“پھولوں کا نوحہ”

تحریر  : قدسیہ بتول

میں نوحہ لکھنے بیٹھی ہوں. ان پھولوں کا جو ابھی دنیا دیکھنے کے خواب بن رہے تھے.. ان کلیوں کا جن کو ابھی لھلنا تھا اور دنیا کو اپنی خوشبو سے معطر کرنا تھا..
میں سوچتی رہی کل سے کہ یہ میرا قلم چلنے سے انکار کیوں کیے ہوئے ہے. میں سمجھی کہ اس کو بھی وہ معصوم لہو کا دکھ چکا ہے شاید جس نے کل سے قوم کو ایک کرب کی کیفیت میں دوچار کر رکھا ہے.. میں تو اس سوچ میں تھی کہ وہ بھی سب مائیں ہیں جن کے جوان بیٹوں کے لاشے جب انھوں نے دیکھے ہونگے تو کلیجہ پھٹنے کو ہو گا. وہ اپنے رب سے کس کی فریاد کریں. انھیں تو معلقم ہی نہیں کہ اس سی بالی سی عمریا میں ان کے بچوں نے آخر ایسا کون سا ظلم کیا جس کی پاداش میں ان کی خواب دیکھنے والی آنکھیں نوچ لی گئیں….اور انھیں چن چن کے یوں مارا کہ ہلاکو خان بھی سوچتا ہو گا کہ اے مالک میں تو مسلمان نہیں تھا لیکن یہ بھی کیا تیرے ہی نام نہاد مسلمان بندے ہیں. جنہوں نے تیرے ہی کلمہ گو بچے جنت کے مسافر بنا دیے.
یہ نوحہ ہے ان ماؤں کا جن لی گودیں اجڑگئیں. وہ پشاور ہو یا وزیرستان… ماں تو ماں ہوتی ہے. اس کا کوئی مذہب نہیں ہوتا.. اس کا کوئی فرقہ نہیں ہوتا… اس کا کوئی گروپ نہیں ہوتا… اس کا دل ہوتا ہے..اور اس دل میں صرف محبت ہوتی ہے.. جو اس کو سب کے بچوں کی موت پہ رلاتی ہے…جو اس کو سب کے غم کو اپنا غم سجھاتی ہے… ماں نہیں جانتی کہ وہ دنیا کے کس کونے سے تعق رکھتی ہے… وہ یہ ضرور جانتی ہے کہ اس کا بچہ معصوم ہے…بھولا ہے…اس کی محبت کا طالب ہے… وہ صبح اٹھ کے اسے سکول بھیجتی ہے کہ واپس آئے گا تو پسند کا کھانا بنا دوں گی…وہ اس کے مستقبل کے خواب بُنتی ہے…
لیکن وہ کیسی خوش نصیب ماں ہے جسے معلوم ہی نہیں کہ اس کا بچہ آج سکول جا رہا تھا تو اب واپس نہیں آئے گا بلکہ جنت کا مسافر بن جائے گا. جنت کے باغوں کا ایک پھول بن جائے گا…
سنو اے درندو.. سن لو کہ یہ معصوم ےمہارے جہنم کی گواہی بن جائیں گے.. یہ دنیا روز آخرت نہیں کہ جس کو چاہا مار دیا اور پھر جشن مناؤ..یہ دنیا ختم ہونی ہے..ایک روز آئے گا جو روزِجزا ہو گا..اور پھر یہ معصوم بچے تمہارا گریبان پکڑیں گے.. پھر بچانے والی ذات شاید نہ بچا پائے….. وہ خواب جو تم نے ان معصوموں کی آنکھوں سے چھین لیے وہ ابھی بھے نہیں ہیں..وہ مزید زیادہ ہو گئے ہیں.
خواب مرتے نہیں خواب دل ہیں مرا
میں جو مر جاؤں بھی
خواب جل جائیں گے
خواب سے خواب کا سلسلہ پھر یونہی
چلتا جائے گا
مجھے ابھی نوحہ لکھنا باقی ہے.. میں نے اپنے بچوں کی اور نگاہ دوڑائی تو خیال آیا جوبچے کل ان درندوں کے ھاتھ لگے.. یہ میرے بچے بھی ہو سکتے تھے. پھول تو پھول ہوتا ہا اور اس پھول کو کاٹنے والا ہاتھ یہ نہیں جانتا کہ میں کس کے چمن کا پھول توڑ رہا ہوں.. بس اس ظالم ہاتھ کو پھول توڑنے کی فکر ہوتی ہے… مالی لاکھ دہائیاں دے لیکن کاٹنے والا ہاتھ بدمست بھی ہوتا ہے..
انھی طاقت کے نشے میں بد مست سفاک قاتلوں کے لیے ایک پیغام…
کہ آج تم کھیلو اور کُھل کے کھیل لو. لیکن کل کا دن کسوٹی کا دن ہو گا. اوف تمہارے پاس واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہو گا. پھر تم لاکھ اچھلو.گناہ معاف نہیں ہو گا.

ناحق جان لینا وہ بھی معصوم ان پھول بچوں کی…کمزور لقگ ہمیشہ اپنے سے کمزور ہہ ہاتھ اٹھاتے ہیں…اس لیے تم یہی کر سکتے تھے..یہی کیا،…….. لیکن اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے یہ یاد رکھو..
نوحہ تو وہیں رہ گیا… شاید ابھی قلم لہو میں بھیگا ہوا ہے اس لیے اس کو ہمت نہیں کہ ان معصوم کلیوں کے لہو کی قیمت چکا سکے…
جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ جان سلامت رہتی ہے

1 Comment
  1. 18 December, 2014
    Adil

    درندو بعض آجاؤ قتال اک لعنت ہے 
    بربریت ، سفاکیت کی مثال اک لعنت ہے

    ننھے پھول جو حسرت لئے مرجھاگئے
    معصوم کے خلاف جدال اک لعنت ہے

    دل اداس ، جاں بیتاب ہے میری
    ظالم چہروں پر ملال اک لعنت ہے

    میرے گلشن کے در و دیوار لہو لہو
    تمھاے سروں پر یہ وبال اک لعنت ہے

    کیا لکھوں کیا کہوں لَوحِ دِل خاموش
    اب دکھاوے کی ہڑتال اک لعنت ہے

    گھبراہٹ ہے طاری کُوچَہ بَکُوچَہ
    اولاد نہ سلامت تو مال اک لعنت ہے

    نہتے بچوں کا جنون تعلیم ہی تو تھا
    وطن پر یہ بدنما خال اک لعنت ہے

    حسرت زدہ ماؤں کے دِل تَڑَپ گئے
    شیطانوں کی مکروہ چال اک لعنت ہے

    افسوس اَلَم ناک سانِحَہ اِرْتِحال پر
    ملائیت کا ماضی ، حال اک لعنت ہے
    (ابن ریاض)

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: