“کوئی حبشہ ہی ہو کوئی نجاشی ہی ملے “

تحریر: اسریٰ غوری

اے مرے کلمہ گو مسلمانوں آج میں تم سے شرمندہ ہوں
تم دربدر پھر رہے ہو جرم تو صرف یہ کہ تم کلمہ گو ہو آج تمہارے لیے اس زمین 52 مسلمان ممالک کے ہوتے کوئی حبشہ نہیں اربوں مسلمانوں کوئی اک بھی تو نجاشی نہیں کہ آج تمہیں پناہ ہی دے دے ….
آہ ..!! تم ہر ہر روز مر رہے ہو کہیں مصر میں مرسی اور اخوان کی صورت تو کہیں غزہ میں دنیا کی سب سے بڑی قبر میں محصور کردیے گئے تو کہیں ملا قادر کی شکل میں صلیب پر لٹکائےجارہے ہو کوئی تمہارے لیے بولے کیسے کہ تم کلمہ پڑھنے والے ہو …
وہ جو کتے بلیوں کے حقوق کے لیے آوازیں بلند کرنے کے علمبرادر وہ جو انسانیت کے چیمپین بنے پھرتے ہیں سب ہی زبانیں حلق میِں دبائے گویا زمین میں کہیں دفن ہوگیے ہیں آج انہیں کچھ دکھائی نہیں دیتا نا ہی روہنگیا میں زندہ جلاے اور کاٹے جارہے بھوکے پیاسے اک ملک سے دوسرے ملک کے ساحلوں سے ٹکراتے ہر جگہ سے دھتکارتے موت کا انتظار کرتے وہ ہزاروں مسلمان … کسی کو دیکھائی کیوں نہیں دیتے ؟؟؟؟
وہ جاگیں گے…
ہاں وہ ضرور جاگیں گے …
جب کہیں ایوبی کا جانشیں ان کی گردنوں پر پیر رکھے گا تب وہ جاگیں گے …
تب تم دیکھنا کہ انکی لمبی لمبی زبانیں بھی باہر لٹکی ہونگی اور انکی آنکھیں بھی پھٹی جارہی ہونگی .
مگر میں بحیثیت مسلمان تم سے شرمندہ ہوں
روز محشر میرا دامن بھی تو پکڑا جایے گا کہ تم اس وقت کس میں مگن تھے
کہ
جب کفر کی دین سے ٹکر تھی
تو تم نے کس کا ساتھ دیا ؟؟
تھا پاس خزانہ قوت کا
وہ کس مصرف پہ خرچ کیا
اس وقت کہو گے کیا بولو ؟
آنکھیں تو اٹھاو لب کھولو
ہر لفظ کو کانٹے پر تولو!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: