“ایمان کا تھرڈ کلاس درجہ “

افسوس کہ آج ہم میں ایمان کا تھڑد کلاس درجہ بھی نہیں رہا کہ ہم پہلا نہ سہی (برائی کو ہاتھ سے روکنا ) دوسرا نہ سہی ( زبان سے روکنا ) تیسرا درجہ ہی سہی ( کہ دل میں اسے برا جاننا ) اپنے دلوں میں ایمان کو کسی درجہ میں تو رہنے دیں
آج ہمارا حال یہ کہ ہم برائی سے روکنا تو درکنااسے برائی سمجھنا بھی چھوڑ چکے ہیں
آج ہم لوگ برائی کو برائی کہنے سے کیوں ٖخوفزدہ ہوتے ہیں ؟؟؟
اس لیے کہ اگر آج ہم نے اس برائی کو برائی کہا تو کل کو ہمارے لیے اس کے دروازے بند ہوجائینگے ۔۔۔۔!!!
اور اپنے لیے ” نظریہ ضرورت ” کے ان چور دروازوں کو کھلا رکھنے کے لیے ہمیں ہر برائی کو دیکھ ویسے ہی آنکھیں بند کرنی پڑتیں ہیں جیسے بلی کو دیکھ کر کبوتر آنکھیں بند کرلیتا ۔۔۔!!!!
مگر جب برائیوں کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت کیا جانے لگتا ہے تو پھر کیا ہوتا ہے
(آپ ﷺ نے فرمایا۔
”بنی اسرائیل میں جب بدکاری پھیلنی شروع ہوئی تو حال یہ تھا کہ ایک شخص اپنے بھائی یا دوست یا ہمسایہ کو برا کام کرتے دیکھتا تو اس کو منع کرتا اور کہتا کہ اے شخص خدا کا خوف کر۔ مگر اس کے بعد وہ اسی شخص کے ساتھ گھل مل کر بیٹھتا اور یہ بدی کا مشاہدہ اس کو اس بدکار شخص کے ساتھ میل جول اور کھانے پینے میں شرکت کرنے سے نہ روکتا۔ جب ان کا یہ حال ہوگیا تو ان کے دلوں پر ایک دوسرے کا اثر پڑگیا اور اللہ نے سب کو ایک رنگ میں رنگ دیا اور ان کے نبی داﺅد اور عیسیٰ بن مریم کی زبن سے ان پر لعنت کی۔“
راوی کہتا ہے کہ جب حضورﷺ سلسلہ تقریر میں اس مقام پر پہنچے تو جوش میں آکر اٹھ بیٹھے اور فرمایا:
”قسم ہے اس ذات پاک کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم پر لازم ہے کہ نیکی کا حکم کرو ار بدی سے روکو اور جس کو برافعل کرتے دیکھو اس کا ہاتھ پکڑلو اور اسے راہ راست کی طرف موڑ دو اور اس معاملہ میں ہرگز روا داری نہ برتو ورنہ اللہ تمہارے دلوں پر بھی ایک دوسرے کا اثر ڈال دے گا اور تم پر بھی اسی طرح لعنت کرے گا جس طرح بنی اسرائیل پر کی۔“
واتقوا فتنة لاتصبین الذین ظلموا منکم خاصة (انفال 25)
بچو اس فتنہ سے جو صرف انہی لوگوں کو مبتلائے مصیبت نہ کرے گا جنہوں نے تم میں سے ظلم کیا ہے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا منشا اس سے یہ ہے کہ بدی کو اپنے سامنے نہ ٹھہرنے دو‘ کیونکہ اگر تم بدی سے روا داری برتو گے اور اس کو پھیلنے دو گے تو اللہ کی طرف سے عذاب عام نازل ہوگا اور اس کی لپیٹ میں اچھے اور برے سب آجائیں گے۔ خود نبی ﷺ نے اس آیت کی تشریح اس طرح فرمائی ہے کہ:
ان اللہ لا یعذب العامة بعمل خاص عتی بردالمنکربین ظہوا نیھم وھم قادرون علی ان منکر وہ فلاینکروہ فاذا فعلوا ذالک عذاب اللہ الخاصة والعامة
اللہ خاص لوگوں کے عمل پر عام لوگوں کو عذاب نہیں دیتا مگر جب وہ اپنے سامنے بدی کو دیکھیں اور اس کو روکنے پر قدرت رکھنے کے باوجود اس کو نہ روکیں تو اللہ خاص اور عام سب ک مبتلائے عذاب کردیتا ہے۔
قوم کی اخلاقی اور دینی صحت کو برقرار رکھنے کا سب سے بڑا ذریعہ یہ ہے کہ اس کے ہر فرد میں غیرت ایمانی اور حاسہ اخلاقی موجود ہو جس کو نبی ﷺ نے ایک جامع لفظ ”حیا“ سے تعبیر فرمایا ہے۔ حیا دراصل ایمان کا ایک جز ہے جیسا کہ حضور نے فرمایا ہے: الحیاءمن الایمان بلکہ ایک موقع پر جب حضور سے عرض کیا گیا کہ حیا دین کا ایک جز ہے۔ تو آپ نے فرمایا بل ھوالذین کلہ یعنی وہ پورا ایمان ہے۔
حیا سے مراد یہ ہے کہ بدی اور معصیت سے نفس میں طبیعی طور پر انقباض پیدا ہو اور دل اس سے نفرت کرے جس شخص میں یہ صفت موجودہوگی وہ نہ صرف قبائح سے اجتناب کرے گا بلکہ دوسروں میں بھی اس کو برداشت نہ کرسکے گا۔ وہ برائیوں کو دیکھنے کا روادار نہ ہوگا۔ ظلم اور معصیت سے مصالحت کرنا اس کے لئے ممکن نہ ہوگا۔ جب اس کے سامنے قبائح کا ارتکاب کیا جائے گا تو اس کی غیرت ایمانی جوش میں آجائے گی اور وہ اس کو ہاتھ سے یا زبان سے مٹانے کی کوشش کرے گا یا کم از کم اس کا دل اس خواہش سے بے چین ہو جائے گا کہ اس برائی کو مٹا دے۔
من رامنکم منکرا فلیغیرہ بیدہ فان لم یستطع فبلسانہ قان لم یستطع فبقلبہ و ذالک اضعف الایمان
تم میں سے جو کوئی بدی کو دیکھے وہ اسے اپنے ہاتھ سے مٹا دے اور اگر ایسا نہ کرسکتا ہو تو زبان سے اور اگر یہ بھی نہ کرسکتا ہو تو دل سے اور یہ ضعیف ترین ایمان ہے۔
جس قوم کے افراد میں عام طور پر یہ صفت موجود ہوگی اس کا دین محفوظ رہے گا اور اس کا اخلاقی معیار کبھی نہ گرسکے گا‘ کیونکہ اس کا ہر فرد دوسرے کے لئے محتسب اور نگراں ہوگا اور عقیدہ و عمل کے فساد کو اس میں داخل ہونے کے لئے کوئی راہ نہ مل سکے گی۔
قرآن مجید کا قصد دراصل ایسی ہی یک آئیڈیل سوسائٹی بنانا ہے جس کا ہر فرد اپنے قلبی رجحان اور اپنی فطرت غیرت و حیا اور خالص اپنے ضمیر کی تحریک پر احتساب اور نگرانی کا فرض انجام دے اور کسی اجرت کے بغیر خدائی فوجدار بن کر رہے۔
وکذلک جعلنکم امة وسطا لتکونوا شہدا علی الناس ویکون الرسول علیکم شہیدا (البقرہ 143)
اور اس طرح ہم نے تم کو ایک عادل اور متوسط امت بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر نگراں رہو اور رسول تم پر نگراں رہے۔
اسی لئے بار بار مسلمانوں کو بتایا گیا ہے کہ نیکی کا حکم دینا اور بدی سے روکنا تمہارا قومی خاصہ ہے جو ہر مومن مرد اور عورت میں مستحقق ہونا چاہیے۔
کنتم خیر امة اخرجت للناس تامرون بالمعروف وتنھون عن المنکر و تومنون باللہ (آل عمران 110)
تم بہترین قوم ہو جسے لوگوں کے لئے نکالا گیا ہے تم نیکی کا حکم کرتے ہو بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔
والمومنون والمومنت بعضھم اولیا بعض یامرون بالمعروف وینھون عن المنکر (توبہ 71)
مومن مرد اور عورتیں ایک دوسرے کے مددگار ہیں نیکی کا حکم کرتے اور بدی سے روکتے ہیں۔
الامرون بالمعروف والناھون عن المنکر و الحفظون لحدود اللہ (توبہ 112)
وہ نیکی کا حکم کرنے والے اور بدی سے روکنے والے اور حدود الٰہی کی حفاظت کرنے والے ہیں۔
الذین ان مکنھم فی الارض اقاموا الصلوٰة و اتوا الذکوة و امروا بالمعروف و نھوا عن المنکر (حج 41)
یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اگر ہم زمین میں حکومت بخشیں گے تو یہ نماز قائم کریں گے زکوٰة دیں گے نیکی کا حکم کریں گے اور بدی سے روکیں گے۔
اگر مسلمانوں کا یہ حال ہو تو ان کی مثال اسی بستی کی سی ہوگی جس کے ہر باشندے میں صفائی اور حفظان صحت کا احساس ہو۔ وہ نہ صرف اپنے جسم اور اپنے گھر کو پاک صاف رکھے‘ بلکہ بستی میں جہاں کہیں غلاظت اور نجاست دیکھے اس کو دور کردے‘ اور کسی جگہ گندگی و کثافت کے رہنے کا روادار نہ ہو۔ ظاہر ہے کہ ایسی بستی کی آب و ہوا پاک صاف رہے گی۔ اس میں امراض کے جراثیم پرورش نہ پاسکیں گے اور اگر شاذو نادر کوئی شخص کمزور اور مریض الطبع ہوگا بھی تو اس کا بروقت علاج ہو جائے گا‘ یا کم از کم اس کی بیماری محض شخصی بیماری ہوگی‘ دوسروں تک متعدی ہو کر وبائے عام کی صورت نہ اختیار کرسکے گی۔
لیکن اگر مسلمانوں کی قوم اس بلند درجہ پر نہ رہ سکے تو سوسائٹی کی دینی و اخلاقی صحت کو برقرار رکھنے کے لئے کم از کم ایک ایسا گروہ تو ان میں ضرور موجود رہنا چاہئے جو ہر وقت اس خدمت پر مستعد رہے اور اعتقاد کی گندگیوں اور اخلاق و اعمال کی نجاستوں کو دور کرتا رہے۔
ولتکن منکم امة یدعون الی الخیر ویامرون بالمعروف وینھون عن المنکر (آل عمران 104)
تم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہئے جو بھلائی کی طرف بلانے والی ہو‘ نیکی کا حکم دے اور بدی سے روکے۔
یہ جماعت علماءاور اولوالامر کی جماعت ہے جس کا امربالمعروف و نہی عن المنکر میں منہمک رہنا اتنا ہی ضروری ہے جتنا شہر کے محکمہ صفائی و حفظان صحت کا اپنے فرائض میں مستعد رہنا ضروری ہے۔ اگر یہ لوگ اپنے فرض سے غافل ہو جائیں اور قوم میں ایک جماعت بھی ایسی باقی نہ رہے جو خیر و صلاح کی طرف دعوت دینے والی اور منکرات سے روکنے والی ہو تو دین و اخلاق کے اعتبار سے قوم کی تباہی اسی طرح یقینی ہے جس طرح جسم و جان کے اعتبار سے اس بستی کی ہلاکت یقینی ہے جس میں صفائی و حفظان صحت کا کوئی انتظام نہ ہو۔ اگلی قوموں پر جو تباہیاں نازل ہوئی ہیں وہ اسی لئے ہوئی ہیں کہ ان میں کوئی گروہ بھی ایسا باقی نہ رہا تھا جو ان کو برائیوں سے روکتا اور خیر وصلاح پر قائم رکھنے کی کوشش کرتا۔
فلولا کان من القرون من قبلکم اولو بقیة ینھون عن الفساد فی الارض الاقلیلا ممن انجینا منھم (ہود 116)
تم سے پہلی قوموں میں کم از کم ایسے اہل فضل ہی کیوں نہ ہوئے جو زمین میں فساد سے روکنے والے ہوتے‘ بجز چند آدمیوں کے جن کو ہم نے ان میں سے بچا کر نکال دیا۔
لولاینھھم الربنیون والاحبار عن قولھم الاثم واکلھم السحت (المائدہ 63)
کیوں نہ ان کے علماءاور مشائخ نے ان کو بری باتیں کہنے اور حرام خوری کرنے سے باز رکھا؟
پس قوم کے علماءو مشائخ اور اولوالامر کی ذمہ داری سب سے بڑی ذمہ داری ہے وہ صرف اپنے ہی اعمال کے جواب وہ نہیں بلکہ پوری قوم کے اعمال کی جواب دہی بھی ایک بڑی حد تک ان پر عائد ہوتی ہے۔ ظالم‘ جفاہ اور عیش پسند امراءاور ایسے امراءکی خوشامدیں کرنے والے علماءو مشائخ کا توخیر کہنا ہی کیا ہے‘ ان کا جو کچھ حشر خدا کے ہاں ہوگا اس کے ذکر کی حاجت نہیں۔ لیکن جو امراءاور علماءو مشائخ اپنے محلوں اور اپنے گھروں اور اپنی خانقاہوں میں بیٹھے ہوئے زہدو تقویٰ اور عبادت و ریاضت کی داد دے رہے ہیں وہ بھی خدا کے ہاں جواب دہی سے بچ نہیں سکتے۔ کیونکہ جب ان کی قوم پر ہر طرف سے گمراہ اور بد اخلاقی کے طوفان امڈے چلے آ رہے ہوں۔ تو ان کا کام یہ نہیں ہے کہ گوشوں میں سرجھکائے بیٹھے رہیں‘ بلکہ ان کا کام یہ ہے کہ مرد میدان بن کر نکلیں اور جو کچھ زور اور اثر اللہ نے ان کو عطا کیا ہے اس کو کام میں لا کر اس طوفان کا مقابلہ کریں۔ طوفان کو دور کرنے کی ذمہ داری بلاشبہ ان پر نہیں‘ مگر اس کے مقابلہ میں اپنی پوری امکانی قوت صرف کر دینے کی ذمہ داری تو یقیناً ان پر ہے۔ اگر وہ اس میں دریغ کریں گے تو ان کی عبادت و ریاضت اور شخصی پرہیز گاری ان کو یوم الفصل کی جواب دہی سے بری نہ کردے گی۔ آپ محکمہ صفائی کے اس افسر کو کبھی بری الذمہ قرار نہیں دے سکتے جس کا حال یہ ہو کہ شہر میں وبا پھیل رہی ہو‘ اور ہزاروں آدمی ہلاک ہو رہے ہوں‘ مگر وہ اپنے گھر میں بیٹھا خود اپنی اور اپنے بال بچوں کی جان بچانے کی تدبیر کر رہا ہو۔ عام شہری اگر ایسا کریں تو چنداں قابل اعتراض نہیں لیکن محکمہ صفائی کا افسر ایسا کرے تو اس کے مجرم ہونے میں شک نہیں کیا جاسکتا۔
)ترجمان القرآن ۔ ذی الحجہ 53ھ مارچ 35ئ(

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: