ایمان کے بعد بہترین متاع نیک بیوی

تحریر : اسریٰ غوری

ابھی تو بھانت بھانت کے بیانیوں کے گرداب سے ہی نہ نکل پائے تھے کہ اچانک ہی ایک اور شور اٹھ کھڑا ہوا اور اس بار تو شور بھی مظلوم و مسکین سی ذات “عورت ” کے گرد گھوم رہا تھا
” پنجاب اسمبلی میں خواتین کے تحفظ کا بل منظور”
شور بھی ایسا کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دے
۔۔ایک طرف ماروی سرمد جیسی عورتوں کی اچھل کود دکھائی دے رہی تھی تو دوسری جانب جھاگ اگلتے محترم علماء کرام
معاف کیجیے گا کہ دونوں جانب سے ایک سا ہی معاملہ نظر آرہا تھا
اب سیکولر اور لبرلز کی اودھم تو سمجھ آتی ہے کہ انہوں نے بڑی محنت سے ایک شوہر کو کڑا پہنا کر بیوی کے قریب آنے پر ہی پا بندی لگوادی تو اس پر انکا یوں خوشیاں منانا تو سمجھ آتا ہے آپ ہی بتایئے جب بیوی کے قریب آنے پر ہی پا بندی لگوادی جائے گی تو اب وہ کہاں جائے گا ۔۔۔
مگر افسوس تو یہ کہ علماء کرام کا کردار بھی کوئی قابل فخر نہیں نظر آیا ۔۔
زن مرید اسمبلی یا کسی عورت کو سر عام فاحشہ کہنا آپ کو زیب نہیں دیتا تھا دوسروں کو لعن طعن کرنے سے پہلے ذرا اتنا سوچیئے کہ صاحب یہ جو کچھ ہوا اس میں آپ کی ذمہ داری یہی لعن طعن ہی تھی یا کچھ اور بنتی تھی آپ کا کام کچھ اورتھا حضور کھنگا لیے تو سہی کہ کیا آپ نے اپنا وہ کام سر انجام دیا کہ نہیں ؟؟؟؟
زن مرید یا فاحشہ کہنے دینے کے بعد آپ پتلی گلی سی نکل لیں گے کہ اللہ جی ہم نے بھی تیرے قانون کے ساتھ مذاق کرنے والوں کی وہ درگت بنائی۔۔ کیا یہ کہہ کر چھوٹ سکیں گے آپ ؟؟؟
آپ کا کام یہ تھا کہ آپ ایسے وقت میں لوگوں کو حقیقت سے آگاہ کرتے کہ جو قانون آج بنایا گیا اس سے لاکھ درجہ بہتر قانون رب اپنی آسمانی کتاب میں چودہ سو سال پہلے نازل کرچکا ہے ۔۔۔
آپ کا کام تھا اس قانون کو لوگوں کے سامنے ویسے ہی سجا چمکا کر لاتے اور اسے لاگو کروانے پر اپنی صلاحیتیں صرف کرتے ۔۔۔
عورت وہ ذات ہے جو ہر دور میں ہی معتوب ہوئی اور آج تک ہوہی رہی ہے کبھی اپنے ہی باپ بھائیوں کے ہاتھوں تو کبھی شوہر اور بیٹے کے ہاتھوں اور کبھی اس معاشرے کے ہاتھوں ۔۔۔۔
اللہ نےعورت کو ان تمام مظالم سے بچانے کے لیے مرد کو جابجا پابند کیا اور ان پابندیوں سے انحراف کرنے پر سخت سے سخت انجام کی تنبیہ بھی کی ۔۔
آئیے زرا چودہ سو برس پیچھے چلیے کہ جہاں ایسا ہی کچھ معاملہ اٹھا تھا تو اللہ کے نبیؐ نے کیا طریقہ اپنایا تھا ۔۔۔

دور جاہلیت میں عورتوں پر ہر قسم کا جسمانی اور نفسیاتی تشدد روا رکھا جاتا تھا۔
مگر اللہ کے نبیؐ نے اس تشدد کو روکنے کے لیے اقدام کیئے
ابوداؤد، سنن النسائی الکبریٰ اور ابن ماجہ نے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
لا تضربوا إماء اللّٰہ.(رقم ۲۱۴۶، ۹۱۶۷، ۱۹۸۵)
’’اللہ کی بندیوں کو مت مارا کرو۔‘‘
اس کے بعد حضرت عمررضہ ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کی کہ ہم اہل قریش کے مرد عورتوں پر غالب تھے ہم مدینہ آئے تو ہم نے دیکھا کہ اہل مدینہ کی عورتیں مردوں پر غالب ہیں۔ ہماری عورتیں ان کی عورتوں سے مل کر مردوں کے خلاف سرکش ہو گئی ہیں تو میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور گزارش کی کہ عورتوں نے مردوں کے خلاف بغاوت کر دی ہے تو آپ نے انتہائی حالت میں مارنے کی اجازت دے دی۔
اس رات مدینہ میں مردوں نے جوکچھ کیا اس کا اندازہ اللہ کے نبیؐ کے اگلے دن کے اس ہنگامی اجتماع سے لگایا جاسکتا ہے
اس کے بعد عورتوں کے گروہ کے گروہ ازواج مطہرات کے پاس آئے جو اپنے خاوندوں کی شکایت کر رہی تھیں۔
اللہ کے رسول ﷺ نے صحابہ کو جمع کر کے فرمایا:
’’آج رات ستر عورتیں اپنے خاوندوں کی شکایت لے کر محمد ﷺ کے گھر والوں کے پاس آئیں۔ یہ لوگ تم میں سے اچھے لوگ نہیں۔ مطلب یہ کہ جو لوگ اپنی بیویوں کو مارتے ہیں وہ ان سے اچھے نہیں جو نہیں مارتے۔‘
یعنی اللہ کے نبیؐ کے منہ سے ان مردوں کے لیے یہ الفاظ نکلنا کہ
” تم میں وہ لوگ اچھے نہیں جنہوں نے اپنی بیویوں کو مارا ” ایک سخت تنبیہ تھی
اور پھر اسی ضمن میں قرآن کی ترتیب بہت ہی بہترین ہے جو عقل پر بھی دلالت کرتی ہے ۔
سب سے پہلے تو یہ یہ عام چھوٹے موٹے گھریلو روز مرہ کے معاملات کی بات نہیں بلکہ انتہائی خراب حالات ہوجانے کا خوف ہوتب اللہ یہ حکم دیتا ہے کہ مرد اس معاملے کو کیسے ہینڈل کرے اور اسکی ترتیب کیا ہو ۔۔۔۔
قرآن حکیم میں سرکش عورتوں کی اصلاح کے لیے سب سے پہلے حکم یہ ہے کہ مرد ان کو سمجھائیں۔ جہاں ہلکی تدبیر سے اصلاح ہو سکتی ہو وہاں سخت تدبیر سے کام نہیں لینا چاہیے۔ ایسی عورتوں کی صحیح رہنمائی کرنا، انھیں نصیحت کرنا اور مناسب رویہ اپنانے میں ان کی مدد کرنا شوہروں کی ذمہ داری ہے۔
دوسرا مرحلہ ’وَاہْجُرُوْہُنَّ فِی الْمَضَاجِعِ‘ (خواب گاہوں میں ان کو الگ کر دو)
مرد کو چاہیے کہ خواب گاہ کو نہ چھوڑے۔ حضرت عبداللہ بن عباس کے قول کے مطابق بستر بھی نہ چھوڑے، بلکہ اپنی قوت ارادی سے کام لیتے ہوئے بیوی کی طرف پیٹھ پھیر لینا ہی کافی ہے۔ یہ مفارقت صرف خواب گاہ تک محدود ہو، جیسا کہ امام طبری نے بہز بن حکیم کی روایت سے نقل کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
’لا تہجر إلا فی المبیت‘ ’’یعنی صرف خواب گاہ میں علیحدگی اختیار کرو۔‘‘
دوسرے اپنوں اور غیروں کے سامنے اس علیحدگی کا اظہار نہیں ہونا چاہیے۔ یہ انتہائی حساس معاملہ ہے اس سے بیوی ذلت محسوس کرے گی اور اس کی سرکشی میں اور بھی اضافہ ہو گا۔ مقصد تو بیماری کا علاج ہے نہ کہ بیوی کو ذلیل کر کے خاندان کو برباد کرنا۔ اگر بچوں کو علیحدگی کا علم ہو گیا تو وہ بھی پریشان ہوں گے۔
تیسرے اور آخری مرحلے میں مخصوص شرائط کے ساتھ مرد کو عورت پر ہاتھ اٹھانے کی اجازت ہے۔
اس آیت مبارکہ میں اصلاحی تدابیر کا تدریجی ذکر بھی اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ اس تدبیر کو استعمال کرنے کی اس موقع پر اجازت دی گئی ہے جہاں سب تدبیریں ناکام ہو جائیں، جہاں بیوی اپنی فطرت سے بالکل منحرف ہو گئی ہو اور یہ انحراف معمولی نوعیت کا نہ ہو۔
صحیح مسلم کی روایت بتاتی ہے کہ بیوی کو کب مارا جائے گا۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں فرمایا:
إتقوا اللّٰہ فی النساء فإنھن عندکم عوان ولکم علیہن أن لا یوطئن فرشکم أحد تکرھونہ فإن فعلن ذلک فاضربوہن ضربًا غیر مبرّح.
’’عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو، کیونکہ وہ تمھارے پاس قیدیوں کی طرح ہیں (زمانۂ جاہلیت میں ایسی سوسائٹی تھی) اور تمھارا ان پر یہ حق ہے کہ تمھارے گھر میں کسی دوسرے کو نہ آنے دیں جس کو تم ناپسند کرتے ہو اگر وہ ایسا کریں تو ان کو مارو مگر صرف اس طرح کہ مار کا نشان نہ پڑے۔‘‘
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مارنے کی اجازت سخت جرم پر ہے۔
کسی خاوند کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ چھوٹی چھوٹی غلطیوں پر بیوی کو پیٹتا رہے۔ عورت کی ہر کوتاہی، غفلت، بے پروائی یا اپنی شخصیت، اپنی راے اور ذوق کے اظہار کی قدرتی خواہش پر اس کو مارنے لگے۔ یہ اجازت دین کا نام لے کر جلاد بننے کے لیے نہیں ہے۔
ترمذی اور طبرانی نے ایک اور حدیث روایت کی ہے:
خیرکم خیرکم لأھلہ وأنا خیرکم لأھلی.(ترمذی، رقم ۳۸۹۵۔ المعجم الکبیر، رقم ۸۵۳)
’’ تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو اور میں اپنے گھر والوں کے لیے تم سب سے بہتر ہوں۔‘‘
نبی کریم کی سیرت
ام المومنین حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی بیوی یا خادم کو نہیں مارا اور انھوں نے اپنے ہاتھ سے کسی کو بھی ضرب نہیں لگائی۔ آپ کے پاس نو بیبیاں تھیں اور بیویوں میں اکثر جھگڑے ہوتے رہتے ہیں جن سے مرد غضب میں آکر ان پر زیادتی کر بیٹھتے ہیں۔ جو لوگ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا نمونہ بنانا چاہتے ہیں، وہ کبھی بھی بیویوں پر ہاتھ نہیں اٹھا سکتے۔ اگر مارنے کی ضرورت پڑے تو ضرب ہلکی ہو بار بار ایک جگہ پر نہ مارا جائے، اذیت رساں نہ ہو اور اپنے پیچھے نشان چھوڑنے والی نہ ہو، لاٹھی اور کوڑے سے نہ مارا جائے۔
حضرت ابن عباس سے غیر مبرح ضرب کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: مسواک یا اس جیسی چیز سے مارا جائے۔ چہرے پر نہ مارا جائے، کیونکہ چہرہ اللہ تعالیٰ کی صفت رحمت کا آئینہ دار ہے۔ مارنا اصلاح کے لیے ہو، نہ کہ انتقام کے لیے
مولانا مودودی ’’تفہیم القرآن‘‘ میں زیربحث آیت کے تحت کہتے ہیں ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیویوں کو مارنے کی جب کبھی اجازت دی ہے، بادل نخواستہ دی ہے اور پھر بھی اسے ناپسند فرمایا ہے‘‘۔
فَاِنْ اَطَعْنَکُمْ فَلاَ تَبْغُوْا عَلَیْْہِنَّ سَبِیْلاً.(النساء ۴: ۳۴)
’’پھر اگر وہ تمھارا کہا مان لیں تو پھر ان کو ایذا دینے کے بہانے نہ تلاش کرو۔‘‘
اللہ نے اس ٹکڑے میں اصلاح کی حد بندی کر کے صحیح راستے کی نشان دہی کر دی ہے۔ ٹکڑے کا مطلب ہے کہ اگر وہ وعظ و نصیحت سے ہی ’نشوز‘ سے رجوع کر لیں تو بستر سے علیحدگی اور ضرب لگانے کے لیے بہانے مت تلاش کرو، یہ ظلم ہے۔ ان الفاظ سے صاف پتا چلتا ہے کہ اوپر کی ترتیب تدریجی ہے۔ اگر پہلے مرحلہ پر عورت مان جائے تو دوسرے مرحلہ کی نوبت نہیں آنی چاہیے، ورنہ حدود سے تجاوز ہو گا، جس پر اللہ کی بارگاہ میں سخت بازپرس ہوگی۔
اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیًّا کَبِیْرًا.(النساء ۴: ۳۴)
’’بے شک، اللہ بلند اور بہت بڑا ہے۔‘‘
امام طبری ’’جامع البیان‘‘ (۵/ ۷۰) میں فرماتے ہیں: ’’بے شک، اللہ ان سے اور ہر چیز سے بلند ہے۔ تم اس کے قبضۂ قدرت میں ہو۔ پس عورتوں پر ظلم کرتے اور ان کی ایذا کے بہانے ڈھونڈتے وقت اللہ سے ڈرو، وگرنہ تمھارا رب جو تم سے بلند تر ہے تم سے ان کا بدلہ لے لے گا۔‘
‘آیت کے اس ٹکڑے میں مردوں کے لیے تنبیہ ہے کہ اپنی طاقت کا گھمنڈ نہ کرو اللہ کی طاقت ان کی طاقت سے زیادہ ہے۔ اگر وہ حد سے بڑھ کر ہاتھ اٹھائیں گے تو اللہ ان پر سزا کا ہاتھ اٹھائے گا۔


تو صاحب جو دین اتنی باریکی سے اور عورت کے احساس و جذبات کا خیال رکھتے ہوئے قانون بنا رہا ہو کہ اگر مرد اس سے بستر بھی الگ کرلے تو کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو اور عورت کو دوسروں کی تمسخرانہ نگاہ کا سامنا نہ کرنا پڑے وہاں اس تحفظ خواتین جیسے بل کی کیا اوقات رہ جاتی جس میں عورت خود ہی تھانے میں جاکر یہ بتائے گی مجھ پر تشدد کیا گیا ؟؟؟
جس دین میں بیوی کے منہ میں ڈالے جانے والے لقمے کا اجر ہر صدقہ سے بڑھ کر رکھا دیا جائے وہاں کیا شوہروں سے بہترین سلوک کا پابند کرنے کے لیے کسی بل کا محتاج ہے ؟؟؟
جس دین میں طلاق دینے کے باوجود بیویوں کو گھروں سے نہ نکالنے کا حکم ہو اس لیئے کہ گھر میں ایک چھت کے نیچے رہنے سے دونوں کے دلوں میں کسی لمحے محبت کے جذبات امڈ آئیں اور غلطی کا احساس ہو جائے اور پھر سے گھر جڑ جائے وہاں مرد کو دو دن گھر سے نکال دینے میں کونسی حکمت پوشیدہ ہے کہ دو دن بعد وہ گھر آتے ہی بیوی کو سر پر بٹھا کر گھومے گا اور سوچنے کی بات یہ کہ عورتوں کے لیئے تو شیلٹر بنائے جائیں مگر جو مرد دو دن گھر سے نکالا جائے وہ یہ دو دن کس ” شیلٹر ہوم ” میں پناہ لے گا اس پر بھی روشنی ڈال دی جاتی تو کتنا اچھا ہوتا ۔۔!!
جس دین میں شوہروں کی موت کے بعد بھی ایک سال تک اس شوہر کا باپ اور بھائی اس عورت کو گھر میں رکھنے کے پابند ہوں وہاں کیا کسی بل کے ذریعے عورتوں کو گھروں میں رکھنے پر مجبور کیا جانے کا احسان رکھنا سوائے ایک مزاق کے کچھ نہیں ۔۔۔۔
جس دین میں عورت پر ظلم کرنے والے مرد کے لیے ایسی سخت وعید کہ جیسے اللہ خود اس عورت کو اپنے ہاتھوں کے پیچھے چھپائے کھڑا ہو اس کے بعد کیا مردوں ہاتھوں میں کڑوں کے پہنائے جانے کی گنجائیش بچتی ہے ؟؟
جو دین ایمان کے بعد بہترین متاع ہی نیک بیوی کو قرار دیتا ہو اسمیں کیا کسی این جی کے بیوی کے ساتھ احسن سلوک کے بھاشن کی ضرورت رہ جاتی ہے ؟؟؟؟
بدقسمتی سے ہم جس معاشرے میں رہتے وہاں مرد حضرات نہ صرف یہ کہ اس ترتیب کو ہی الٹ دیتے بلکہ اور اس آسمانی قانون کے ساتھ وہ حشر کرتے ہیں کہ کافر بھی شرما جائے یعنی ہمارے ہاں دراصل عورت کو اصلاح کے لیے تو مارا پیٹا جاتا نہیں بلکہ وہ بے چاری تو مرد کی فرسٹریشن نکالنے باہر کے جھگڑے کاروبار میں نقصان خاندانی ناچاقی ان سب کی ٹینشن کو رفع کرنے کیلیے پٹتی ہے ۔
یعنی کہ دیکھیے کہ نصیحت تو سرے سے اس طبقے میں پائی ہی نہیں جاتی اور رہی بات بستر الگ کرنے کی تو سلام کیجیے ان جوان کے بچوں کو جو دن بھر میں ڈنڈے سے کم سے مارنے سے ان کی تسلی نہیں ہوتی اور رات اسی عورت کیساتھ سو کر دکھانا بھی انکی مردانگی کی کیا خوب گواہی دیتا۔۔
تو جناب اگر آپ کے معاشرے میں اللہ کے قوانین کے ساتھ یہ حشر روا رکھا جارہا ہے تو اس میں قوانین کو لاگو نہ کرواسکنے والوں کا قصور ہوا نہ کہ قوانین کا کہ ہم جاکر کسی این جی اوز سے جاکر قوانین بنانے کی بھیک مانگتے پھریں ۔۔۔۔
تو بھائی صاحب بات بہت سیدھی سی ہے کہ آپ کرام جھاگ نکالنے اور محض الزام تراشیوں سے نکل کر آگے کا سوچئیے اور اپنے حصے کا کام سر انجام دینے کی فکر کیجیے کہ یہی وقت کی اہم ضرورت ہے
اس قانون کو لاگو کروانے کی فکر کیجیے جو بس آج تک قرآنی صحیفوں کی جلدوں میں ” محفوظ “ہے
جب تک آپ ان قوانین کو ان صحیفوں سے نکال کر لوگوں کی عملی زندگیوں تک نہیں لیکر آتے اسوقت تک
ایسے اور بہت سے بلوں کا انتظار کیجیے کہ ” ابھی تو ایسے کارواں کئی ہزار آئیں گے “

2 Comments
  1. 27 February, 2016
    میرا فسر امان

    اللہ آپ کو اجر دیے ۔ ۔ ۔ آپ نے تو قرآن اور حدیث اس معاملے کو سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ ۔ ۔ جس میں جاہل مردوں کے لیے بھی عبرت کا مقلم ہے اور سرکش عورت کے لیے بھی صحیح راستے پر چلنے کی سبیل موجود ہے۔ ۔ ۔ علماء کا یہ مقام نہیں جس کا مظاہرہ میڈیا میں دیکھنے میں آیا ہے۔ ۔ ۔ جن کو دنین احسن طریقے سے سجمھانے کا فرض سوپا گیا تھا وہ خود ہی جہالت پر اترآءین تو معالمہ کیسے سدھرے گا۔ ۔ ۔ آپ نے عالموں سے زیادہ تدبر سے معلاملہ سمجھانے کی کو شش کی ہے ۔ ۔ ۔ کاش ہماری مٖغرب زدہ عورتیں اس مضمون کو پڑھ کر مغرب کی آلہ کار نہ نہیں اور واپس اسلام کے قانون مین ہی اپنے عافیت محسوس کریں۔ ۔ ۔ اللہ آپ کا حامی و نصر ہو آمین
    میر افسر امان کراچی

    Reply
  2. 28 February, 2016
    اسریٰ غوری

    جزاک اللہ خیرا کثیرا ، برادر یہی کوشش کی گئی کہ جواب مدلل اور دلائل کے ساتھ ہو اور جو فتنہ اٹھ رہا ہے اس کے جواب میں لوگوں کو بہتر اور آسمانی حل پیش کیا جائے ۔ اللہ اس کاوش کو قبول فرمائے آمین

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: