“سانحہ 16 دسمبر 1971 سقوط ڈھاکہ”

تحریر  :  اسریٰ غوری

میدان کے عین درمیان میں لکڑی کی سادہ سی میز رکھی ھے جسکے دونوں طرف بھارتی فوج اور سپاہی الگ الگ قطار میں کھڑے ھیں ، میز کے گرد پہلے جنرل اروڑا بیٹھتے ھیں ا

ان کے برابر جنرل نیازی بیٹھ جاتے ھیں ۔ ۔

یہ ان کی زندگی کا سب سے زیادہ ذلّت آمیز لمحہ ھے ، مسّودہ میز پر رکھا ھے ، جنرل نیازی کا ہاتھ آگے بڑھتا ھے اور ان کا قلم مسودے پر اپنے دستخط ثبت کر دیتا ھے ۔۔۔ پاکستان کا پرچم سر زمین ڈھاکہ میں سرنگوں ھو گیا ۔۔ جنرل نیازی اپنا ریوالور کھولتے ھیں اور گولیوں سے خالی کر کے جنرل اروڑا کے ہاتھ میں تھما دیتے ھیں ۔۔ جنرل نیازی کے تمغے اور رینک سر عام اتارے جاتے ھیں ۔ ۔ ۔ ۔

ھجوم کی طرف سے گالیوں کی بوچھاڑ شروع ھوتی ھے ۔۔ جنرل نیازی اپنی جیپ کی طرف آتے ھیں جسکا بھارتی فوجیوں نے محاصرہ کر رکھا ھے ۔۔۔

” قصاب ، بھیڑیے اور قاتل ” کا شور اُٹھتا ھے ، جنرل نیازی اپنی گاڑی میں بیٹھنے والے ھیں ، ایک آدمی محاصرہ توڑ کر آگے بڑھتا ھے ، اور اُن کے سر پر جوتا کھینچ کر مارتا ھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ھائے ! یہ رُسوائی ، یہ بے بسی اور یہ بےچارگی ، یہ ذلّت اور اور یہ ہزیمت ، ھماری تاریخ نے پہلے کبھی نہ دیکھی تھی ۔۔”

( سقوط بغداد سے سقوط ڈھاکہ تک )


لکھنے کو بڑا حوصلہ درکار تھا کوئی افسانہ تو نہیں لکھنے جارہے تھے کہ بس قلم اٹھایا اور چلا دیا ۔۔۔۔۔
یہ تو اپنی ہی آپ بیتی تھی اپنے ہی لہو کی داستاں تھی نام نہاد اپنوں ہی کے ہاتھوں ٹکڑے ٹکڑے ہوجانے کی دردناک روداد تھی سرا پکڑنے کی تلاش میں بہت دیر تاریخ کے جھرونکوں میں جھانکتی رہی سامنے ہی صدیق سالک کی کربناک سچائیاں لیے ایک ایک حقیقت میرا تلاش کا جواب دیتی ” میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا ” ہاں ہم نے بھی اس میں حقیقتا ڈھاکہ کو ڈوبتے دیکھا
لمحہ لمحہ ڈوبتے ڈھاکہ میں کئی بار آنکھیں دھندلائیں کئی بار الفاظ آپس میں گڈ مڈ ہوئے ۔۔۔۔کئی بار دل اپنوں کے ہاتھوں اپنوں کے اس خون ناحق پر اس زور سے نوحہ کناں ہوا ۔۔۔۔!!
مگر وہ نوحے کون سنتا ۔۔؟؟
غلطیوں ، زیادتیوں ، اور ناانصافیوں کے شور میں ایسے نوحے دب جایا کرتے ہیں ۔۔۔
وہ خواب وہ نظریہ یوں دو لخت کیوں ہوا ؟؟؟
اس سوال میں خود بہت کچھ ہے مگر سیکھنے اور سمجھنے والوں کیلیے ۔۔۔
تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ سقوط ڈھاکہ پرصرف آنسو بہانے کی بجائے ہم تلخ حقائق کا جائرہ لیں جن کے سبب ہمیں مشرقی پاکستان میں ذلت و رسوائی کا سامنا ہوا۔ خرابیاں تو پاکستان بننے کے بعد ہی واضح ہو گئی تھی جن کا احاطہ کرنا تفصیل طلب ہے اس لئے صرف1971ءسے مختصر تجزیہ ضروری ہے۔ 1970 ءمیں جنرل یحیی خان نے انتخابات کرائے جن کے نتیجے میں ملک سیاسی اعتبار سے تقسیم ہو گیا۔ اس تقسیم کو سیاسی حکمت عملی سے دور کیا جا سکتا تھا لیکن دانستہ طور پر طاقت کے زور پر اسے حل کرنے کی کوشش کی گئی۔ ذرا غور کیجئے کہ جنرل یحییٰ خان جنوری 1971 ءمیں ڈھاکہ جاتے ہیں اور وہاں جھوٹا اعلان کرتے ہیں کہ قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس 9 مارچ کو ڈھاکہ میں ہوگا۔ اسلام آباد واپس آتے ہی اپنا وعدہ بدل دیتے ہیں۔ قومی اسمبلی کے اجلاس کو ملتوی کر دیا اور نئی شرائط عائد کر دیں۔
ہماری کوتاہیاں دشمن کی راہ ہموار کرتی گئیں اور بالاخر اس نے ہمیں یوں زیر کیا کہ ہم اٹھ بھی نہیں پائے مگر افسوس صد افسوس کہ ہمیں اسکا احساس تک نہیں تھا کہ ہم کیا کھو رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔بلکہ ہماری مغربی پاکستان کی اعلی سیاسی قیادت کی جانب سے ”خدا کا شکر ہے کہ پاکستان بچ گیا۔“
تو کبھی ” ادھر ہم ادھر تم ” کی بازگشت سنائی دی ۔

16دسمبر کو پاکستان میں سقوط ڈھاکہ کے المیہ پر ملک بھر میں بے شمار جگہوں پر تقریبات ہوتی ہیں۔ اس المیہ کے اسباب کا ذکرہوتا ہے۔ مقالے پڑھے جاتے ہیں اور ملک کے دانشور اپنے خیالات کا بڑے پر زور الفاظ میں اظہار کرتے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستانی قوم کو اس سانحے پر بڑا دکھ ہے اور قوم اس سے سبق سیکھنا چاہتی ہے اور ملک کی تقسیم سے نظریہ پاکستان کو جو نقصان پہنچا ہے ‘اس پر پشیمان ہے اور اس نظریے کی مضبوط حصار بندی کی ضرورت سے آگاہ ہے۔در اصل یہ تمام باتیں خود فریبی ہے ۔

یہ حقیقت بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے راہنما مولانا عبدالقادر ملا کو پھانسی دینے سے عیاں ہو گئی ہے جنہیں اس جرم میں پھانسی دے دی گئی کہ انہوں نے 1971 ءمیں مشرقی پاکستان میں جب ہماری فوج وہاں حکومت کی رٹ قائم کرنے کیلئے جنگ لڑ رہی تھی تو آرمی کے ایک میجر نے جماعت اسلامی کے نوجوانوں پر مشتمل ایک تنظیم البدر کے نام سے بنائی جس نے پاک فوج کے شانہ بشانہ پاکستان کی جنگ لڑتے ہوئے بڑی قربانیاں دیں۔

مولانا عبدالقادر ملا پر الزام ہے کہ البدر کا حصہ ہوتے ہوئے‘ جن کی عمر اس وقت 21 سال تھی‘ انہوں نے بنگالیوں پر ظلم کیا‘ انہیں قتل کیا اور خواتین کی بے حرمتی کی۔ ان الزامات کی بنیاد پر انہیں اور دوسرے جماعت اسلامی کے قائدین کو اس عدالت کے سامنے پیش کیا گیا جسے جنگی جرائم کے خلاف انٹرنیشنل ٹرائل کورٹ کا نام دیا گیا
اس ظالمانہ فیصلے کے خلاف حکومت پاکستان نےاحتجاج کا ایک لفظ بھی نہ بولا‘ بلکہ یہ کہہ کر خاموشی اختیار کر لی کہ ”یہ بنگلہ دیش کا اندرونی مسئلہ ہے۔“
یہ بنگلہ دیش کا اندرونی معاملہ نہیں ہے بلکہ نظریہ پاکستان کے تقدس کا معاملہ ہے۔ پاکستان کی سلامتی کا معاملہ ہے۔ اسلئے کہ ہمارا مشرقی پاکستان کا علاقہ کہ جہاں مسلم لیگ ایک جماعت کی حیثیت سے معرض وجود میں آئی تھی اور جہاں کے مسلمانوں نے یک زبان ہو کر پاکستان کے حق میں ووٹ دیا‘ آج ہم ان سے اس قدر بیگانہ ہو چکے ہیں کہ ہم اپنے ہم وطنوں کی ان قربانیوں کو بھی بھلا بیٹھے ہیں کہ جنہوں نے ہماری فوج کے ساتھ مل کر ملک کی بقا کی جنگ لڑی‘ قربانیاں دیں ‘ جس طرح ہماری فوجی جوان اور آفیسر اس جنگ میں شہید ہوئے اور ان میں اکثر وہاں گمنام قبروں میں دفن ہیں۔
ہماری حکومت نے ان کے جسد خاکی کو پاکستان لانے کی ایک موہوم سی کوشش بھی نہیں کی جبکہ ویتنام کی جنگ ختم ہونے کے نصف صدی گزرنے کے بعد بھی امریکہ اپنے گمنام سپاہیوں کو تلاش کرنے کا حق رکھتا ہے۔ اس لئے کہ اس قوم کو حب الوطنی کے معنی معلوم ہیں۔


تجزیہ نگار شیخ افتخار عادل ”عبدالقادر ملا“ شہید کی موت پر یوں رقمطراز ہیں: ”جماعت اسلامی کے بزرگ رہنماﺅں کو بھارتی اشارے پر اسلام اور پاکستان سے محبت کی سزا دی جا رہی ہے۔ بنگلہ دیشی عوام حسینہ واجد حکومت کی اسلام اور پاکستان دشمن پالیسیوں کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔عبدالقادر کا قصور کیا تھا‘ پاکستان سے محبت‘ وہ پاکستاں کی تقسیم کامخالف تھا۔ اس محب وطن پاکستانی کا خیال تھا کہ بھارت سے ساز باز کر کے پاکستان کو توڑنے کی سازش کرنے والے شیخ مجیب الرحمن کی اس سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے ۔ اس باہمت نوجوان نے پاکستان‘ نظریہ پاکستان اوراسلام کی حفاظت کا بیڑا اٹھایا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ پاکستان سے محبت کی خاطر اپنی جان قربان کرنے والا 65 سالہ بوڑھا شخص آج پاکستانیوں کی نظر میں اجنبی ہے‘ خود پاکستانی میڈیا اسے جنگی جرائم کا مرتکب سمجھ رہا ہے۔ وہ شخص جو دین و وطن کی خاطر پھانسی کے پھندے پر جھول گیا اسے مجرم قرار دیا جا رہا ہے۔“

اپنے دور اقتدار میں جنرل پرویز مشرف بنگلہ دیش گئے اور یادگار پر پھول چڑھائے اور ”غلطیوں کی معافی مانگی۔“ کون سی غلطیاں؟ کیا وطن کی بقا کی جنگ لڑنا غلطی ہے۔ ہمارے فوجی شمال مغربی سرحدوں پر جو جنگ لڑ رہے ہیں اور جانوں کی قربانیاں دے رہے ہیں کیا یہ بھی غلطی ہے؟

یاد رہے جو قومیں اپنے ماضی سے سبق نہین حاصل کرتیں اور محسنوں کو فراموش کردیتی ہیں وقت انہیں پھر انہیں یوں فراموش کردیا کرتا ہے کہ وہ تاریخ اوراق مین بھی جگہ نہیں پاتے ۔۔


نوٹ : اس کالم میں کچھ معلومات جنرل اسلم بیگ کے ایک کالم سے لی گئیں ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: