دُعا وپکار ۔یہ پیغام جابجا کہ قادرِمطلق کے ہاں کوئی بڑا نہیں ،کوئی چھوٹا نہیں ،کسی عربی کو عجمی پر فوقیت ،نہ گورے کو کالے پر مگر اعمالِ صالح ۔
آقاﷺ نے فرمایا ’’تُم میرے پاس حسب نسب نہیں ،اعمال لے کر آؤ‘‘۔لیکن ہمارے ہاں تو بات حسب نسب، فلاں ابنِ فلاں اور ’’پدرم سلطان بود ‘‘سے شروع ہوکر اسی پہ ختم ہوجاتی ہے۔صرف جماعت اسلامی ہی ایسی ہے جہاں جماعت کے پانچوں امراء میں سے کسی ایک کا بھی باہمی تعلق حسب نسب یا رشتے داری پر استوار نہیں بلکہ وہی بنیاد کہ کسی عربی کو عجمی پر کوئی فوقیت نہ گورے کو کالے پر مگر اعمالِ صالح ۔امیرِ جماعت قاضی حسین احمد مرحوم ومغفور کہا کرتے تھے کہ وہ عرصۂ دراز تک جماعت اسلامی کے لیے دریاں بچھاتے اور صفیں سیدھی کرتے رہے ۔آج جماعت اسلامی کی امارت اُس شخص کے سپردکہ جسے ایک مزدور کا بیٹا ہونے پر فخرہے ۔مینارِ پاکستان کے اجتماع میں امیرِ محترم سراج الحق نے قوم کے سامنے اپنی زندگی کا ایک ایک پرت کھول کے رکھ دیا ۔2008ء کے اجتماع میں اُن کی داڑھی میں کہیں کہیں سفید بال تھے اور اب 2014ء کے اجتماع میں کہیں کہیں سیاہ ۔قدرے جوان امیرِ جماعت نے جب اپنی زندگی کی کٹھن راہوں کی داستان شروع کی تو لاکھوں سامعین کی آنکھیں پُرنَم ہوتی چلی گئیں اوردُنیا کے پچیس ممالک سے آئے ہوئے وفود اُنہیں حیرت سے تکنے لگے ۔جب اُنہوں نے سکول کی فیس نہ ہونے پر اپنی والدہ کی بے بسی کا ذکر کیا تو سامعین کی آنکھیں اشک بار ۔اُنہوں نے بڑے لطیف انداز میں کہا کہ اُنہیں فُٹ پاتھ پر رات گزارنے اور زمین پر بیٹھ کر کام کرنے میں بڑا لطف آتا ہے ۔یہ دراصل اُن کا اسلامیانِ پاکستان کو پیغام تھا کہ محلوں میں رہنے والے اور مخملی بستروں پہ آرام کرنے والے بھلا کیا جانیں کہ بے کِس وبے بس اورمجبور ومقہور زندگی کی کِن کٹھن راہوں سے گزرتے ہیں ۔اُن کا یہ پیغام تھا کہ قوم بتانِ رنگ و بو کو توڑ کر ایک ملّت میں گُم ہوجائے اور قائدِاعظم کے فرمان کے عین مطابق پاکستان کو اسلام کی تجربہ گاہ میں ڈھال دے ۔وہ چاہتے ہیں کہ اشرافیہ کے دیوِ استبداد کو زیر کرکے پاکستان میں مدینہ منورہ کی طرز کی ایسی مثالی ریاست قائم کی جائے جو حضرت عمرؓ کے فرمان کے عین مطابق ہوکہ ’’امیر المومنین صرف اُس وقت ہی گیہوں کی روٹی کھا سکتا ہے جب اُس کو یقین ہو جائے کہ اُس کی رعایا کو گیہوں کی روٹی میسر ہے ۔
پون صدی قبل اگست 1941ء میں مشرقی پنجاب کے شہرپٹھان کوٹ سے ایک قافلۂ سخت جاں چلا جس میں کُل 75 افراد تھے اور قافلہ سالار وہ جو حضرتِ اقبالؒ کے اِن اشعار کی عملی تصویر
ہر لحظہ ہے مومن کی نئی شان ،نئی آن
گفتار میں ،کردار میں اللہ کی برہان
قہاری و غفاری وقدوسی و جبروت
یہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے مسلمان
یہ تھے سیّد ابو الا اعلیٰ مودودی ؒ جنہیں 1953ء میں سزائے موت کا حکم ہوا ،موت کی کوٹھری میں بند لیکن لوگ حیران کہ رات کے وقت اُن کی کوٹھری خراٹوں سے گونج رہی تھی۔اسی کو’’ نفسِ مطمعنہ ‘‘کہا جاتاہے۔جرأت واستقامت کے پہاڑ مُرشد مودودی ؒ کے دھیمے سُروں میں نکلنے والے الفاظ کی حلیمی دلوں میں اتر جاتی اور تدبر کی طاقت سامعین کو مسخر کرلیتی ۔مجھے فخر ہے کہ میں نے یونیورسٹی کے دَور میں مُرشد کی امامت میں کئی نمازیں بھی پڑھیں اور عصر سے مغرب تک اُن کے لیکچر بھی سنے ۔اپنے پروانوں کے لیے اُن کا ہمیشہ یہی درس ہوتا کہ
گزر جا بَن کے سیلِ تُند خو کوہ و بیاباں سے
گلستاں راہ میں آئے تو جوئے نغمہ خواں ہوجا
ظالموں ،جابروں اور طاغوتی طاقتوں کے سامنے گھُٹنے ٹیکناتو اُن کی سرشت میں شامل ہی نہیں تھا ۔یہ مُرشد مودودی کی کاوشوں ہی کا ثمر ہے کہ دستورِ پاکستان میں قراردادِمقاصد شامل ہوئی ،یہ الگ بات ہے کہ اُس پر عمل درآمد تاحال مفقود ہے ۔جب قافلہ سالار ایسا ہو اور منزل کا تعین بھی تو پھر ہارجیت بے معنی ہوکر رہ جاتی ہے۔جماعت اسلامی کا قافلۂ حریت بھی یہی سوچتے ہوئے جانبِ منزل گامزن ہے کہ
گر بازی عشق کی بازی ہے جو چاہو لگا دو ڈر کیسا
گر جیت گئے تو کیا کہنا،ہارے بھی تو بازی مات نہیں
سیّد ابو الاعلیٰ مودودی نے اپنی زندگی میں ہی جماعت کی قیادت میاں طفیل محمد مرحوم کو سونپ دی ۔میاں طفیل محمد کے بعد قاضی حسین احمد امیرِ جماعت بنے ،پھر سیّد منّور حسن اور اب محترم سراج الحق ۔جماعت اسلامی کے طرزِ سیاست پر تو اختلاف کی گنجائش موجود ہے لیکن اُن کے بدترین دشمنوں نے بھی آج تک نہ تو اُن کے خلوصِ نیت پر شک کیا ہے اور نہ ہی ذاتی کردار پر اُنگلی اُٹھائی ہے ۔عالمی سازشوں میں گھرے پاکستان کے لیے جماعت اسلامی کا وجود کسی نعمت سے کم نہیں کیونکہ یہی تو وہ جماعت ہے جو مایوسیوں میں گھری قوم کو اُمید کی روشنی دکھاتی اور یہ یقین پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہے کہ انشاء اللہ پاکستانی قوم بھی ترقی یافتہ اور باوقار بنے گی کیونکہ دینِ مبیں کے مطابق مایوسی کفر ہے ۔بَس ضرورت ہے تو صرف اتنی کہ اللہ کے بندوں پر اللہ ہی کا دیا ہوا نظام نافذ کر دیاجائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: