“مغربی کلچر کی یلغار”

تحریر : ثمینہ عباسی

یہو د و ہنہود ابتدائے اسلام سے ہی مسلمانوں کے خلاف سازشوں کے جال بنتے رہے کبھی علی الاعلان اور کبھی پیٹ پیچھے سے وار کر کے اسلام کو نقصان پنچانے اور اس کو مٹانے کی کوشش میں کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے اور مسلمانوں کے ساتھ یہ المیہ کہ وہ مغربی تہذیب و تمدن سے حد درجہ مرغوب نظر آتے ہیں اور مغربی گندگی کو اپنی ذندگیوں کا حصہ بنا کر انہیں داغدار کر بیٹھے ہیں بے حیائی کو جدیدیت اور کامیابی کا سنہری اصول بنانے والے مغرب نے مسلمانوں کی تہذیب کو نچوڑ کر رکھ دیا انے والی نسلوں کی تاک میں گزرنے والی نسل کو استمال کر رہا ہے حیا مسلمان کا زیور ھے اور مغرب کا وار ہی حیا پر پڑتا ھے مغرب خود تو حیا اور غیرت جیسی نعمتوں سے محروم ھے وہ جانتا ھے کہ مسلمانوں کی کامیابی کا یہی راستہ ھے اور اسی راستے پر مغرب نے ویلنٹائن جیسے تماشوں کا اہتمام کر رکھا ہے مسلمان نوجوانوں کے لئے گمرائی کے میدان سجائے بیٹھا ھے 14 فروری غیر مسلم محبت کا تہوار منا تے ہیں جس میں مسلمانوں میں اپنے مذہبی تہوارں سے ذیادہ جوش و خروش دیکھنے کو ملتا ھے بے حیائی کا بھر پور اجتمائی مظائرہ کیا جاتا ھے محبت کوئی پروڈکٹ نہیں جس مشہوری سال کا ایک دن مخصوص ھو یہ تو حیا اور اخلاص کی چاشنی سے تیار کیا گیا وہ جذبہ ھے جسکا بیج اللہ رب االعزت نے ہر زی روح کے دل میں بو دیا اور مسلمان اپنے ایمان اس مغربی تہوار کی کسوٹی پررکھ کر اپنا نامہ اعمال سیائ کرتے جا رہے ھیں روشن خیالی کا یہ خواب ہماری نسل کو اندھیرے کی طرف لے جا رہا ھے ویلنٹائن جیسے ہتھیار مغرب ہمارے نوجوانوں کی تبائی کے لئے استمال کر رہا ھے مغرب کا میشور اسلام کی تبائی ھے اسی بنا پر وہ مغربانہ طرز ذندگی اور طرز فکر مسلمانوں میں منتقل کر رہا ھے یہی وجہ ھے کے اج کا نوجوان قلم اور تلوار چھوڑ کر میخانوں کا رخ کر رہا ھے قران پا ک میں اللہ تعالی فرماتے ھیں وہ لوگ جو ایمان والوں میں بے حیائی پھیلاتے ہیں ان کے لئے دنیا اور آخرت میں دردناک عزاب ھے ہمارا معاشرہ بے حیائی کی دلدل ڈوبتا جا رہا ھے حدیث میں آتا ھے کہ جو جس قوم سے مشابہت کرتا ھے وہ انہیں میں سے ھے باحثیت مسلمان ہمارا اولین فرض ہے کہ ایسے فحش اور بے حودہ تہوار کے خلاف جہاد کریں جو ہماری نسلوں ۔کو بے حیائی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: