کون ہے جو اس کے ظرف کی گہرائیوں کو جان سکے ؟

وہ لاغرنحیف سا وجود اپنا سارا بوجھ ہاتھ میں پکڑی لاٹھی پر ڈالتے ہوئے دوسرا ہاتھ گھٹنے پررکھ کر بمشکل کرسی سے اٹھا اور اسکی جانب آنے کے لیے قدم بڑھایا وہ خواتین کے درمیان گھری تھی مگر اسکی نگاہیں انہیں پر تھیں چند لمحوں میں وہ انکااردہ بھانپتے ہی خواتین کے درمیان سے نکل کر ان کی جانب دوڑی ابھی انہوں نے دو ہی قدم اٹھائے تھے کہ اس نے ان کے پاس پہنچ کر ان کے دونوں ہاتھوں کو تھام لیا تھا انہیں شاید اس کی توقع نہیں تھی اسی لیے وہ اسے اچانک یوں اپنے سامنے پاکر حیرانگی آنکھوں میں لیے کبھی اسکے ہاتھوں کو چومتیں تو کبھی اسکی ہتھیلیوں کو اپنی آنکھوں سے لگاتیں ان کی آنکھوں سے بہتا ہوا پانی اسے بہت کچھ سمجھا رہا تھا پھرانہوں نے اس کے ہاتھوں کو اپنے سینے کے ساتھ لگالیا اس کے ہاتھ ان کے سینے میں بے ترتیب ہوتی دل کی دھڑکنوں کا اک اک لفظ سن سکتے تھے چہرے پر پڑی انگنت لکیریں آنسوؤں کے لیے بہت سی راہیں بنارہی تھیں وہ ان لکیروں میں ان کے ماہ و سال کو پڑھ رہی تھی کتنے ہی لمحے وہ انکی خاموش داستاں سنتی رہی وہ جانتی تھی کہ وہ اسے یہ داستاں سننانے کے لیے بے قرار تھیں بھی جانتی تھی کہ یہ آنسو پچھتاوں کیساتھ آج ملنے والی اس خوشخبری کے سبب بھی ہیں جسے سن کر وہ اتنے لوگوں کی موجودگی میں بھی خود کو روک نہیں پائی تھیں ۔

وہ بہت دیر سے ان پر نگاہ مرکوز کیے تھی کیونکہ ایسا ہی ہوتا ہے انسان کا سب کچھ اُس کے ماتھے پر رقم ہوتا ہے. دِل و دماغ کی کیفیّات اُس کی آنکھوں سے جھلکتی ہیں بس دیکھنے، سمجھنے اور محسوس کرنے کے لئے زندہ نگاہ اور دِل و دماغ کی ضرورت ہوتی ہے جب کہ ایک شخص کسی ایسی جگہ بیٹھا ہو جہاں سے وہ سب کو ایک ساتھ دیکھ سکتا ہو تو وہ فرداٌ فرداٌ سب کے چہروں سے نظر گزارتا ہے بہت سے چہروں پر اسے بے فکری و بےاعتنائی کی جھلکیاں نظر آتی جن پر بس اک سرسراتی سی نگاہ ہی ڈالی جا سکتی مگر کچھ چہرے نظروں کو مقناطیس کی طرح بار بار اپنی جانب کھینچ لیتے ہیں ہر بار کوئی نہ کوئی چہرہ اسکی نگا ہوں اپنی جانب کھینچ لیا کرتا تھا یہ چہرہ کبھی کسی نوجوان بچی کا ہوتا تو کبھی کسی ادھیڑ عمر خاتون کا اور کبھی اپنی عمر کے آخری مرحلے سے گزرنے والی دادی یا نانی کا وہ ہر اک کے چہرے کو پڑھنے کی پوری کوشش کیا کرتی تھی کئی برس سے یہی مشق دہراتے وہ اب چہروں کو پڑھنا سیکھ چکی تھی ۔

آج بھی تو یہی ہوا تھا اس بڑے ہال نما ڈرائنگ روم میں نفیس فرنیچر اور میچنگ کے پردوں کے پیچھے سے جھانکتی ہوئی نیٹ ، سامنے کی میرون کلر دیوار پر لگی خوبصورت وال کلاک ، فرحت بھرا احساس دیتے کارنر ریک پررکھے کرسٹل کے گلدان میں بڑے قرینے سے سجائے گئے خوش رنگ پھول ، سخت گرمی کے موسم میں خواتین سے بھرا یخ بستہ کمرہ ایک الگ ہی دنیا کا نمونہ پیش کر رہا تھا
وہ یہاں پہلی بار کوئی پروگرام کرنے آئی تھی مگر جمع ہونے والوں کا شوق دیدنی تھا اس کے علم میں تھا کہ یہاں اکثر میلاد کے پروگرامات ہوا کرتے ہیں ۔

کچھ عمر رسیدہ خواتین صوفوں پربراجمان تھیں کچھ کے لیے ڈائینگ ٹیبل کی کرسیاں رکھی گئیں اور بچیاں اور بہت سی خواتین فرش پر بچھے قالین پر بیٹھیں تھیں اسے پروگرام کے شروع کے لمحات سے ہی ان کے جھریوں سے بھرے مگرسفید شفاف چہرے نے اپنی جانب مرکوز کرلیا تھا پھر اس کے لفظوں کے ساتھ ان کے چہرے پر بدلتے رنگ اس کی نگاہیں بار بار اپنی جانب کھینچ رہی تھیں اور کئی چہروں سے گزرتی نگاہیں اس چہرے پر آکر جیسے رک سی جاتیں مگر پھر اسے اپنے کلام کو جاری رکھتے ہوئے آگے بڑھنا پڑتا ایک گھنٹہ کا پروگرام مکمل ہونے کو تھا کمرے میں چند لمحے اک خاموشی چھائی رہی پھر وہ گویا ہوئی ۔۔۔
” ہم انسان بہت کم ظرف ہوتے ہیں ہم تو اپنی اولاد کے لیے بھی اتنا ظرف نہیں رکھتے کہ اگر ماں ناراض ہے اور بیٹا ایک گھنٹہ بعد آیا کہ مجھ سے غلطی ہوگئی تو میں تو اسے جتائے بغیر نہیں رہتی کہ ” اب خیال آیا ایک گھنٹہ بعد ” مگر کیا کہیے اس ظرف والے کہ وہ اسی برس بعد بھی کوئی اس کی جانب سچے دل کیساتھ لوٹتا ہے تو ایک لمحے کو یہ نہیں کہتا کہ ” اب یاد آیا میں ” جب ہاتھوں میں پکڑنے کی سکت نہ رہی زباں ساتھ نہیں دیتی قدم اپنا بوجھ اٹھا نہیں پارہے تو تجھے اب رب یاد آرہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔!!
آہ۔۔!! وہ اس کھوکھلے استعمال شدہ وجود کو جس کو اب اسکے اپنے گھر میں اک اضافی شے بڑھ کر کوئی حیثیت نہیں رہی وہ رب اپنی طرف لوٹنے والے اس بندے کو اپنے ہاتھوں پراٹھا لیتا ہے اپنے سینے سے لگا لیتا ہے کہ جیسے اس سے بڑھ کر قیمتی متاع پوری کائنات میں نہ ہو۔۔۔
کائنات میں کوئی اتنی شدت سے کسی کاانتظار نہیں کرتا، جتنا اللہ اپنے بندے کی توبہ کا کرتا ہے اس کے پلٹ آنے کا کرتا ہے اورجان رکهو اللہ اپنے پکارنے والے کو کبهی تنہا نہیں چهوڑتا.
بےشک وہ جو ستر ماوں سے زیادہ پیار کرنے والا وہ جو پلٹنے والے کو شرمندہ نہیں کرتا اسے نا صرف تھام لیتا ہے بلکہ اپنی خوبصورت جنتوں تک پہنچادیتا ہے ۔۔
کون ہے جو اس کے ظرف کی گہرائیوں تک جاسکے ؟؟؟ بھلا کون ؟؟؟ ”
اس کے بولے ہوئے آخری چند جملے گویاان کے گزرے ماہ سال کے پچھتاووں کا مداوا کرگئے تھے اور اب وہ اسکے ہاتھ تھامے کبھی بے تحاشہ اس کے چہرے کو چومنے لگتیں کہ وہ اس خوشخبری کو اپنے اندر اتار لینا چاہتی تھیں کہ وہ اس ظرف والے کے در سے دھتکاری نہیں جائینگی ۔
“؟کہ کون ہے جو اس کے ظرف کی گہرائیوں تک جاسکے “

2 Comments
  1. 27 June, 2015
    muneer Khan

    بہت ہی عمدہ انداز بیان اور قدر سادہ الفاظ میں تبصرہ کیا. ادبی و دینی اعتبار سے بڑی پیاری عبارت ہے…
    اللہ پاک محترمہ کو اس کار خیر کے لیے بھرپور جزا دے. آمین ثم آمین

    Reply
    • 28 June, 2015
      اسریٰ غوری

      جزاک اللہ خیرا کثیرا

      Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: