مجھ سے میرے عشق کی دلیل مانگنے والو! سنو

تحریر: اسریٰ غوری

یہ وہی لوگ ہیں جو میرے عشق جنوں کو وحشی گردانتے ہیں ہیں جو ابھی کچھ دن پہلے ہاں ہاں کچھ ہی دن پہلے تو محبت میں ایک دوسرے کو گولیاں مار کر خودکشی کرنے والے کچی عمر کے بچوں ( نوروز ، فاطمہ ) کے اس عمل کو محبت معراج قرار دے رہے تھے
یہ وہی لوگ ہیں جو میرے عشق کو عقل کی دلیل پر پرکھتے ہیں جو اپنی کتابوں میں محبت کے ہاتھوں مجبور ہو کر کچے گھڑے پر بیٹھ کر دریا پار کرنے کی کوشش میں دریا غرق ہونے والی سسی کے قصے بڑے فخر سے سناتے ہیں
یہ وہی لوگ تو ہیں جو میرے عشق کی دلیلیں مانگتے ہیں جن کی ڈکشنریوں میں محبت کی اعلی مثالیں ، لیلی مجنوں سے شروع ہو کر شیریں
فرہاد، سسی پنوں ، سوہنی ماہیوال ، سے ہوتی ہوئی نوروز فاطمہ تک پہنچتی ہیں ۔۔۔۔
تمہاری داستانیں تمہیں مبارک تو مجھے میرا جنوں مبارک ۔۔۔۔
میں اس ہستی کی عاشق ہوں کہ جس کی جدائی میں اک درخت کا تنا بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رویا تھا
تو سن لو یہ سب دنیا کےعاشق تھے جن کے حق میں دلیلیں دینے کے لیئے تم اپنے ہی عقل کی دلیل کے منجن کو بیچ کھاتے ہو ہاں جب بات ہو میرے عشق نبی ﷺ کی میرے جنوں کی تو تمہیں سارے سبق یاد آتے ہیں تمہارے پیٹ میں جو مروڑ اٹھتے ہیں تمہاری منافقتوں سے میں بھی واقف ہوں اس سے تم بھی واقف ہو ۔۔۔۔
اک عاشق رسول ﷺ کے جنازے میں شریک لاکھوں لوگوں کی شرکت دیکھ کر اپنے ٹھنڈے ڈرائنگ روموں میں تمہاری ٹانگیں کانپتی رہیں اور تم نے پاکستان کی تاریخ میں آنے والے ہر ڈکٹیٹر کے جابرانہ رویے کو مات دے کر ملک خداد کی تاریخ میں ایک سیاہ باب رقم کیا۔
تم نے۔۔۔۔۔ ہاں تم نے اپنے زوال کے پروانے پر خود دستخط کیے ہیں ۔۔۔
تم بھول گئے کیا ؟؟؟
تم سے پہلے وہ جو ایک شخص یہاں تخت نشین تھا
اس کو بھی اپنے خدا ہونے پر اتنا ہی یقین

آج تم نے اس کے انجام سے کوئی سبق نہیں سیکھا جو لوگ دوسروں کے انجام سے سبق نہیں سیکھتے پھر وہ خود آنے والوں کے لیئے عبرت بن جاتے ہیں ۔۔۔
نمرود کے حواریوں ۔۔۔۔۔۔ فرعون کے جانشیوں یاد رکھنا تمہاری سولیاں کم پڑ جائینگی یہاں سولیوں پر لٹکنے والوں کی لائن لگی ہے
کیا مرد ، کیا عورت، کیا بچہ، کیا جوان، سب کی ایک ہی لگن ہے ۔
حرمت رسولﷺ پر کوئی عقل کوئی دلیل کوئی سمجھوتہ نہیں جب تک تم گستاخ رسول ﷺ کو اپنی بغلوں میں چھپاتے رہوگے ان کافروں کو جہنم رسید کرنے کے لیئے ہم میدان میں آتے رہینگے
سن لو یہ عشق رسول ﷺ کے پروانے ہیں تم ایک کو سولی لٹکاوگے تو لاکھوں کو عاشق پاوگے یہ پروانے تمہاری مکروہ چالوں سے کبھی ختم نہیں ہونگے ۔۔۔
یاد رکھنا !! یہ سودا تمہیں بڑا مہنگا پڑے گا

ہم تو وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی جانوں کا سودا اپنے رب سے کرلیا ہے تم اپنی خیر مناو !!
یہ بازی عشق کی بازی ہے
جو چاہو لگا دو ڈر کیسا
اگر جیت گۓ تو کیا کہنا
ہارے بھی تو بازی مات نہیں

1 Comment
  1. 2 March, 2016
    میرا فسر امان

    اللہ آپ کو مذید ہمت دے اور آپ اسلام کی خدمت کرتی رہیں۔ ۔ ۔ قلم کے زور سے وقت کے فرعون اور نمرودوں کے سینوں پر مونگ دلتی رہیں۔ اے اللہ اسلام کی ایس بیٹی کی حفاطت فرما آمین
    میر افسر امان
    کراچی

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: