“تھر پکار رہا ہے”

تحریر : جویریہ سعید

کئی برس گزرے، کراچی میں تبرک کے طور پر ملنے والے چند یخ بستہ دنوں کی ایک رات کا تذکرہ ہے. ہماری والدہ صاحبہ کو الخدمت اور پیما کے لئے کام کرنے والے ایک بے حد پر جوش ڈاکٹر صاحب کا فون آیا. کل صوبہ سرحد کے ایک مہاجر کیمپ کے لئے امدادی ترک روانہ ہو رہا ہے. کچھ اشیا کا بندوبست آپ نے کل دوپہر تک کر دینا ہے. چھوٹے بچوں کے جوتے، خواتین کی خاص ضرورت کی چیزیں اور سبز چاۓ. وہاں کیمپ میں سخت سردی ہے، بچوں کے پاس جوتے نہیں، پینے کا پانی انتہائی گدلا ہے، سبز چاۓ بنانے کے بہانے ہی سہی پانی ابال تو لیں گے نا. کچھ اور چیزیں بھی تھیں. وہ رات ان اشیا کا بندوبست کرتے گزری. سخت سردی میں بنیادی ضرورت کی اشیا کو ترستے ٹھٹھرتے اپنے جیسے انسانوں کا خیال ، اور عورت ہونے کے ناطے اپنے قبیلے والیوں کی تکلیف ہمیں اپنے نرم گرم بستروں میں گھس کر سونے سے روکتی رہی. کتنی ہی رات یونہی کارپٹ پر بیٹھے اس سردی کو محسوس کرتے گزاردی.
ہت سا وقت گزر چکا تفصیلات ذہن سے محو ہو چکیں، لیکن بچپن کے وہ دن جب سننے والے کانوں سے زیادہ دیکھنے والی آنکھوں کے منظر شخصیت کی تعمیر کرتے جاتے ہیں، ایک احساس دل کی گہرائیوں میں راسخ ہوتا گیا. جب جب کہیں کوئی تکلیف میں ہو گا، تو درد انگیز داستانیں کہنے سننے کو کافی نہ سمجھنا ، کوئی جانے نہ جانے ، سنے نہ سنے اپنے حصے کی شمع روشن کرنے والوں کے ساتھ تم بھی لگ جانا.
جماعت اسلامی اور اس کی برادر تنظیموں کے کارکنان کے لئے ہرتھوڑے دنوں کے بعد امدادی اور فلاحی کاموں کے لئے ایسی مہمات میں کام کرنا معمول کی بات ہے. کئی فنا فی اللہ ایسے منصوبوں کا مستقل حصہ ہیں. فری مڈیکل کیپمس ، ہسپتالوں اور سکولون کا قیام اور ان کا انتظام، آفت زدہ علاقوں میں سب سے پہلے پہنچنا، بے سہارا خواتین اور بچوں کے لئے مثالی ادارے، روزگار سکیم اور نہ جانے کتنے منصوبے. خیبر پختونخواہ ہو یا بلوچستان، پنجاب کے گاؤں ہوں یا سندھ کا رتیلا صحرا. مسلمانوں کو ضرورت ہو یا غیر مسلم برادری کو مدد درکار ہو. جماعت اسلامی والے انسانوں کی خدمت کے راستے خدا کو تلاش کرتے، دور دراز شہروں اپنا فرض ادا کرنے پہنچ جاتے ہیں.
کچھ برس ادھر گزرے. بوڑھے جسم میں عزم و ہمت سے بھرپور جوان روح رکھنے والا ایک نعمت الله خان تھر کے باسیوں کے لئے میٹھے پانی کے کنویں کھدواتا پھرتا تھا. سنتے اے ہیں کہ ریت کے سمندر میں انسانی بستیوں کے جن محروم جزیروں میں خود کو سندھ دھرتی کے بیٹے کہنے والے بھی اتنے برسوں میں میٹھا پانی ، دو کام کے ہسپتال اور بچوں کے چار سچ مچ والے سکول نہ کھول سکے، وہاں جماعت اسلامی کے “جنونی” نوے کی دہائی میں جا پہنچے. جب سے اب تک راشن تقسیم کرتے ہیں، فری میڈیکل کیمپس لگایا کرتے ہیں، میٹھے پانی کے کئی کنوئیں ہندو مسلمان سب کے لئے کھدواے، سکول اور ہسپتالوں کے منصوبوں کے لئے مصروف عمل ہیں، روزگار اسکیمیں شروع کر رکھی ہیں. ہمارے کراچی سے کچھ کچھ ہفتوں کے بعد مردوں کے ہی نہیں، خواتین تک کے قافلے بڑی باقائدگی سے اپنی اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے جایا کرتے ہیں. اور ہمارے جیسے کالج یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے، اسپتالوں اور سکولوں میں کام کرنے والے، کبھی ان کے لئے فنڈز جمع کرتے اور کبھی ان قافلوں کا حصہ بنتے.
اور اب سراج الحق پشاور سے چل کر اے اور تھر جا پہنچے. مقوی غذاؤں اور گرم کستوری سے محروم خیبر پختونخواہ کے نیم پختہ مکان کی یخ بستہ راتیں ہوں یا ٹھنڈے میٹھے پانی سے محروم گرمی میں جھلستے رتیلے مکان. غریب کا دکھ تو سانجھا ہوتا ہے. اقتدار کے ایوانوں میں براجمان ملک کی بڑی بڑی جماعتوں کے ہوتے ، ہمیشہ انتخابات ہار جانے والی جماعت اسلامی کو ملک کے غریبوں کا دکھ کیوں پریشان کرتا ہے؟ جبکہ نہ میڈیا کو ان کی چلت پھرت سے دلچسپی ، نہ عوام کو ان کے فلاحی منصوبوں کی خبر. سندھ کے نام نہاد سپوتوں کے اپنے شہر مثالی نہ بن سکے. اور ان شہروں کی حدود سے آگے پسماندہ گوٹھوں میں انہی جماعتوں کے لیڈر وڈیرہ شاہی قائم کیے بیٹھے ہیں. غزہ ، مصر، بوسنیا اور برما کے لئے روتی امدادی سامان جمع کرتی جماعت اسلامی پر پاکستانیوں کے غم سے انجان رہنے کے طعنےدینے والے، پاکستان کے طول و عرض میں جاری خدمت کے کے منصوبوں اور مہمات کی تشہیر کو گول کر جاتے ہیں، لکھنے والے تلخ کہانیاں لکھتے ہیں اور انسان کی بے ضمیری کا نوحہ کرتے ہوے ان پر خلوص محنتی انسانوں کے ذکر سے نظریں بچا لیتے ہیں. مگر جماعت اسلامی کو اتنے برسوں ان سب سے فرق نہیں پڑا. وہ اسی طرح اپنے کام میں مشغول ہے.
مذہب سے وابستگی کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ انسان کسی فائدہ کے لالچ سے بلند ہو کر بڑےکام کرتا ہے. اس کا ایک نقصان یہ ہوتا ہے کہ خیر کے کاموں کا لوگوں کو علم نہیں ہو پاتا. ہمیں “تشہیر ” نہ ہونے کا دکھ نہیں ، بلکہ دکھ اس بات کا ہے کہ نیکی اور بھلائی کے یہ کام گمنامی کے پردوں میں چھپے ہونے کے سبب دیندار لوگوں اور جماعتوں کا چہرہ نہیں بن پاتے. اور دین کے علمبرداروں کو ہمیشہ کچھ لوگوں کے کیے کی صفائی طلب کرنے کے واسطے کٹہروں میں کھڑا کرنے کے لئے ہی کیوں بلایا جاتا ہے؟
میں مظلوم انسانوں کا دکھ محسوس کرنے والی .اگر صرف بھیانک رات کی تلخ کہانیاں کہنے کو کافی نہیں سمجھتی، بلکہ امید کے چراغ جلانا اپنا فرض سجھتی ہوں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک عرصے سے کچھ ایسے لوگوں کی محبت میں مبتلا ہوں، جنہیں ہمیشہ نوحہ کہنے کے وقتوں میں درد کی دوائیں تقسیم کرتے پایا ہے.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: