“اپنے مرکز سے اگر دور نکل جاو گے”

تحریر  :  نوشابہ سکندر

أج ہم بہت ترقی یافتہ دور میں جی رہے ہیں جہاں اتنی پرأسائش زندگی ہے کہ کوئی چیز انسان کی دسترس سے باہر نہیں ہے اور احباب کی سوسائٹی ایسی جہاں ہر شخص اپنے أپکو پڑھا لکھا مہزب لبرل کہلوانا پسند کرتا ہے بظاہر انسان بہت مہزب دکھائی دیتے ہیں مگر انسانوں کی انسانیت کی حالت دیکھ کر عربوں کی جہالت کا دور یاد أ جاتا ہے جب وہ جہالت کی تاریکیوں میں ڈوبے ہوئے تھے جب انسانوں اور جانوروں کے رہن سہن عادات و اظوار میں کوئی خاص فرق نہیں تھا جب وہ مردار کھاتے تھے ان میں حرام و حلال کی تمیز نہیں تھی جب جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا دستور تھا جب عورت کی کوئی عزت نہیں تھی جب اسے پیدا ہوتے ہی زندہ درگور کر دیا جاتا تھا أج کے مہزب معاشرے میں اس کو زندہ تو چھوڑ دیا جاتا ہے مگر اس کی عزت اسکے حقوق کا استحصال اتنا کیا جاتا ہے کہ وہ روز جیتی اور روز مرتی ہے أج کے اور اس دور میں پائے جانے والے معاشرے میں زیادہ تفریق نہیں کی جا سکتی بہت حد تک مماثلت پائی جاتی ہے فرق صرف اتنا ہے کہ وہ بدو تھے اور ہمارا معاشرہ اپنے أپکو جدید دور کے لوگ کہلوانا پسند کرتا ہے تاریخ گواہ ہے جب انسانیت اپنے مقام سے گر جکی تھی دنیا جہالت کی تاریکیوں میں غرق ہو رہی تھی تو اللہ نے اپنے پیارے نبیﷺ کو دنیا میں بھیج کر دنیا کو اسلام کی روشنی سے منور کر دیا پھر اسی معاشرے کے بدوؤں نے اپنے سینوں کو اسلام کی روشنی سے منور کیا
اور یوں دنیا نے دیکھا کہ دیے سے دیا جلتا گیا اور سارا عالم روشن ہو گیا مگر اس دور کے مسلمان نے اللہ کو اپنا حقیقی رب نبیﷺکو اپنا رہبر اور قرأن کو اپنا دستور مانا اور پھر اللہ نے ان کو وہ عزت بخشی کہ أج بھی جب کوئی مسلمان اپنے اسلاف کے کارناموں کو پڑھتا ہے تو اس کا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے ہماری تاریخ ہمارے اسلاف کی جانبازیوں،جواں مردیوں،لازوال قربانیوں ،لائق ستائش و قابلِِ فخر علم و فن کے کارناموں سے بھری پڑی ہے
تاریخ اس بات کی بھی گواہ ہے کہ جب تک مسلمانوں نے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھا اللہ نے انھیں عزت بخشی انھوں نے لوگوں کے دلوں پر حکومتیں کیں اور علام و فنون کے ماہر رہے مگر بد قسمتی سے جب دین سے منہ موڑنا شروع کیا اپنے معاملات میں رحمن کی بجائے شیطان کے نقشِ قدم پر چلے تو دنیا مین ذلیل و رسوا ہو کر رہ گئے اور تنکا تنکا ہو کر بکھر گئے
گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
ثریا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا
ہمارے اسلاف نے یہ ملک اللہ سے اس عہد پہ لیا تھا کہ یہاں دین کا نفاذ کریں گےلاکھوں قربانیوں کے بعد اس ملک کو حاصل کیا گیا پھر بدقسمتی سے اس ملک کے حقیقی خیرخواہ زیادہ دیر زندہ نہ رہے اور بعد میں أنے والوں نے اسے أڑے ہاتھوں لیا اور اللہ کی ساتھ کیے عہد کو بھلا دیا اور رفتہ رفتہ لوگ اپنے اپنے مفادات کو ترجیح دینے لگے اور چھوٹے چھوٹے مفادات اور چند ٹکوں کی خاطر اپنے ووٹ کو،اپنی قیمتی امانت کو چوروں ،لٹیروں اور ملک دشمن عناصرکو اپنے ملک میں استحکام بخشنے لگے اپنے ہاتھوں اپنی بربادی کا سامان کرنے لگے
اور بے ضمیر حکمرانوں نے چند ٹکوں کی خاطر اس ملک کو بے حد نقصان پہنچایا اور اس ملک کو دولخت کر دیا جو لوگ اللہ کی حدوں کو پامال کرنے والے ہوں ان سے اور امید بھی کیا کی جا سکتی ہے مگر اس تباہی میں ہم سب برابر کے شریک ہیں اللہ کا وعدہ ہے جیسی قوم ویسا حکمران ۔۔۔۔۔۔ أج ہم میں سے ہر شخص روٹی ،بجلی،پانی اور مہنگائی انصاف نہ ملنے کا رونا روتا ہے کیسے انصاف ملے؟؟؟؟؟ْجب سب کچھ ہمارا اپنا خریدا ہوا ہے اللہ کے باغیوں کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں ہوتی ساوئے اس ہستی کے سامنے اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے معافی مانگنے اور اس کے راستے کو اپنانے اور اپنا بھولا ہوا وعدہ وفا کرتے کے ہمارے پاس اور کوئی أپشن نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔خدارا کوئی انقلاب نہیں لا سکتا یہ سب لا یعنی باتیں ہین ایک ہی صورت ہے جب ہر انسان اپنا محاسبہ کرے اپنے اندر کی دنیا کو بدلے اور اپنے أپ کو ساری غلامیوں سے نکال کر اللہ کی غلامی میں نہیں دے دیتا نہ کوئی انقلاب لا سکتا ہے نہ ہی کوئی ہمیں رسوائیوں سے بچا سکتا ہے
اللہ سے دعاگو ہوں جس طرح اللہ نے دور جہالیت کے بدوؤں کے سینے اسلام کے نور سے منور کیے تھے ویسے ہماری قوم کے سینوں کو اسلام کےنور سے منور کر دے اور ہمیں پاکستان کو مدینہ منورہ جیسی حقیقی اسلامی فلاحی ریاست بنانے کی توفیق دے
أمین

خدا کرے میری ارض پاک پر اترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشہء زوال نہ ہو
یہاں جو پھول کھلے وہ کِھلا رہے برسوں
یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: