“قوم کی بیٹی کی شہادت”

تحریر : اسریٰ غوری

صبح سے ہی ہر جانب اک شور مچا ہوا تھا ایک ٹرینی پائلیٹ مریم مختیار ٹرینگ کے دوران طیارہ گرنے سے شہید ہوگئی شام ہوئی تو پتا چلا کرنل مختیارر تو ہمارے ہی پڑوس میں دو گلیاں چھوڑ کر جو نئے اپارٹمنٹس بنے تھے ان میں شفٹ ہوئے ہیں اسی وقت کچھ ساتھی بہنوں کو فون کیا اور اسکے گھر تعزیت کیلیے ساتھ چلنے کا کہا۔
دور ہی سے فیلٹ کے نیچے لگا شامیانہ نظر آگیا ہم فلیٹ میں داخل ہوئے تو خواتین سے بھرا ہوا تھا اور سب کھجور کی گٹھلیوں پر کلمہ کا ورد کررہے تھے پاس ہی ایک افسردہ سی خاتون ( جو اسکی خالہ تھیں ) جن کےچہرے پر کرب نمایاں تھا مگر لہجہ میں صبر بس مریم ہی کی باتیں کیے جارہیں تھیں کرنل بختیار کی لاڈوں کی پلی مریم تین بہن بھائیوں میں اسکا دوسرا نمبر تھا ۔
اس کے بابا نہیں بھیج رہے تھے کہ تم نہ جاو ائیر فورس میں کوئی اور فیلڈ چن لو مگر اسے ضد کی کہ نہیں مجھے جنگی ٹرینیگ ہی لینی ہے ائیرفورس ہی جوائین کرنی ہے اور اسکے بعد ایک کے بعددوسرے ہر امتحان میں کامیابی پاکر اس نے ائیر فورس جوائن کر لی اور ابھی تو اسکی ٹرینگ مارچ میں ختم ہونی تھی ۔۔۔
یہ گھر جب خریدا تو مریم نے کہا بابا میرےآنے سے پہلے میرا روم بہت اچھا ڈیکوریٹ کرواکر رکھیں ۔۔
ہم مریم کے کمرے میں کھڑے تھے ۔۔۔
سامنے پر بے بی پنک کلر کا چھوٹے چھوٹے پھولوں کے وال پیپر سجی دیوا ر سلور کیساتھ مرجنڈہ کا کنٹراسٹ کیا فرنیچر خالہ اپنا دکھ اپندر ہی دباتے ہوئے بولیں یہ فرنیچر اس کے بابا نے اس کے لیے خاص چنیوٹ سے بنوایا ابھی تو سامنے والی ونڈو پر جو ویلویٹ کا پردہ لگنا تھا اسکی بیس صرف تیار ہوکر آئی تھی ۔۔۔
مریم نے تو ابھی یہ گھر اپنا کمرہ کچھ بھی نہیں دیکھا تھا ۔۔۔
سب ادھورا رہ گیا تھا اور مریم جس نے دسمبر کی چھٹیوں میں آنا تھا وہ تو وقت سے پہلے ہی آرہی تھی ۔۔۔۔
مگر وقت سے پہلے ہی جانے کیلیے ۔۔۔
ہم نے اسکی خالہ اور گھر والوں کو اپنا تعارف کروایا کہ ہم جماعت اسلامی کی جانب سے آئے ہیں اورآپ کا یہ غم اس وقت پورے ملک کا غم ہے اور اللہ نے مریم کو جو مرتبہ دیا اللہ اسے آپ سب کے لیے آخرت میں توشہ بنادے اورآپ سب کو صبر جمیل عطا کرے ۔ وہ ہمارے آنے کی بہت مشکور تھیں اور دعائیں دینے لگیں ۔
گو ایسے مواقعوں پر تسلی کےالفاظ بہت بھاری ہوا کرتے ہیں مگر شہید کے گھر والوں کو اللہ ایک کی جانب سے اک حوصلہ اور صبر عطا کردیا جاتا ہے ۔
اس کی ڈیڈ باڈی کا انتظار کیا جارہا تھا اسکے والدین فیصل بیس اسکی ڈیڈ باڈی رسیو کرنے گئے تھے ۔۔۔ اور میں اسکے بیڈ پر ہاتھ رکھے یہی سوچے جارہی تھی کہ اسے یہ سب دیکھنا بھی نصیب نہ ہوا ۔۔
اللہ اسکی شہادت کو قبول فرمالیں اور اسے اس سے بہتر مقام عطا فرمائیں ، اتنی چھوٹی سی عمر میں شہادت کا درجہ پالینا بھی کسی کسی کو نصیب ہوتا ہے ۔
کہ یہ زندگی تو عارضی زندگی جس کے اگلے اک پل کا بھی ہمیں نہ پتا نہ ہی گارنٹی مگر ہماری پلاننگ میں صرف اک موت ہی نہیں ہوتی باقی تو سب ہی کچھ ہوتا ہے اور وہی موت ہمارے ہر پلاننگ کو لمحوں میں نگل جاتی ہے ۔

1 Comment
  1. 25 November, 2015
    نعمان یونس

    اللہ انہیں جنت الفردوس میں جگہ دے۔
    واقعی ہماری صرف موت کی ہی پلاننگ نہیں ہوتی۔۔۔

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: