” زمانہ آیا ہے بے حجابی کا “

تحریر:  بلال ساجد

کہانی آپ الجھی ہے یا کسی دانا کے جان بوجھ کر الجھائی ہے، کچھ بھی ہو لیکن ایشو یہ بنا ہوا ہے کہ طالبہ نے نقاب کیا ہوا تھا اور گورنمنٹ کالج لاہور نے داخلہ دینے سے انکار کر دیا۔ اس حوالے سے اب تک جتنا مواد بھی میری نظر سے گزرا ہے اُس میں گورنمنٹ کالج لاہور کا موقف نہیں ہے بلکہ صرف یہ شکوہ کہنے والی طالبہ کی ایک انگریزی کی تحریر، اُسی طالبہ کی ایک ویڈیو اور کچھ احباب کی جانب سے کی جانے والی فیس بک پوسٹس ہیں! پہلی گزارش تو یہ کہ گورنمنٹ کالج لاہور کی انتظامیہ کا موقف آنا چاہیئے بلکہ لیا جانا چاہیئے کہ کیا اُن کی ہاں یہ بات پالیسی کے طور پہ اپنائی گئی ہے کہ چہرے کا پردہ کرنے والی لڑکیوں کو داخلہ نہیں دیا جائے گا؟ اگر ایسا ہے تو اس پالیسی کی وضاحت بھی انہی کی جانب سے کی جانی چاہیئے۔ لیکن اگر یہ پالیسی نہیں ہے اور امکان غالب ہے کہ یہ بات پالیسی کا حصہ نہیں ہو گی تو اس حوالے سے تحقیق کرنی چاہیئے کہ آیا یہ سارا معاملہ ایڈمیشن کمیٹی کے چند اساتذہ کی رائے یا اُس لمحہ موجود کی صورتحال کا نتیجہ ہے تو انتظامیہ اس کے ساتھ کیسے نمٹے گا؟ دوسری گزارش یہ کہ ہم بنیادی طور پہ سطحی جذباتیت کی ماری قوم ہیں، بے تحاشا محبت اور انتہا پسندانہ نفرت ہمارے مزاج کا حصہ ہیں، ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ حساس موضوعات پہ جیسے ہی بات شروع کی جاتی ہے تو ہم یوں جھٹکا کھا کر پیچھے ہوتے ہیں جیسے کسی نے گیارہ ہزار وولٹ کا کرنٹ مار دیا ہو، اور اگر بات ہمارے تعصبات اور وابستگی کے دائرے سے باہر کی ہو تو پھر تو اُس کے سنے جانے کا کوئی امکان ہیں نہیں بچتا، کجا کہ اُسے سمجھنے کی کوشش کی جاوے۔ ایسے ہی چند موضوعات میں سے ایک پردہ یا حجاب بھی ہے۔ حجاب لینا یا نہ لینا آپ کی مرضی پہ منحصر ہے لیکن جس طرح آپ کو زبردستی برقعہ پہنانا میرے دائرہ اختیار میں نہیں آتا اسی طرح کسی کا زبردستی برقعہ اتروانا بھی آپ کے دائرہ اختیار سے باہر کی چیز ہے۔ اس حوالے سے اس اصولی موقف کی تائید کی جانی چاہیئے کہ اگر کوئی طالبہ میرٹ کی بنیاد پہ کہیں داخلہ لینے کی صلاحیت رکھتی ہے تو اس کے “حجاب آلود” چہرے کو بنیاد بنا کر اپنی حجاب بیزار سوچ کی آلودگی پھیلانے سے گریز واجب لیکن ۔۔۔ تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی ہے اور یہ حوالہ ضرورت سے زیادہ تلخ ہے۔ ہمارے آس پاس حجاب کا استعمال بہت سے ایسے کاموں کے لیے ہوتا ہے جو کم سے کم درجے میں بھی کرپشن، چوری اور بد دیانتی کے زمرے میں آتے ہیں ۔۔۔ مثال کے طور پہ حجاب لیکر (اور یہاں حجاب سے مراد چہرے کا پردہ ہے) کسی دوسری طالبہ کی جگہ امتحان دینا وغیرہ ۔۔۔ یہ صرف ایک مثال ہے ۔۔۔ اس معاملے کی باقی پرتیں بھی کھولی جا سکتی ہیں لیکن اس حوالے سے کوئی قابل عمل حل نظر آنا چاہیئے؟ ۱۔ چہرے کے پردے کے حوالے سے علماء کی رائے میں اختلاف ہے ۔۔۔ اگر کہیں ضرورت پڑے تو رخصت والی رائے استعمال کرنے میں شاید کوئی حرج نہ ہو؟ ۲۔ جہاں مسائل ضرورت سے زیادہ ہوں، وہاں خواتین کے لیے علیحدہ سے Face Identification Room بنایا جا سکتا ہے؟ ۳۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں خواتین کی اکثریت مخلوط نظام تعلیم کی وجہ سے اپنی تعلیم جاری نہ رکھ سکتی ہو وہاں مخلوط نظام تعلیم کی ضد کیوں؟ وہ لوگ جو فکری معاملات میں مغرب کو اپنا راہنما سمجھتے ہیں اُن کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ اب تو وہاں بھی مخلوط نظام تعلیم کے نقصانات پہ بحث و مباحثہ شروع ہو چکا۔ حرف آخر ۔۔۔ حجاب کے ایشو پہ سطحی جذباتیت بیچنے کی بجائے مسئلہ سمجھنے اور مسئلہ حل کرنے پہ غور کرنا چاہیئے۔ شکریہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: