“حضرت عائشہ صدیقہ: مسلمان عورت کا رول ماڈل”

تحریر: منزہ صدیقی
آج کل کے زمانے میں معاشرتی بگاڑ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ زندگی کا کوئی بھی شعبہ ہو۔ بگاڑ اور زوال کی نت نئی شکلیں اور کہانیاں سامنے آتی رہتی ہیں۔ اس معاملے میں نہ تو دیہات اور شہر کا فرق ہے نہ ان پڑھ اور تعلیم یافتہ کا۔ اخلاقی معاملات ہوں، معاشرتی، تعلیمی، کاروباری یا گھریلو۔ کوئی بھی میدان بگاڑ سے خالی نہیں۔ ہم عام طور پر اس کی تمام تر ذمہ داری میڈیا اور ماحول کو سونپ کر، خود بڑے آرام سے بری الذمہ ہوجاتے ہیں۔ جبکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ خواتین جو اس معاشرے کا نصف سے زائد ہیں۔۔۔ بھی اس صورتِ حال کی خرابی میں ذمہ دار ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے فرائض سے لاعلم ہیں یا ان کے سامنے کوئی ایسی آئیڈیل شخصیت موجود نہیں ہوتی جس کو سامنے رکھ کر وہ اپنی گھریلو زندگی کا نقشہ ترتیب دے سکیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی سیرت کا مطالعہ ہمارےسامنے زندگی کے ہر گوشے کے متعلق ایسی عمدہ راہنمائی فراہم کرتا ہے جو ہمارے بہت سارے دینی ودنیاوی مسائل کا حل ہے۔ ان کی سیرت میں جہاں ایک طرف علم وفضل کا دریا بہتا ہے اور وہ احادیث بیان کرنے سے لے کر، علم الکلام اور علم الفقہ تک کئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بھی آگے نظر آتی ہیں۔ وہیں ان کی حیات مبارکہ میں ایک لاڈلی بیوی، ایک فرمانبردار بیٹی، ایک صابرو شاکر جیون ساتھی، سوکنوں کے لیے اعلیٰ ظرف والی، سوتیلی اولاد کے ساتھ حقیقی مائوں سے بڑھ کر پیار کرنےو الی، اللہ کی راہ میں ہر دم اور سب کچھ خرچ کرنے کو تیار، کشادہ دل ودماغ، علم سے محبت کرنے والی خاتون کی تصویر بھی نظر آتی ہے۔
ہجرت مدینہ کے بعد آب وہوا کی تبدیلی سے مکہ سے آنے والے خواتین وحضرات بیمار پڑرہے تھے۔ حضرت عائشہ بھی ایسی بیمار پڑیں کہ سر کے سارے بال جھڑگئے۔ جب طبیعت اچھی ہوگئی تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ آپ اپنی بیوی کو رُخصت کراکے اپنے گھر لے آئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرےپ اس مہر ادا کرنے کے لیے رقم نہیں۔ اس پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے پاس سے بطور قرض روپیہ دیا۔ یہ روپیہ حضرت عائشہ کے پاس بھجوادیا گیا اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر آگئیں۔ شادی کی تقریب سادگی کا اعلیٰ ترین نمونہ تھی جس میں نہ فضول خرچی تھی نہ نمودونمائش۔ نہ وقت اور پیسے کا ضیاع۔ دودھ کا ایک پیالہ تھا جسے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا۔ پھر حضرت عائشہ نے اور پھر حضور کے حکم سے آپ رضی اللہ عنہا کی سہیلیوں نے۔
حق مہر کی ادائیگی دیکھیے، کس قدر ضرور سمجھی گئی کہ اس کی ادائیگی کے بغیر شادی کا تصور بھی موجود نہیں۔ کیا یہ حقوق نسواں کا اعلیٰ ترین اظہار نہیں؟ ہم نت نئے قوانین تو بناتے چلے جارہے ہیں لیکن کیا شوہر کو گھر سے نکال دینے سے عورت کے حقوق کو تحفظ ملے گا یا اسے معاشی فکروں سے آزاد کرکے؟
آج کل شادی کی تقریب کا تصور کیجیے۔ کیا کھانا کھلائے بغیر خواہ کتنا ہی مقروض کیوں نہ ہونا پڑے، آپ اپنی بیٹی کو بیاہنے کا تصور کرسکتے ہیں؟ شادی کی تیاریوں کے موقع پر آئیڈیل بیھ تو سامنے رہنا چاہیے۔ سادگی اپنائیے اور رب کی رحمتوں سے فائدہ اٹھائیے جو سادگی اختیار کرنے کے نتیجے میں آپ کو ڈھانپ لیں گی۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی گھریلو زندگی انتہائی سادہ تھی۔ ان کا حجرہ اتنا چھوٹا تھا کہ ایک آدمی کھڑا ہوکر ہاتھ اٹھائے تو چھت کو چھوسکتا تھا۔ دروازے میں ایک پٹ کا کواڑ تھا جو عمر بھر کبھی بند نہ ہوا۔ پردے کے لیے اس پر کمبل پڑا رہتا تھا۔ گھریلو سازوسامان بھی انتہائی مختصر۔۔۔۔ ایک چارپائی، ایک تپائی، ایک بستر اور ایک چھال کا تکیہ۔۔۔ اس گھر کی سجاوٹ تھی تو یہاں کے مکینوں سے۔ اس گھر میں علم وعمل کے وہ چراغ جلتے تھے جن سے ایک دنیا آج تک روشن ہے۔ یہاں کی گھروالی کے نزدیک دنیاوی سازوسامان کی کوئی حیثیت نہ تھی۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ یہاں کے مکینوں کی زندگی پھر بھی خوشیوں سے عبارت تھی۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا دل کی پوری لگن اور شوق کے ساتھ گھر کا سارا کام کرتی تھیں۔ گھر کی صفائی خود کرتیں۔ خود آٹا پیستیں، خود گوندھتیں اور خود ہی روٹی پکاتی تھیں۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام کام کوشش کرکے خود سرانجام دیتیں۔ آپ کے کپڑے اپنے ہاتھ سے دھوتیں۔ آپ کے سر کو دھوتیں، ان کے سر میں کنگھا کرتیں۔ گھر میں کوئی مہمان آتا تو اس کی خاطر مدارات کرتیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں مہمانوں کے لیے کھانے کی چیز منگواتے تو بناکر بھیج دیا کرتیں۔
یہ نمونہ ہے خواتین کے لیے ۔۔۔۔ اس خاتون کے گھر کا جس کے علم وفضل اور رتبے کو سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی مانتے تھے۔ ایک طرف انہوں نے اپنے دور کے تمام علوم حاصل کرکھے تھے اور نہ صرف خواتین بلکہ مردوں کو بھی تعلیم دیا کرتی تھیں۔ لیکن یہ سب کام چادر اور چار دیواری کا تقدس بحال رکھتے ہوئے ہوتے تھے۔ آج کی اصطلاحات میں بات کی جائے تو وہ زبردست قسم کی ورکنگ ویمن تھیں، جنہوں نے ایک جنگ میں مسلمانوں کی قیادت تک کی، لیکن خود کو کبھی پردے سے آزاد نہیں کیا۔ دوسری جانب گھر میں دیکھا جائے تو انتہائی فرمانبردار بیوی تھیں جو ہر لمحہ شوہر کو خوش رکھنے کی آرزو مند تھیں۔ انہوں نے نو برس جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں گزارے اور ان نو سالوں کا ہر لمحہ وہ کچھ نہ کچھ سیکھنے کی جستجو لیے رہتیں۔ یہی وجہ تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی باقی تمام بیویوں سےز یادہ انہیں محبوب رکھتے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم وتربیت کا اثر بھی ازواج مطہرات میں سب سے زیادہ حضرت عائشہ ہی قبول کررہیت ھیں۔ چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف یہ توجہ اور شفقت ان کے علم وکمال اور علم سے محبت کی وجہ سے تھی نہ کہ ان کے حسن وجمال کی وجہ سے، کیونکہ حضرت زینب، حضرت صفیہ، حضرت جویریہ اور حضرت ماریہ قطبیہ رضی اللہ عنہن اُمہات المومنین یہ تمام حضرت عائشہ سے زیادہ حسین وجمیل تھیں۔
ان کی زندگی سے ایک اورنکتہ سامنے آتا۔۔۔۔
 ان کی زندگی سے ایک اورنکتہ سامنے آتا ہے کہ میاں بیوی کا تعلق خواہ کتنا ہی مضبوط اور پیارا کیوں نہ ہو لیکن جب اللہ کے حقوق کی بات آجائے تو پھر
اس سے بڑھ کر کچھ نہیں رہتا۔ جیسا کہ حضرت عائشہ خود فرماتی ہیں کہ ہم آپس میں محبت کی باتیں کررہے ہوتے کہ اذان کی آواز آجاتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم باتیں چھوڑکر اٹھ کھڑے ہوتے پھر ایسا معلوم ہوتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں پہچانتے ہی نہیں۔
حضرت عائشہ کی دس سوکنیں تھیں۔ انسان ہونے کی بنا پر باہمی چپقلش بھی ہوجاتی لیکن یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت کا اثر تھا کہ باہم ان کے دل آئینے کی طرح صاف وشفاف تھے۔ خود حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اگر اپنی سوکنوں کے بارے میں کچھ نہ بتاتیں تو آج ہم ان کے متعلق کیسے جان سکتے تھے۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے فضائل، اسلام کے لیے ان کی خدمات، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی محبت، ان سب کے بارے میں ہمیں حضرت عائشہ کی زبانی ہی معلوم ہوا۔ فرماتی تھیں کہ مجھے سب سے زیادہ اس بوڑھی خاتون (حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا) پر رشک آیا ہےجسے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کبھی نہ بھولے۔ کاش! میں ان کی جگہ ہوتی۔ حالانکہ میں ان کو دیکھا بھی نہیں۔۔۔ اس آئینے میں دیکھیے کہ ایک سوکن دوسری سوکن کے لیے کن اعلیٰ خدمات کا اظہار کررہی ہے۔
اسی طرح اپنی تمام دوسری سوکنوں کے اوصاف بھی دل کھول کر بیان کرتیں اور ان کے مقابلے میں اپنی کمزوری (اگر کوئی ہوتی تو) کا بھی صاف الفاظ میں ذکر فرماتیں۔ جیسا کہ ایک مرتبہ خود انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت صفیہ سے بڑھ کر اچھا کھانا پکانے والا نہیں دیکھا۔ (وہ خود کھانا پکانے کی اتنی ماہر نہ تھیں اور یہ بات بھی خود انہوں نے ہی بیان فرمائی)  سوکنوں کے ساتھ اس طرزِعمل میں عورتوں کے لیے بڑی نصیحت ہے اور اپنی اصلاح کا سامان بھی۔ اسی طرح اپنی سوتیلی اولاد اور خاص طور پر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ دلی محبت کرتیں۔
عورت کی ایک بڑی کمزوری مال سے محبت ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کمزوری سے بالکل پاک تھیں۔ ان کے پاس جو کچھ آتا، راہ خدا میں دے دیتیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی اس معمول میں ذرا بھر فرق نہ آیا۔ ایک مرتبہ تو ان کے بھانجے حضرت عبدالہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اس بنا پر کہ انہیں جو کچھ بھی تحفہ بھیجا جائے، وہ اسے اللہ کے راستے میں دے ڈالتی ہیں، کہا کہ اب ان کا ہاتھ روکنا پڑے گا۔ اس پر ناراض ہوکر قسم کھالی کہ ان سے نہ بولوں گی۔ آخر کار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم معاملے میں آئے اور انہوں نے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کو معاف کیا اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کیا۔
قناعت اور توکل یعنی جو کچھ موجود ہو، اس پر راضی رہنا اور اللہ پر بھروسا رکھنا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی نمایاں صفت تھی۔ آج کل خواتین کو قناعت کے نہ ہونے ہی نے بہت سی پریشانیوں اور ڈپریشن جیسی بیماریوں میں مبتلا کررکھا ہے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی صفات کی ایک طویل فہرست ہے۔ جن میں سے ہر ایک خوبی ایک طرف تو ہمارے لیے آئیڈیل ہے جسے ہمیں اپنانے کی ضرورت ہے اور دوسری طرف ہمارے لیے سوالیہ نشان بھی ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں؟ آئیے! آج سے اپنی اصلاح اور معاشرے کی اصلاح کے لیے اپنی ذات سے آغاز کیجیے تاکہ ہمارا معاشرہ اور میڈیا بھی سدھر سکے جس کے ہاتھوں ہم ہر وقت پریشان رہتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: