“اسلام عورت کے لیے سراپا رحمت”

تحریر : اسریٰ غوری

اسلام انسانیت کے لیے تکریم، وقار اور حقوق کے تحفظ کا پیغام لے کر آیا۔ اسلام سے قبل معاشرے کا ہر کمزور طبقہ طاقت ور کے زیرنگیں تھا۔ تاہم معاشرے میں خواتین کی حالت سب سے زیادہ ناگفتہ بہ تھی۔ تاریخِ انسانی میں عورت اور تکریم دو مختلف حقیقتیں رہی ہیں۔
قدیم یونی فکر سے حالیہ مغربی فکر تک یہ تسلسل قائم نظر آتا ہے۔ یونانی روایات کے مطابق پینڈورا (Pandora) ایک عورت تھی جس نے ممنوعہ صندوق کو کھول کر انسانیت کو طاعون اور غم کا شکار کر دیا۔ ابتدائی رومی قانون میں بھی عورت کر مرد سے کمتر قرار دیا گیا تھا۔ ابتدائی عیسائی روایت بھی اسی طرح کے افکار کی حامل تھی۔ سینٹ جیروم (St. Jerome) نے کہا: “Woman is the gate of the devil, the path of wickedness, the sting of the serpent, in a word a perilous object.”
اسلام نے عورت کے ساتھ اس نا انصافی کا خاتمہ کیا اور آںحضور ﷺ نے عورت کو مرد کے برابر حقوق چودہ سو سال قبل اس وقت عطا کر دیے تھے جب اس کا تصور ابھی دنیا کے کسی بھی معاشرے میں پیدا نہیں ہوا تھا۔ عورت اور مرد کی مساوات کا نظریہ دنیا میں سب سے پہلے اسلام نے پیش کیا اور اس طرح عورت کو مرد کی غلامی سے نجات دلائی جس میں وہ صدیوں سے جکڑی ہوئی تھی۔ اسلام نے ہی عورت کو ذلت اور غلامی سے نکال کر عزت اور وقار سے نوازا اور ظلم و استحصال سے نجات دلائی۔ اسلام نے ان تمام قبیح رسوم کا قلع قمع کر دیا جو شرف انسانی اور عورت کے نسوانی وقار کے منافی تھیں۔ اسلام نے عورت کو جو بے شمار حقوق عطا کیے اللہ تعالیٰ نے تخلیق کے درجے میں عورت اور مرد کو برابر رکھا ہے۔
انسان ہونے کے ناطے عورت کا وہی رتبہ ہے جو مرد کو حاصل ہے،
ارشاد ربانی ہے : ’’اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو، جس نے تمھاری پیدائش (کی ابتداء) ایک جان سے کی پھر اسی سے اس کا جوڑ پیدا فرمایا پھر ان دونوں میں بکثرت مردوں اور عورتوں (کی تخلیق) کو پھیلا دیا۔‘‘ النساء، 4 : 1
اسلام کی آمد سے قبل بچی کی پیدائش عار سمجھی جاتی تھی اور انھیں زمیں میں زندہ گاڑ دیا جاتا تھا، یہ رسم نہ تھی بلکہ انسانیت کا قتل تھا، اسلام نے اس رسم کا خاتمہ کیا، بچیوں کو زندگی کا حق دیا اور والدین کو قیامت کے دن برے انجام سے ڈرایا۔ اس کے لیے باقاعدہ آیت نازل ہوئی
بای ذنب قتلت
اسلام عورت کے لیے تربیت اور نفقہ کے حق کا ضامن بنا کہ اسے روٹی، کپڑا، مکان، تعلیم اور علاج کی سہولت ’’اولی الامر‘‘ کی طرف سے ملے گی۔ عورت کی تذلیل کرنے والے زمانہ جاہلیت کے قدیم نکاح جو درحقیقت زنا تھے، اسلام نے ان سب کو باطل کرکے عورت کی عصمت کے تحفظ کا سامان کیا۔ اسلام نے مردوں کی طرح عورتوں کو بھی حقِ ملکیت عطا کیا ہے۔ وہ نہ صرف خود کما سکتی ہے بلکہ وراثت کے تحت حاصل ہونے والی املاک کی مالک بھی بن سکتی ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’مردوں کے لیے اس (مال) میں سے حصہ ہے جو ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں نے چھوڑا ہو اور عورتوں کے لئے (بھی) ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں کے ترکہ میں سے حصہ ہے۔ وہ ترکہ تھوڑا ہو یا زیادہ (اللہ کا) مقرر کردہ حصہ ہے۔‘‘ النساء، 4 : 7
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورت کو بحیثیت ماں سب سے زیادہ حسنِ سلوک کا مستحق قرار دیا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ : ایک آدمی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض گزار ہوا یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میرے حسنِ سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تمہاری والدہ عرض کیا پھر کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تمہاری والدہ، عرض کی پھر کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا تمہاری والدہ، عرض کی پھر کون ہے؟ فرمایا تمہارا والد ۔ بخاری، الصحيح، کتاب الأدب، باب من احق الناس بحسن الصحبة، 5 : 2227، رقم : 5626
وہ معاشرہ جہاں بیٹی کی پیدائش کو ذلت اور رسوائی سمجھا جاتا تھا۔ اسلام نے بیٹی کو نہ صرف احترام و عزت کا مقام عطا کیا بلکہ اسے وراثت کا حقدار بھی ٹھہرایا۔
ارشاد ربانی ہے : ’’اللہ تمہیں تمہاری اولاد (کی وراثت) کے بارے میں حکم دیتا ہے کہ لڑکے کے لئے دو لڑکیوں کے برابر حصہ ہے، پھر اگر صرف لڑکیاں ہی ہوں (دو یا) دو سے زائد تو ان کے لئے اس ترکہ کا دو تہائی حصہ ہے، اور اگر وہ اکیلی ہو تو اس کے لئے آدھا ہے۔‘‘ النساء، 4 : 11
اور صرف یہی نہیں بلکہ بیٹیوں کی بہترین تربیت کرنے پر جنت کے خوشخبری سنا کر بیٹیوں کے وجود کواحساس ندامت سے بدل کر جنت کے حصول کا ذریعہ بنا دیا
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس مسلمان کی تین بیٹیاں ہوں وہ ان کے اخراجات کا بوجھ خوش دلی سے قبول کرے، ان کی تربیت کرے، ان کی شادی کردے تو وہ جہنم سے اس کیلئے حجاب بن جائیں گی۔ ایک عورت نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم ٬ اگر کسی کی دوبیٹیاں ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا کہ وہ بھی جہنم کیلئے حجاب بن جائیں گی۔
بطور بہن عورت کا وراثت کا حق بیان کرتے ہوئے قرآنِ حکیم میں ارشاد فرمایا گیا : ’’اور اگر کسی ایسے مرد یا عورت کی وراثت تقسیم کی جا رہی ہو جس کے نہ ماں باپ ہوں نہ کوئی اولاد اور اس کا (ماں کی طرف سے) ایک بھائی یا ایک بہن ہو (یعنی اخیافی بھائی یا بہن) تو ان دونوں میں سے ہر ایک کے لئے چھٹا حصہ ہے، پھر اگر وہ بھائی بہن ایک سے زیادہ ہوں تو سب ایک تہائی میں شریک ہوں گے (یہ تقسیم بھی) اس وصیت کے بعد (ہو گی) جو (وارثوں کو) نقصان پہنچائے بغیر کی گئی ہو یا قرض (کی ادائیگی) کے بعد۔‘‘ النساء، 4 : 12
قرآنِ حکیم ہی کی عملی تعلیمات کا اثر تھا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیوی سے حسنِ سلوک کی تلقین فرمائی۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں ایک شخص حاضر ہو کر عرض گزار ہوا : یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میرا نام فلاں فلاں غزوہ میں لکھ لیا گیا ہے اور میری بیوی حج کرنے جا رہی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم واپس چلے جاؤ اور اپنی بیوی کے ساتھ حج پر جاؤ۔‘‘ اور اسی تعلیم پر صحابہ کرام رضی اللہ عنھم عمل پیرا رہے۔ بخاری، الصحيح، کتاب الجهاد، باب کتابة الإمام الناس، 3 : 1114، رقم : 2896
اپنے اعمال کی بنیاد پر مرد اور عورت ﷲ تعالیٰ کے اجر کے استحقاق میں برابر قرار پائے۔ اور بتایا گیا کہ مرد اور عورت دونوں میں سے جو کوئی عمل کرے گا اسے پوری اور برابر جزا ملے گی۔
ارشادِ ربانی ہے : فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ أَنِّي لاَ أُضِيعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنكُم مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَى بَعْضُكُم مِّن بَعْضٍ. ’’پھر ان کے رب نے ان کی دعا قبول فرما لی (اور فرمایا) یقیناً میں تم میں سے کسی محنت والے کی مزدوری ضائع نہیں کرتا خواہ مرد ہو یا عورت، تم سب ایک دوسرے میں سے (ہی) ہو‘‘ آل عمران، 3 : 195
اس مساوات کی بنیاد قرآن مجید کی اس تعلیم پر ہے جس میں فرمایا گیا کہ ” تم (مرد ) ان کے (عورت ) کے ليے لباس ہو اور وہ تمہارے ليے لباس ہیں۔“ اس طرح مختصر ترین الفاظ اور نہایت بلیغ انداز میں عورت اور مرد کی رفاقت کو تمدن کی بنیاد قرار دیا گیا اور انھیں ایک دوسرے کے ليے ناگزیر بتاتے ہوئے عورت کو بھی تمدنی طور پر وہی مقام دیا گیا جو مرد کو حاصل تھا۔
اس کے بعد نبی کریم ﷺ نے حجتہ الودع کے خطبہ میں ارشاد فرمایا: ” عورتوں کے معاملہ میں خدا سے ڈرو، تمھارا عورتوں پر حق ہے اور عورتوں کا تم پر حق ہے۔“ یہ تعلیمات اس کائناتی حقیقت پر مبنی ہیں کہ ہر انسان ایک دوسرے کا محتاج ہے اور ہر ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہے۔ اور اس طرح سب کو یکساں اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ اگر قران مجید نے مرد کو عورت پر قوام بنایا ہے تو عورت کو بھی یہ عظمت بخشی گئی ہے کہ جنت کو اس کے قدموں تلے بتایا گیا ہے۔ یہی وہ تعلیمات ہیں جنھوں نے دنیا کی ان عظیم خواتین کو جنم دیا جن کے روشن کارنامے تاریخ اسلام کا قابلِ فخر حصہ ہیں۔
اسلام نے عورت کو معاشرے میں نہ صرف باعزت مقام و مرتبہ عطا کیا ہے بلکہ اس کے حقوق بھی متعین کردیے ہیں جن کی بدولت وہ معاشرے میں پرسکون زندگی گزار سکتی ہے۔ اس کے مقابلے میں مغرب میں آزادی نسواں کا جو تصور اُبھرا ہے وہ افراط و تفریط کا شکار ہونے کے باعث بہت غیر متوازن ہے۔
ایک طویل عرصہ تک دیگر معاشروں کی طرح مغرب میں بھی عورت کو کسی قسم کا معاشرتی حق حاصل نہیں تھا اور اس کی حیثیت مرد کے غلام کی سی تھی۔ اس کے ردعمل کے طور پر وہاں آزادی نسواں کی تحریک شروع ہوئی اور اس کی بنیاد مرد و زن کی مساوات پر رکھی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ ہر معاملہ میں عورت کو مرد کے برابر لایا جائے۔ برابری اور حقوق تو ملنے تھے یا نہیں مگر فرائض کی ادائیگی میں ضرور اسے مردوں کے برابر لا کھڑا کیا گیا ہے۔ اس سے نہ صرف عورت کو دوہری ذمہ داریاں ادا کرنی پڑ رہی ہیں بلکہ اس کا ایک نتیجہ یہ بھی نکلا کہ عورت تمام فطری اور اخلاقی قیود سے بھی آزاد ہو گئی۔ یہ چیز ان معاشروں کی تباہی کا سبب بنی اور اسی کی بدولت مغربی ممالک میں خاندانی نظام تباہ ہوچکا ہے اور وہاں عورت صرف مردوں کی ہوس پوری کرنے کا ایک ذریعہ بنی ہوئی ہے ۔۔ مغرب میں اخلاقی اقدار کی یہ تباہی وہاں کی عورت کی لیے باعث رحمت بھی ثابت ہو رہی ہے اور وہ اس تباہی سے بچنے کے لیے اسلام کے دامن عافیت اور سایہ رحمت میں آ رہی ہے۔
مغربی حکمرانوں، پالیسی سازوں،اُن کے ہم نوا دانشوروں اور ذرائع ابلاغ کی جانب سے اسلام کو دہشت گردی کا علم بردار اور عورتوں کے حقوق کی پامالی کا ذمہ دار قرار دیے جانے کے زبردست پروپیگنڈے کے باوجود قبول اسلام کے واقعات کی حیرت انگیز رفتار اور اس میں عورتوں کے تناسب کا مردوں سے کہیں زیادہ ہونا، اپنے اندر غور و فکر کا بڑا سامان رکھتا ہے۔ برطانوی صحافی یوآن رِڈلے (Yuonne Ridley) اور سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیر کی خواہر نسبتی لورین بوتھ (Lauren Booth) جیسی نمایاں شخصیات سمیت ہزاروں مغربی خواتین دائرہ اسلام میں داخل ہوئی ہیں۔ مختلف مغربی ملکوں میں اسلام قبول کرنے والے افراد میں، بعض رپورٹوں کے مطابق عورتوں کا تناسب مردوں سے چار گنا تک ہے اور یہ اس حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ آج مغرب کی عورت بھی یہ سمجھ چکی ہے کہ جن حقوق کا لالچ دے کر اس کی نسوانیت کو پامال کیا جارہا ہے وہ صرف اور صرف اسلام کے دامن رحمت میں ہی مل سکتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: