دُوری کو قربت میں کیسے بدلیں؟

تحریر شہزاد حسن (آفاق احمد)

دل دُور ہیں

 زمینی فاصلے کم بھی ہوں۔۔۔

رشتے سگے بھی ہوں۔۔۔

لیکن دِل دُور ہیں۔۔۔

معاشرے کی کمزوری کی ایک بڑی وجہ یہ دُوریاں ہیں۔۔۔

محلہ دار بھی دُور۔۔۔

رشتہ دار بھی دُور۔۔۔

سگے بہن بھائی بھی دُور۔۔۔

اب کیسے مداوا کیا جائے؟؟؟ مسنون اعمال تو سارے ہی بابرکت ہیں۔۔

۔ لیکن اِس تناظرمیں تین مسنون اعمال کا ذکر کرتے ہیں جواِن دُوریوں کو قربتوں میں تبدیل کرنے میں ممدو معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سب سے پہلے تذکرہ کرتے ہیں عیادت کا۔۔۔ بیماری ہماری انسانی زندگی کا لازمی جُزو ہے۔۔۔

ہر انسان کو پیش آتی ہے۔۔۔

بیماری میں انسان کا دل نرم ہوجاتاہے،تکلیف جتنی زیادہ ہو اُتنے جسم اور مزاج پر اثرات آتے ہیں۔۔۔

عیادت یا بیمارپُرسی ایسا پیارا عمل ہے جو دو طرفہ محبتوں کو بڑھانے کا باعث بنتاہے۔۔۔

مریض کا دل بہل جاتا ہے لیکن اِتنا نہ بیٹھا جائے کہ مریض بے آرام ہوجائے

جیسے بھی اختلافات ہوں،چاہے سگے بہن بھائیوں میں یا محلہ داروں میں،چاہے رشتہ داروں کے ساتھ ہوں،عیادت کا موقع نہ ضائع کریں۔۔۔

بد مزگی کا ڈ ر ہوتو عیادت کے وقت کوئی رشتہ دار یا محلہ دار ساتھ لے لیں،مختصر وقت بیٹھیں۔۔۔

دوسرے شہر میں ایسا کوئی رشتہ ہوتو فون پر خیریت معلوم کرتے رہیں اور جب شہر کا چکر لگے تو ضرور عیادت کرلیں۔۔۔

یہ عیادت آپس میں ربط قائم کردے گی،اختلافات کو مدہم کردے گی اور محبت کو پروان چڑھائے گی۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دوسرا مسنون عمل تعزیت کا ہے۔۔۔

جب کوئی محلہ دار،عزیز رشتہ دار وفات پا جائے تو اُس کے لواحقین سے تعزیت کے لئے ضرور جائیں۔۔۔

اگر آسانی ہو تو جنازے اور کفن دفن کے وقت ضرور ساتھ رہیں۔۔۔

حسبِ استطاعت کھانے یا ناشتے کا انتظام ضرو ر کردیں،کسی وقت پوچھ کر چائے بھی بھیجی جا سکتی ہے۔۔۔

تعزیت کرنے والوں کی وجہ سے لواحقین کا ذہن بدلتا ہے۔۔۔

ایک عزیز کی وفات ہوئی،اُ ن کے بھائی امریکہ میں تھے اور فیملی پاکستان میں۔۔۔

فون پر بات ہوئی تو روتے ہوئے کہنے لگے کہ شہزاد!تین دن ہوگئے،کوئی ایسا کندھا نہیں ملا جس پر سر رکھ کر رو سکوں۔۔۔

یہ وہ کرب اور درد ہے جس سے تعزیت کرنے والا لواحقین کو بچاتاہے۔۔۔

اِس مبارک سُنت کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنائیں۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تیسرا مسنون عمل بظاہر مشکل ہے،ایسا عمل ہے جس سے نفس کٹ کر رہ جاتا ہے،دل پر بعض اوقات آرے چل جاتے ہیں۔۔۔

نبی کریم ﷺ نے یہ عمل کرکے دکھایا جو اِ س بات کا غمازی ہے کہ عمل مشکل صحیح لیکن ناممکن نہیں.

یہ عمل ہے “جو مجھ سے کٹے،میں اُس سے جُڑوں ” محلہ دار ہو یا رشتہ دار،بہن بھائی ہو یا دوست احباب۔۔۔

ایسے لوگ ضرور ہوتے ہیں جو آپ سے کٹنا شروع ہوجاتے ہیں،نامعلوم ناراضگی اور رنج دل میں رکھے تعلقات کم کرنا شروع ہوجاتے ہیں،آپ اُن سے ملیں تو مختصر بات کرتے ہیں۔۔۔

ایک بزرگ کا واقعہ ہے جن کے عزیز کسی بات پر اُن سے ناراض تھے،یہ جب کبھی اُن کے شہر میں جاتے تو ضرور اُن سے ملاقات کرنے جاتے،ہاتھ مصافحہ کے لئے بڑھاتے تو وہ ہاتھ نہ ملاتے،بات کرنے بیٹھتے تو وہ پیٹھ پھیر کر بیٹھ جاتے،اُن بزرگ نے جانا نہ چھوڑا اور اُن کے عزیزنے بے رُخی نہ چھوڑی۔۔۔

لیکن بالآخر سنت اپنا رنگ لائی،وہ عزیز نہ صرف راضی ہوگئے بلکہ محبت و التفات پہلے سے بھی زیادہ ہوگیا۔۔۔

یہی اِس سنت کا حُسن ہے۔۔۔

کوئی مجھ سے اچھا کرے اورمیں اُس سے اچھا کروں،کوئی مجھ سے بُرا کرے اور میں اُس سے بُرا کروں،یہ تو ادلا بدلا ہوا۔۔۔ اصل کمال تو یہ ہے کہ کوئی آپ سے بُرا کرے تو آپ اُس سے اچھا کرو۔۔۔ کوئی آپ سے کٹے تو آپ اُس سے جُڑو۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ تین مسنون اعمال ایسے ہیں جن پر عمل،ہمیشگی اور مداومت آپ کے پیارے رشتوں اور تعلقات کو بکھرنے سے بچا لے گا۔۔۔

اختلافات کو ختم کردے گا یا کم سے کم سطح پر لے آئے گا۔۔۔

اختلافات اور دُوریوں کو قبول کرنا نہ سیکھیں۔۔۔

بلکہ اِن کو ختم کرنا سیکھیں تاکہ ہماری زندگی حقیقی معنوں میں خوبصورت ہوسکے اور دل میں کسی قسم کا دکھ اور قلق نہ رہے۔۔۔

اِن تین اعمال کو سنت سمجھ کر کریں گے تو سُنت کی برکات بھی ہم آہنگ ہوجائیں گی۔۔۔

اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: