“اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے اور چائے کی پیالی میں طوفان”

تحریر : اسریٰ غوری

 آج کل ہم جس میڈیائی دور میں سانس لے رہے ہیں وہاں آئے روز نت نئے طوفانوں کا اٹھنا کوئی اچنبھے کی بات نہیں رہی اور اکثر طوفان تو چائے کی پیالی میں اٹھائے جاتے ہیں جن کے آگے پیچھے کچھ نہیں ہوتا مگر طوفان ایسے کھڑا کر دیا جاتا ہے جیسے کہ بس یہ طوفان ہی سب کچھ ہے ۔
ایسا ہی ایک طوفان اس وقت اٹھایا گیا جب پیر کو اسلام آباد میں مولانا امحمد خان شیرانی کی سربراہی میں اسلامی نظریاتی کونسل کے دو روزہ اجلاس میں پیما اسلام آباد کی جانب سے ایک لمبا سوال نامہ موصول ہوا جس میں ایک سوال جس میں چہرے کے پردے کے استفسار پر دئے گئے ایک جواب میں اٹھایا جارہا ہے جس میں مولانا محمد خان کہ جانب سے یہ موئقف دیا گیا کہ چونکہ برصغیر پاک و ہند میں ایک بڑی تعداد فقہ حنفیہ سے تعلق رکھتی ہے جن کا مسلک یہ ہے کہ چہرے اور ہاتھ پاؤں کا پردہ مستحب ہے اس پراجلاس میں موجود تمام علماء کرام کی بحث ہوئی اس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے ا مولانا محمد خان شیرانی صاحب نے اجلاس کی باقی تمام کاروائی اور سفارشات کیساتھ یہ موئقف کی بیان کیا کہ چہرے اور ہاتھ پاؤں کا پردہ مستحب ہے لیکن جہاں فتنے کا اندیشہ ہو وہاں چہرے کا پردہ واجب ہے ۔ جس کو ہمارے ملک بھر کے اخبارات اور میڈیا نے حسب توقع اور حسب معمول چائے کی پیالی میں طوفان کھڑا کردیا اور ان کے اس موئقف کو ایسا توڑ مروڑ کے پیش کیا جارہا ہے کہ اس کے ساتھ اور جتنے اہم فیصلے اور سفارشات نظریاتی کونسل کی جانب سے تھیں وہ سب پس پشت ڈال دی گئیں جن میں کچھ درج ذیل ہیں ۔
اسلامی نظریاتی کونسل نے حکومت سے مخلوط نظام تعلیم کو ختم کرنے کی سفارش کردی ہے۔
اسلامی نظریاتی کونسل نے قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کونسل تمام اداروں کے ساتھ خط وکتابت اردو میں کرے گی ، انگریزی زبان میں خط وکتابت سے کونسل معذرت کرلے گی۔
مقابلے کے امتحان اردو کے بجائے انگریزی میں کرانے کا فیصلہ آئین اورسپریم کورٹ کے فیصلے کی توہین ہے ۔
ملازمین سے حج فنڈز کے نام پرجمع کی گئی رقم کسی کاروبار میں نہیں لگائی جا سکتی۔
محرم میں تمام مسالک کے علماء اورعوام پرامن رہیں، جلسے اورجلوسوں میں فرقہ وارانہ امور کے ارتکاب سے اجتناب کیا جائے ۔
اگر خاوند مرتد ہو جائے تو مسلمان بیوی سے نکاح فی الفورفسخ ہو جائے گا اور عدالتی حکم کی ضرورت نہیں ہو گی۔ مولانا محمد خان شیرانی نے کہا کہ پردہ اور حجاب شرعی حکم ، پابندی ضروری ہے ، دفاتر اور ادارے جہاں مرد و زن کی اختلاطی صورتیں ہوں وہاں چہرے کا پردہ واجب ہے ، ضرورت اور فتنہ یا اندیشہ نہ ہو تو چہرہ، ہاتھ اور پاؤں سے پردہ ہٹانے کی گنجائش ہے ۔
مخلوط تعلیم نہ ہماری ضرورت ہے اور نہ ہی شرعی اصولوں کے مطابق ، لڑکوں اور لڑکیوں کے لئے الگ نظام تعلیم بنانے کی ضرورت ہے ۔
دو خواتین یونیورسٹیوں کے قیام سے متعلق سابق صدر ضیا الحق کے اعلان کو عملی جامہ پہنایا جائے اور مخلوط نظام تعلیم ختم کیا جائے ۔
عورت کے حقوق کے تحفظ کے لئے مسلم تنسیخِ نکاح ایکٹ کے حوالے سے کونسل کی سفارشات سے مسلم تنسیخ نکاح ایکٹ 1939ء میں ترمیم کی جائے ۔
کونسل نے ایکٹ 8 مجریہ 1939ء کی دفعہ 2 میں اضافے تجویز کیے ہیں، جن میں ایلاء، اظہار، مباراۃ اورارتداد شامل ہیں، خاوند مرتد ہو جائے تو اس کا مسلمان بیوی سے نکاح فی الفورفسخ ہوجائے گا، فسخ نکاح کے لیے عدالتی حکم کی ضرورت نہیں۔
پاکستان میں چھپنے والے مصاحف قرآنیہ رسم عثمانی کے موافق اور صحیح ہیں، مثالی نسخہ کے نام سے قرآن کریم نہ چھاپا جائے ، چیئرمین قرآن بورڈ کو بلا کر ان کا مؤقف سنا جائے ، کونسل کی اداروں کے ساتھ خط و کتابت اردو میں ہو گی، انگریزی زبان میں خط و کتابت سے کونسل معذرت کرلے گی۔
کابینہ ڈویژن کا سیکریٹریز کمیٹی کے اجلاس میں مقابلے کا امتحان انگریزی میں کرانے کا فیصلہ آئین اورسپریم کورٹ کے فیصلے کی توہین ہے ۔ بچوں کو جسمانی سزا دینے کے امتناع سے متعلق کونسل کا تیارہ کردہ بل دوبارہ پارلیمنٹ کوارسال کیاجائے گا۔
علاوں ازیں اجلاس میں سودی نظام کے خاتمے، جائیداد میں خواجہ سراؤں کا حق، بحریہ یونیورسٹی کی طرف سے میڈیکل کالجز کے نصاب سے اسلامیات اور مطالعہ پاکستان کے لازمی مضامین نکالنے، نجی اسکولوں میں خواتین اساتذہ پر اسکارف اور دوپٹے کے استعمال پر پابندی سمیت بہت سے امور کا جائزہ لیا گیا ۔
واضع رہے کہ اسی اسلامی نظریاتی کونسل میں انیس علماء کرام کے ساتھ ایک خاتون رکن سمیحہ راحیل قاضی بھی اس وقت اجلاس میں موجود تھیں جب ان سے اس معاملے پر ان کا موئقف پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ میں جس خاندان اور جماعت سے تعلق رکھتی ہوں وہاں چہرے کے پردے کو فرض قرار دیا جاتا ہے جس پر میں خود عمل پیرا ہوتے ہوئے چہرے کا نقاب کرتی ہوں۔
لیکن ! موجودہ حالات میں میڈیا کے برپا کردہ اخلاق باختہ ماحول میں جو لوگ صرف چہرے کا پردہ نہیں بھی کرتے ان کو بے حجاب نہ سمجھا جائے اور نہ ہی انہیں بے پردہ کہا جائے ہمیں سنت نبویﷺ پر عمل کرتے ہوئے خود عزیمت کی راہ اختیار کرتے ہوئے دوسروں کو رخصت دینے کا معاملہ اختیار کرنا چاہیے ۔
اس ساری صورتحال کو سامنے رکھا جائے تواپنے میڈیا کے کردار پر شرم آنے کے سواء کچھ نہیں کیا جاسکتا کہ اسکا کردارماضی میں بھی ہمیشہ اس مکھی جیسا رہا ہے جو سارے جسم کو چھوڑ کر صرف زخم کو چنتی ہے ایسے ہی میڈیا نے ہمیشہ ان ایشوز کو اچھالااور ان میں ابہام پیدا کرنے کی کوشش کی اور ان کے ذریعے سے عوام کی باقی تمام اہم ایشوز سے توجہ ہٹا دی جائے ۔ کسی بھی معاشرے میں اچھے ماحول کو پروان چڑھانے کے لیے میڈیا کا بہت اہم رول ہوتا ہے آج ہمارے میڈیا کو ہر حوالے سے اپنے اس رول کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: