“ہر سو نوحے ہی نوحے تھے”

تحریر  : اسریٰ غوری

یہ دسمبر اتنا بے درد کیوں ہے ؟؟
ابھی تو ہم 43 سال سے اپنے اس زخم کو ہی نہیں بھلا پائے تھے جب ہمارا ایک بازو کاٹ دیا گیا تھا انہیں دردناک یادوں کو یاد کرتے سولہ دسمبر کی صبح ایک اور قیامت ساتھ لائی کہ اس بار تو دشمن نے چوٹ ہمارے سینے پر لگائی ہے ۔۔۔۔۔۔!!!
کہاں سے لائیں وہ قلم جو سیاہی کی جگہ لہو سےلکھتا ہو ۔۔ وہ صفحات کہاں سے لائیں جو یہ کرب سہہ پائیں
کہ اور سب سے بڑھ کر وہ ہمت کہاں سے لائیں کہ اس درد کو ( جو دل و دماغ کو بند کیے دے رہا) زباں دے پائے ایک نہیں وہ گلشن کے مہکتے پھول جنہیں ابھی باغ کو سجانے مہکانے میں اپنا حصہ ڈالنا تھا وہ ننھی کلیاں جو ابھی کھلنے کو تھیں ۔۔۔۔۔۔
آہ ایک ہی آندھی میں سب کچھ ختم ہوگیا ۔۔۔۔
بچے تو سب کے سانجھے ہوتے ہیں نا ۔۔۔
دکھ بھی تو سب ماوں کے سانجھے ہی ہیں
میں بھی ایک ماں ہو سب منظر جیسے آگے پیچھے دوڑ رہے ہیں
ماوں کے جگر گوشے جنہوں نے صحیح سے ناشتہ بھی نہیں کیا ہوگا ۔۔ ماں دروازے تک دودھ کا گلاس تھامے دوڑی ہوگی اچھا یہ دودھ تو پی لو بیٹا ۔۔۔
اور بیٹا ہاتھ میں جرسی تھامے وین کے ہارن پر باہر یہ کہتا بھاگا ہوگا امی آکر پیتا ہوں امی لیٹ ہوجاونگا ۔۔۔۔
آہ ۔۔ کسی خبر تھی جانے والے اب نہیں لوٹیں گے ۔۔۔

اجڑے راستے عجیب منظر ویران گلیاں بازار بند ہے
کہاں کی خوشیاں کہاں کی محفل شہر تو میرا لہو لہو ہے
وہ روتی مائیں بے ہوش بہنیں لپٹ کےلاشوں سےکہہ رہے ہیں
اے پیارے بیٹے گئے تھےگھرسے پہن کہ سفید کرتا سرخ کیوں ہے

کسی نے لکھا میری نواسی کا پہلا دن اسکول کا تھا اپنے بابا کی انگلی تھامے ہوئے تھی جب گولی لگی تو دونوں گر گئے بچی سہہ نہیں پائی اور پہلا دن آخری دن بن گیا ۔۔۔۔۔بابا اب تک زندگی موت کی کشمکش میں ہیں۔۔
آہ ۔۔!! کتنے برس کی ہوگی وہ ننھی کلی ڈھائی تین برس کی ؟؟؟؟؟
کتنے چراغ بجھ گئے کتنے کلیجے جھلنی کر دیے ۔۔۔۔!!

مگر ہم کیسی قوم ہیں سمجھ نہیں آتی ایسی قیامت تو دشمنوں کو بھی اک بار دہلا دے مگر ہم اب ایک دوسرے کو الزام تراشیاں دینے میں لگے ہوئے ہیں ۔۔۔
میڈیا ہمیشہ کی طرح اپنا وہی کردار ادا کر رہا ہے کہ اسکی تو دوکان چمکانے کے دن آگئے اب بھی قوم کے زہنوں و منتشر کرنا اور اپنے حقیقی دشمنوں کو پہچاننے کے بجائے ہم خود ہین ایک دوسرے کو دشمن ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں ۔۔۔کوئی تو پوچھنے والا ہو کہ جو بلیک واٹر کے ہزاروں کارندے بغیر ویزوں کے پاکستان آئے انہیں کون لایا اور ریمنڈ ڈویس جیسے قاتلوں جاسوسوں اور آئے دن امریکی مسلح ایجنٹوں کو باعزت رہا کرنے کا کون زمہ دار ہے کون ہے جو ہماری جڑوں میں بیٹھ کر ہمارے ہی گھر کو جلا رہے ہیں ۔۔؟؟
وہ کون ہیں جو انکا آلہ کار بنے ہوئے ہیں کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ ہم وہی پرانی گھسی پٹی باتوں کے بجائے اپنی غلطیوں سے سیکھیں ؟؟
اور کتنا خراج دینگے ہم کتنا ؟َ؟؟
خدارا اس ملک کو عراق اور شام ہونے سے بچانا ہے تو اپنے دشمن کو پہچاننا ہوگا ۔۔ ورنہ وہ دن دور نہیں جب کل کا قیامت خیز منظر بہت سے اور بھیانک منظروں کے سامنے بہت چھوٹا لگنے لگے( اللہ نہ کرے )

یہ کیسی صبح تھی میرے دیس کی ؟؟
آنکھیں کھولے لب سیے ۔۔۔
ابھی تو ہم ۔۔۔
پچھلےنوحہ رونے کو تھے
جو زخم لگا تھا برسوں پہلے
ہاتھوں میں تھامے قلم
اس نوحہ پر کچھ لکھنے کو تھے
کیسی یہ ہوا چلی ؟؟
لہو کی برسات ہوئی
نہائے قوم کے معمار
ابھی تو بننا تھا
ان کو کڑیل جوان
ننھی کلیاں بھی ہر جانب
اپنے ہی لہو میں تھیں ڈوبی
ماوں کی چیخیں تھیں ہر سو ۔۔
میرے بچے اٹھ جا تو ۔۔۔
دیکھ تیرے لیے آج پکایا کیا تھا ۔۔۔
کچھ تو کھا لے میرے لعل
صبح بھی یونہی خالی پیٹ تو بھاگا تھا
وین نکل نہ جائے
ہاتھ میں جرسی تھامے دوڑا تھا

اٹھ جا میری شہزادی
دیکھ بابا تجھے لینے آیے
وہ نوحہ تو بھول گئے ہم اسری
کہ ہر جا یہاں ۔۔۔۔۔۔۔
بہتے اشک تھے ساکت آنکھیں
خاموش لب مگر ۔۔۔۔۔۔
ہر سو نوحے ہی نوحے تھے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: