” لمحے جو امر ہو گئے “

(تحریر  :  عیشتہ الراضیہ (گجرات

جماعت اسلامی کا عظیم الشان اجتماع
“23،22،21 نومبر کو مینارِ پاکستان اجتماع عام ہے”
یہ خبر پڑھتے ہی ایک خوشی کی لہر دل میں اٹھی پتا نہیں کیوں ایسا لگ رہا تھا کہ شاید اس اجتماع کے بعد ہمارے اس نظام میں تبدیلی آ جائے گی۔جونہی خبر پڑھی اور دن گِنے تو تقریباً آدھا مہینہ تھا۔لیکن یہ آدھا مہینہ ایک صدی کے برابر لگ رہا تھا۔دل چاہ رہا تھا کہ یہ دن پر لگا کر اڑ جائیں اور ہم لاہور کی فضاؤں میں اپنے قائد کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے پہنچ جائیں۔ہر دن یہی دعا ہوتی کہ “اے اللہ ان دنوں کوخیر وعافیت سے گزار اور اس اجتماع عام کو اس ظالمانہ نظام کے مقابلے میں امید کی ایک کرن بنا”
ایک، دو تین۔۔۔۔گنتی شروع ہوئی اور آخر کار وہ دن آیا جب بہن نے تیاری کا آرڈر دیا اللہ اللہ کر کے تیاری مکمل ہوئی اور سوتے ہوئے اپنی اصل تیاری کے بارے میں خیال آیا۔وہاں کے لیے ہم نے کیا تیاری کی ہوئی،کیا وہاں جا کر ہمیں کسی چیز کی ضرورت تو نہیں پڑھے گی؟؟کسی نیکی کی ضرورت تو محسوس نہیں ہو گی؟؟؟کسی کے آگے ہاتھ تو نہیں پھیلانا پڑے گا؟؟پھراحساس ہوا کہ تین دنوں کے لیے اتنی تیاری کر رہے اور وق ابدی زندگی اس کے لیے تو ہماری تیاری بالکل زیرو ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
خیر وہ دن آیا جب اجتماع کے لیے روانہ ہونا تھا۔دل ایک عجیب جذبے سے سرشار تھا۔راستے میں اپنے اللہ سے عہدوپیمان باندھے ۔۔۔۔وہاں پہنچ کر پہلے تو پنڈال ڈھونڈنے میں جو مشکل پیش آئی۔اللہ معاف کرے لیکن صبر وشکر کر کے وہ وقت گزارا مگر کیا کریں انسان ہیں نا!! بھول جاتےکہ کس مقصد کے لیے یہاں جمع ہوئے۔صبر کرنا بھول گئے تھوڑی سی اکتاہٹ محسوس ہونے لگی کیونکہ کچھ سفر کی تھکاوٹ،کچھ وہاں پہنچ کر بار بار سامان کو ادھر اُدھر اٹھانے کی مشقت۔۔خیر یہ مرحلہ بھی گزر گیا!!!
پروگرامات شروع ہوئے۔بہت مزہ آیاکیونکہ سارے پروگرامات اگلی صفوں میں بیٹھ کے سنے اور جب اجتماع گاہ سے نکل کر پنڈال میں جانے لگتے تو ایک نیا جذبہ، ولولہ اور جوش دل میں ابھرتا اور کچھ کر گزرنے کا جذبہ بیدار ہوتا۔۔۔۔ اور یہ تین دن بھی گویا پلک جھپکنے میں گزر گئے۔
سارے انتظامات امیرِ قائد نے بہت اچھے کئے تھے لیکن حاضری زیادہ ہونے کی وجہ سے سب درہم برہم ہو گئے بہر حال اتنے بڑے پیمانے پر انتظامات کرنا بھی مشکل کام ہے۔۔۔۔۔
اجتماع سے واپسی پر ایک عجیب سی اداسی چھا گئی۔اپنی تحریکی ساتھیوں ،دوسرے علاقوں سے آئی ہوئی جماعتی بہنوں سےدوری سوہانِ روح لگ رہی تھی لیکن جدائی بہرحال لازمی تھی سو نئے عزم اور ولولے کے ساتھ واپسی کے سفر کے لیے رواں دواں ہوئے اور اس طرح عظیم اجتماع کا اختتام ہوا اور قائد محترم کے بتائے ہوئے اصولوں کو اپنے پلو سے باندھ لیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: