“آؤ ۔۔۔ بدلیں پاکستان”

تحریر : شہزاداسلم مرزا

عموماً دیکھنے میں آتا ہے کہ جب کسی فیملی کے سر سے سربراہ کا سایہ اٹھ جاتا ہے اور وہ بے سہارا اور بے وزن ہوجاتی ہے تو اس فیملی کے مستقبل کے فیصلے گلی، محلے، چوراہوں یا کسی وڈیرے کے ڈیرے پر ہونے لگتے ہیں ۔ اور ان کی جان ، مال ،عزت وآبرو کی حرمت کی قیمت وہی طے پاتی ہے جو ان بڑوں کے ڈیروں پر ان کے مخصوص مقاصد سے مشروط ہو الہ یہ کہ اسی فیملی میں سے کوئی غیرت مند اور خودار فرد اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے فیصلوں کا اختیاز فیملی سے باہر جانے ہی نہ دے۔
بدقسمتی سے پاکستان کا بھی اس وقت حال اس بے سہارا فیملی جیسا ہی ہے جب سے بانیان پاکستان اس دنیا سے رخصت ہوئے پاکستان بھی بے آسرا اور بے وزن ہو چکا ہے اور اسے بھی ایسے غیرت مند لیڈرز و رہنما میسر ہی نہیں آئے جو اس ملک کی تقدیر کے فیصلے اسی ملک میں اور ملک کے مفاد میں کر سکیں۔اور پھر نتیجہ بھی یہی نکلا کہ اس ملک کی تقدیر کے فیصلے اس دنیا کے وڈیروں نے اپنے ہاتھ لے لیئےجنہوں نے اپنے مخصوص ایجنڈوں اور مقاصد کے تحت پاکستان کو چلنے پر مجبور کر دیا ۔
ان مفاد پرست وڈیروں نے پاکستان کے آغاز پر ہی معاشی مشکلات سے نکلنے کے لیئے حکمرانوں کو IMF کی چوکھٹ پر ایسا سجدہ ریز کروایا کہ ملک معاشی خودمختاری کے تصور کو ہی بھول گیا اور آج تک نہ صرف معاشی بلکہ تعلیمی پالیسی بھی IMF کی مرضی و منشا کے مطابق بنانے پر مجبور دیکھائی دیتا ہے۔
اورکبھی دنیا کے وڈیروں نے پاکستان انڈیا کے درمیان پانی کا مسئلہ حل کروانے کے لیئے سندھ طاس معائدہ کروایا جس کی عملی تعبیر یہ نکلی کہ پنجاب 5 دریاؤں کی سرزمین اپنے تقریبا 3 دریاؤں سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے اور پاکستان کی زراعت تباہی سے دوچار ہے وہ معائدہ نہیں بلکہ پاکستان کے دریاؤں کی بندربانٹ ثابت ہوا۔
اسی طرح اپنوں کی نااہلیت اور دنیا کے چوہدریوں کی چالبازیوں اور یقین دہانیوں پر اعتبار کی قیمت پاکستان کو مقبوضہ کشمیر کی طرح مشرقی پاکستان سے ہاتھ دھو کر چکانا پڑی۔
جب کبھی دنیا روس کے دانت توڑنے کا فیصلہ کرتی ہے تو سب کی نظریں پاکستان کو تلاشنا شروع کر دیتی ہیں اور ہمارے حکمران سوچے سمجھے اور باقائدہ کوئی معائدہ کیئے بغیر اس جنگ میں کود پڑتے ہیں حالانکہ پاکستان کی دینی و سیاسی جماعتیں اسے اسلامی و نظریاتی سطح پر جہاد سمجھ کر مقابلہ کرنے کا بالکل ٹھیک فیصلہ کرتی ہیں مگر انہیں کیا پتا حکمرانوں کی سطح پر اس جنگ مطمع نظر محض ڈالرز تھے نہ کہ نظریاتی اشو۔
امریکہ اور سعودی عرب نے پہلے دنیا بھر سے مجاہدین تیار کرکے پاکستان کے ذریعے افغانستان بھجوائے اور جب مجاہدین کی ایک کھیپ تیار ہو گئی اور مقاصد حاصل ہو گئے تو انہیں ممالک سے نیا حکم ملا کہ اب ان مجاہدین کو دہشتگرد ڈیکلئر کرو تو ایک ہی کال پر خوفزدہ حکمران نے یوٹرن لیا اور حکم کی تعمیل کر دی ان منافقانہ اور تضادات سے بھرپور پالیسیوں کی پیروی نے پاکستان کو ایک ایسی دلدل میں پھنسا دیا کہ 70 ہزار کے قریب پاکستانیوں کی قربانیوں کے بعد بھی نجات کی کوئی راہ نظر نہیں آ رہی۔
افسوس یہ ہے کہ معاملہ اسی پر ختم نہیں ہوا بلکہ پاکستانی حکمرانوں نے بھی اسی وطیرے کو اپنا لیا اور ملک کے پولیٹیکل فیصلے بھی بیرون ملک بیٹھ کر ہونے لگے۔ کبھی ہم نے APDM کا اجلاس نوازشریف کی قیادت میں برطانیہ میں ہوتے دیکھا جس کے بطن سے Charter of Democracy for Pakistan جیسے معائدے نے جنم لیا اور پھر پرویز مشرف اور بےنظیر کے درمیان خفیہ ملاقاتوں کا سلسلہ بھی امریکہ کی سرپرستی میں بیرون ملک دبئی میں شروع ہوا جس کا نتیجہ بدنامےزمانہ NRO کی شکل میں سامنے آیا جس کی بدولت سے ایک کرپٹ، بدکردار اور قاتل زرداری پاکستان کا صدر قرار پایا۔
اور اب بھی جب دہشتگردی اور کرپشن کے خلاف پوری قوم متحد ہوتی دیکھائی دے رہی ہے اور بےشمار دہشتگردوں کے خلاف اقدام کے بعد معاشی دہشتگردوں پر ہاتھ ڈالا گیا ہے تو پیپلزپارٹی اور ایم کیوایم کی قیادت ملک سے مفرور ہو گئی ہے اور سندھ اور کراچی کی تقدیر کے فیصلے دوبارہ دبئی اور برطانیہ میں ہوتے ہوئے نظر آ رہے ہیں مگر سوال یہ ہےکہ ایسا کب تک چلے گا ؟
کب تک ہم ان کرپٹ حکمرانوں کو برداشت کریں گے جن کی نہ صرف جائیدادیں اور بزنسز بیرون ملک ہیں بلکہ بچے بھی وہیں ہیں ,
کب تک ہم ایسے حاکم منتخب کرتے رہیں گے جو صرف حکمرانی کرنے کے وقت پاکستان آتے ہیں حکمران نہ ہوں تو سعودی عرب، دبئی یا برطانیہ رہنا پسند کرتے ہیں,
ہم کب تک لسانی ، علاقائی اور قوم پرستی کے نعروں کے آگے جھکتے رہیں گے,
اور ہم کب تک 30 سالوں سے مسلسل اقتدار میں رہنے والے بار بار آزمائے ہوئے سوداگروں ، صنعت کاروں اور جاگیرداروں کو مزید آزماتے رہیں گے۔
کیا وہ وقت آ نہیں گیا کہ ہم بحیثیت مجموعی قوم ذلت ، بےغیرتی اور غلاموں کی طرح بیرون ممالک اور ان کے کارندوں کے فیصلے قبول کرنے کی بجائے ایک باعزت ، غیرت مند اور آزاد قوم کی طرح اپنی تقدیروں کے فیصلے اپنے ہاتھ میں لے لیں جس کا آسان ترین راستہ نڈر، بےخوف، کرپشن سے پاک اور وژنری قیات کا انتخاب ہے تاکہ ہم پاکستانی بھی سربلند کر کے ایک آزاد، خودمختار اور غیرت مند قوم کے طور پر دنیا کا سامنا کرسکیں۔ ذراسوچو

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: