“میرا پہلا روزہ “

عنوان ہی ایسا ہے جیسے کہیں دور بالکنی سے جھانکتی ہوئی یادوں کو کسی نے چھیڑ دیاسو ہم بھی اس بالکنی میں جابیٹھے اور لگے اپنے بچپن کی یادوں کی برتیں کھولنے یہ پرتیں بھی ویسی ہیں جیسی امی جب کبھی اپنا پرانا بڑا صندوق کھولا کرتیں تو ان میں پرانی رکھی چیزوں سے ایک مہک سی آتی اور ہم بڑے شوق سے وہ اٹھا اٹھا کر سونگھا کرتے تھے سو آج پھر برادراسد نے ہمیں اسی مہک کے درمیان لابٹھایا
تو جناب ہمارے بچپن کے روزوں کا موسم یہی تھا جو آج کل کا موسم ہے یعنی جولائی جیسی ہی شدید گرمیاں یہ موسم چونکہ (مئی تااگست تک) چارماہ تک رہا کرتا تھااور اندرون سندھ کا شہر جہاں گرمی بھی اپنی پوری شدت کیساتھ پڑتی اور سردی بھی کڑاکے کی ہوا کرتی تھی ۔
اے سی تو محلے بھر میں کسی کے گھر میں نہیں لگا تھا سو گرمیوں کے روزوں میں دوپہر بھر امی اور بہن دوپٹہ گیلا کر کے اپنے اوپر اوڑھ لیا کرتیں اور پنکھے کے نیچے سوجایا کرتیں ہم سب بچے باہر گلی کے نکڑ پر لگے نلکے پر جاکر پانی کی بالٹیاں بھر بھر کر لایا کرتے کیونکہ اس وقت پانی صرف واٹر سپلائی کا ہی آیا کرتا تھا جس کا ٹائم بندھا ہوتا ایک فجر کے بعد اور دوسرا عصر کے بعد اب اس تھوڑے سے وقت میں اوپر ٹینکی میں بھی پانی چڑھایا جاتا اور ضرورت کا پانی جمع کرلیا جاتا جس کو نہانے پر تو خرچ نہیں کیا جاسکتا تھا سواسکے لیے گلی دونوں نکڑوں پر لگے نلکوں کے پانی کو ہی استعمال کیا جاتا تپتی دھوپ میں لمبی لمبی دوپہر میں روزے داروں کا حال بڑا ہی سخت ہوتا جسے دیکھ کر ہماری روزہ رکھنے کی ننھی منی خواہش دم توڑ جاتی مگر پھر بھی ہر روز سحری میں جاگنا اور سب کو بھاگ بھاگ کر سحری پہنچانا ہمارا معمول تھا گھر میں سب سے چھوٹے ہونے کیوجہ سے کسی کو یہ خیال ہی نا آتا کہ ہم بھی وقت پر سحری کرلین آخر تک ہر اک کسی نہ کسی چیز کے لیے پکار ہی لگتی رہی بس دل ہی دل میں بہت کڑھتے مگر جب کبھی امی سے شکایت کرتے تو یہی سمجھاتی کہ دیکھو سب نے تو روزہ رکھنا ہوتا ہے تم تو چھوٹی ہو تمہارا تو روزہ نہیں ہوتا نا اور سحری کروانے والا تو پورا اجر پاتا ہے روزہ نہ رکھو تب بھی تمہیں اجر تو پورا ملتا ہے مگر اب ان باتوں سے بہلنے کے لیے تیار نہ تو سو ہم نے بڑی ضد کی کہ اب ہم نے بھی پورا والا روزہ رکھناہے مگر امی اتنی گرمی کے لمبے روزے رکھوانے کے بلکل حق میں نہ تھیں بس ہم چڑی روزہ رکھتے چلے گئے ۔

مگر پھر ایک دن ہم نے تہیا کر لیا کہ آج ہم نے پورا والا روزہ رکھنا ہے اور یہ بات ہم نے اپنی اس عادت سے مجبور ( کہ کرنے کے بعد اچانک بتائیں گے ) کسی کو کچھ بھی نہ کہا بس اس رات سوتے ہوئے امی کو بار بار صبح سحری میں اپنے ساتھ جگانے کی یادہانی کرواتے رہے امی نے بھی وعدہ کرلیا اب انہین کیا خبر کہ ہم کیا کارنامہ انجام دینے کا پلان بناچکے ہیں خیر صبح سحری میں امی نے حسب وعدہ ساتھ جگالیا ہم پہلے تو کسمساتے رہے پھر امی نے کہا پھر نہ کہنا کہ جگایا نہیں سب سے پہلے جگایا ہے بس یہ سنتے ہی اپنا سارا پلان یاد آیا بستر سے چھلانگ لگائی اور فٹافٹ منہ دھو کر کچن میں امی کے پاس گھس کر بیٹھ گئے اور کہا آج مجھے سب سے پہلے سحری دیں ابھی کوئی نہیں جاگا بڑی بہن بھی امی کی ہیلپ کرواتی ابھی اٹھی ہی تھیں امی نے بھی یہ سوچ کر کہ ہم ہر روز سب کو سحری کرواتے ہیں کچن مین ہی پراٹھا اور سالن دیا اور ساتھ دودھ کا گلاس جو ہمیشہ ناشے کا حصہ ہوتا ہم نے بھی شام تک کا اسٹور کرنا تھا سو زبردستی جتنا ممکن ہوسکتا تھا اسٹور کیا پھر پانی کی باری تھی سو وہ بھی ہر ہر کونے میں انڈیلنے کی کوشش بھرپور کوشش کی اب نماز پڑھنے کی بھی ہمت نہیں تھی مگر امی نے بستر پر لیٹتے دیکھتے ہی آواز لگائی خبردار کوئی نماز کے بغیر سویا سو اٹھے جیسے تیسے نماز پڑھی اور سوگئے۔

اب جب صبح ہوئی تواسکول بھی بڑی خوشی خوشی چلے گئے آج تو پیر ہی زمین پر نہیں ٹک رہے تھے کہ ہم اپنے عمروں میں سب سے پہلے روزہ دار جو تھے سو وہاں سب کو فخریہ سے بتایا کہ آج ہمارا پہلا روزہ ہے خیر دن کے بارہ بچے تک تو وقت گزر گیااب باری تھی لمبی دوپہر کاٹنے کی بھوک نے تو نہیں مگر پیاس نے برا حال کردیا تھا جیسے تیسے گھر پہنچے تو نڈھال امی نے کہا کچن میں کھانا رکھا جاو اندر ہی بیٹھ کر کھالینا یہ تو شروع ہی سے سمجھادیا گیاتھا کہ پورے رمضان روزہ ہویا نہ ہو مگر کسی کے سامنے کچھ کھانا نہیں جو کھانا کچن میں جاکر خاموشی سے کھانا اب ہم بھلا کیسے کھاتے کہ روزے دار تھے کچھ دیر تو چپ رہے جب امی نے حالت نازک دیکھی تو پھر کہا اچھا میں نکالتی ہوں تب ہمیں اپنا روزہ بچانے کی خاطر چپ کا روزہ توڑنا پڑا اور امی سے کہا ہمارا روزہ ہے امی نے کہا ہاں بھئی وہ تو روز ہی ہوتا ہے بچوں کا چڑی روزہ ہم نے کہا نہیں یہ ہمارا آپ کے جیسا روزہ ہے ہم نے صبح ہی نیت کرلی تھی آج ہم نے پورا روزہ رکھنا بس یہ سننا تھا کہ امی نے خفگی سے دیکھا مگر پھر ہماری اتری ہوئی شکل دیکھی اور حالت زار کے پیش نظر فورا نرم لہجے میں کہا اگر روزہ رکھنا ہی تھا تو مجھے تو بتاتیں بھائی جان آجاتے تب رکھوالیتی (بڑے بھائی جان کی پوسٹنگ ان دنوں خانپور میں تھی) اور اسکول نہ بھیجتی آج اتنی تیز گرمی میں روزہ بڑوں کو ہلکان کررہا ہے ہم نے کہا بس آپ اتنے دنوں سے منع کررہی تھیں اور بھائی جان آئینگے تو ہم پھر دوبارہ رکھ لینگے اور ابھی ہم بھی دوپٹہ گیلا کرکے پنکھے کے نیچے لیٹ جائیں گے تو روزہ نہیں لگے گا امی سن کر مسکرادیں اور پھر ہمیں کہا اچھا میں لاتی دوپٹہ گیلا کرکے بس آج تو ہم بڑے ہی خوش آج ہم بھی امی اور باجی کی صف میں شامل ہوگئے تھے خیر جناب وہ لمبی شدت کی گرمی کی دوپہر گیلے دوپٹے کے سنگ پنکھے کے نیچے سوتے گزری.

عصر کی نماز کیلیے جگائے گئے نماز پڑھی اللہ پاک سے ڈھیروں دعائیں مانگیں پھر اپنا سپارہ پڑھنے لگے جیسے امی اپنا قرآن پڑھا کرتیں تھیں ادھر امی نے ہمارے روزے کا سن جلدی جلدی افطار زیادہ بنائی کہ چلو اب خود اپنے ہاتھ سے سب کو افطار دے کر آنا اور دعائیں لینا(کہ اس وقت چھوٹی چھوٹی خوشیاں ہوں یا غم سب کے سانجھے ہوا کرتے تھے ) امی نے اچھا سا سوٹ نکالا جو باجی نے انہی گرمیوں میں سیا تھا بڑے سلیقے سے دوپٹا سرپر جمائے ہم محلے سے سب گھروں میں افطاری دینے جاتے اور بتاتے آج ہمارا پہلا روزہ ہے محلے کی سب خالاوں کا ڈھیروں پیار دعائیں سمیٹے خوشی خوشی لوٹ آتے ویسے بھی ہم محلے بھر کے بچوں کے “جگا ، دادا” ہوا کرتے تھے سو سارے بچوں کالاو لشکر بھی ہمارے ساتھ جلوس کی صورت میں ہوتا ۔ پیٹ نے تو بہت کوشش کی کہ ہم ڈھیر ہوجائیں مگر ہم نے بھی آخری لمحات تک اسے مات دییے رکھی الحمدللہ اور اب سب گھروں میں افطاری دینے کے بعد اب ہم امی کی تیار کی ہوئی افطار کے سامنے بڑے اہتمام سے انتظار کررہے تھے کیونکہ آج کوئی بھی ہمیں نہیں دوڑا رہا تھا کہ جاو یہ بھی رکھو اور یہ بھی کرو کہ آج ہم بھی روزہ داروں میں شامل تھے سارا کام امی اور باجی نے خود ہی نمٹایا ہم تو بس افطار کے انتظار میں مہمان خصوصی بنے بیٹھے ہوئے تھے ساتھ ساتھ دعائیں بھی مانگی جارہی تھیں اور لگتا تھا جیسے آج مولوی صاحب اذان دینا ہی بھول گئے خیر اللہ اللہ کرکے اذان ہوئی اور ہم نے جی بھر کے شربت پیا آج خود کو بڑا اچھا لگ رہا تھا کہ ہم بھی آٹھ سال کی عمر میں الحمدللہ آج سے پورے والے روزدار بن گئے تھے ۔۔۔۔

تو جناب یہ تھی ہمارے پہلے روزے کی روداد جس کے تانے بانے کچھ یوں ہیں محترم شعیب صفدر بھائی نے روزہ کشائی پر بلاگ کا آغاز کیا اوربرادر رمضان رفیق کو دعوت دی کہ وہ اس موضوع پر لکھیں۔ پھر رمضان بھائی سے ہوتا ہوا یہ سلسہ محمد اسد بھائی کے ذریعے ہم تک پہنچا
اور اب میں اس سلسلے کو مزید آگے بڑھتائے ہوئے ان بلاگران سے اسی موضوع پر بلاگ لکھنے کی درخواست کر رہے ہیں کہ وہ بھی اس میں اپنا حصہ ڈالتے ہوئے اس سلسے کو مزید آگے بڑھائیں

وقاراعظم
عمران ذاہد
فرحت طاہر
ڈاکٹر جواد احمد خان
غلام اصغرساجد

26 Comments
  1. 5 July, 2015
    sheikho

    بہت عمدہ تحریر

    Reply
    • 5 July, 2015
      اسریٰ غوری

      جزاک اللہ خیرا محترم بردار

      Reply
  2. 5 July, 2015
    زبیر مرزا

    بہت خُوب آپ نے کمال ِسادگی سے پہلے روزے کا احوال تحریرکیا ہے جس میں بچپن کی معصومت کی جھلک محسوس ہوتی ہے

    Reply
    • 5 July, 2015
      اسریٰ غوری

      جزاک اللہ خیرا ،بچپن خود ہی اتنا معصوم ہوتا ہے کہ اس سے وابستہ ہر یاد خودہی معصوم ہوجاتی۔

      Reply
  3. 5 July, 2015
    نسرین غوری

    خوب

    Reply
  4. 5 July, 2015
    نورین تبسم

    پہلے روزے کی روداد بہت سادگی اور سچائی سے بیان کرتی تحریر ۔۔۔ ہر لفظ موتی کی طرح دمکتا ہوا۔ کون جانتا تھا کہ برسوں بعد وہ چھوٹی سی بچی ایک پراثر لکھاری بن کر اپنے لفظوں سے یوں مسحور کر دے گی۔ یہ تحریر صرف ذاتی احساس کی ہی نہیں بلکہ ایک مکمل طرز معاشرت کی بھی عکاسی کرتی ہے جو آج کل کی نئی نسل کے سامنے فخر سے پیش کی جا سکتی ہے ۔

    Reply
    • 5 July, 2015
      اسریٰ غوری

      نورین بہنا آپ بلکل سچ کہا ہمارا طرز معاشرت یقینا ایسا محبتوں بھرا ہوتا تھا جہاں کسی بھی چھوٹی سی چھوٹی خوشیاں ہوں یا بڑے سے بڑے غم سب ہمارے اردگرد کے رہنے والوں کے سانجھے ہوا کرتے تھے ۔۔۔ مگر یہ تب کی بات ہے جب گھر گھر ہوا کرتے تھے ۔۔۔ محض مکان نہین ۔۔
      آپ کی حوصلہ افزائی یقینا ہمارےلیے اعزاز کا باعث ہے جزاک اللہ خیرا کثیرا

      Reply
  5. 6 July, 2015
    کوثر بیگ

    بہت اچھا لکھا آپ نے کتنی اپنائیت اور سچائی ہے ان باتوں میں ۔بہت اچھا لگا آپ کی یادوں کی خو شبو کو محسوس کرکے ۔اللہ شاد و آباد رکھے آپ کوسدا

    Reply
    • 6 July, 2015
      اسریٰ غوری

      جزاک اللہ خیرا کوثر بہنا یقینا یہ یادیں اک اثاثہ ہیں ہماری زہن کی کے بکسوں میں رکھا 🙂 ، آمین

      Reply
  6. 6 July, 2015
    محمد اسلم فہیم

    جانے کیوں پڑھتے ہوئے میری آنکھیں نم اور حلق میں نمکین پانی کا احساس ہونے لگا، اسد بھائی نے ہی نہیں میں نے بھی آپ کو کچھ لکھنے کیلئے ٹیگ کیا تھا چلیں کسی کے کہنے پہ ہی سہی آپ نے لکھا تو سہی،
    یہ رہی میری تحریر
    http://www.draslamfaheem.com/2015/07/Fasting-before-32years.html

    Reply
    • 6 July, 2015
      اسریٰ غوری

      بہت جزاک اللہ بھائی تحریر پسند کرنے کا اور معذرت بھائی یقین کیجیے مجھے اس ٹیگ سلسلہ کا کچھ نہیں علم تھا اگر اسد بھایی بھی صرف ٹیگ کردیتے تو علم بھی نہ ہوتا انہوں نے انبکس کرکے بتایا اس لیے علم ہوا باخدا ایسا نہیں کے میں نے جان بوجھ کر آپ کے ٹیگ کو نظر انداز نہیں کیا میں بہت معذرت خواں ہوں مجھے امید ہے آپ میری معذرت قبول کرلیں گے

      Reply
  7. 6 July, 2015
    محمد اسد

    بہت ہی دلچسپ۔ آپ کا بلاگ پڑھ کر بخوبی اندازہ ہوگیا کہ 80، 90 کی دہائی میں پروان چڑھنے والی نسل کتنی خوش قسمت ہے کہ جسے نہ صرف روزے سردیوں میں میسر آئے بلکہ کئی ایسی آسائیشیں، مثلاً اے سی وغیرہ بھی حاصل رہیں کہ جنہوں نے عبادات کو سہل بنادیا۔

    Reply
    • 6 July, 2015
      اسریٰ غوری

      جزاک اللہ اسد بھائی یہ بھی 80 کی ہی دہائی کی ہی داستاں ہے 🙂 مگر ہم اندرون سندھ کے ایک ایسے شہر میں رہتے تھے جہاں اس وقت تک صرف ٹی وی ،فریج اور واشنگ مشین جیسی سہولیات ہی میسر آسکیں تھیں اے سی ابھی وہاں کے لوگوں کی پہنچ سے بہت دور تھا ۔

      Reply
  8. 6 July, 2015
    نعیم خان

    خوبصورت یادوں کو سمیٹے ایک عمدہ تحریر، جہاں سادگی اور تازگی سدا بہار ہے۔ آپ کی داداگیری والی بات بہت مزے کی لگی۔ پوری تحریر میرے ذہن میں ایک فلم کی طرح چلتی رہی۔

    Reply
    • 16 July, 2015
      اسریٰ غوری

      جزاک اللہ خیرا ، جی بھائی واقعی وہ دادا گیری ہمیں بھی آج تک یاد آتی ہے 🙂

      Reply
  9. 6 July, 2015
    ؐمظطفیٰ ملک

    بہت خوب ، شعیب بھائی اچھا سلسلہ شروع کیا ،

    Reply
  10. 6 July, 2015
    وسیم رانا

    بچپن کی گمشدہ یادیں ایسی یاد دلائی کہ تبصرہ کرنے پر مجبور ہو گئیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ایک مکمل اور بھرپور تحریر۔۔۔۔۔۔زبردست

    Reply
    • 6 July, 2015
      اسریٰ غوری

      برادر تحریر پسند کرنے کا بہت شکریہ ۔

      Reply
  11. 6 July, 2015
    farhat tahir
    motivational! everybody has similar but unique experience!
    Reply
    • 7 July, 2015
      اسریٰ غوری

      فرحت باجی اب آپکی باری ہے 🙂

      Reply
  12. 8 July, 2015
    Imran Zahid

    ماشاءاللہ۔ بہت خوب۔

    Reply
    • 8 July, 2015
      اسریٰ غوری

      عمران ذاہر بھائی آپ کو بنا اجازت کے اس سلسلہ میں ٹیگ کرنے کی جسارت کر بیٹھے ہیں آپکو ف بی پر بھی انبکس کیا ،امید ہے آپ ضرور انشاءاللہ اس میں اپنا حصہ ڈالینگے ۔

      Reply
  13. 11 July, 2015
    سید اویس مختار

    بچپن کی ایک یاد مجھے بھی یاد آگئی، جب سخت گرمی میں امی چادر گیلی کرکے اوڑھا دیا کرتی تھیں ، کچھ دیر تو ہم کسمساتے چڑچڑاتے مگر پھر مان ہی جاتے آج کے دور کا اے سی بھلا کہاں اس کا مقابلہ کرسکے

    Reply
  14. 15 July, 2015
    sarwat AJ

    بہت ہی خوبصورت یادیں ۔۔۔۔ اور اُتنی ہی خوبصورتی سے تحریر میں پروئی ۔۔۔
    ایک بات سے بہت مرعوب ہوئی کہ آپ واقعی ارادے کی پکی ہیں بچپن سے ہی ۔۔۔ اللہ آپ کو ہمیشہ خوش رکھے ۔۔

    Reply
    • 16 July, 2015
      اسریٰ غوری

      جزاک اللہ پیاری بہنا سچ کہا آپ نے بس یہ ایسی ہی یادیں ہیں جیسے موتیوں کی لڑیاں ایک کے ساتھ دوسری یاد جڑی ، اللہ ان ارداوں کو پورا کرتا آیا بس یہ اسکا بہت کرم کہ اس نے ہمیشہ بھرم رکھا ۔

      Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: