“تحفظ نسواں بل اور اسکے اثرات”

تحریر : راحیلہ ارم

تحفظ نسواں بل ابهی منظور ہوئے کچه دن ہی ہوئے کہ اسکے ثمرات ظاہر ہونا شروع ہو گئے.جیل جانا اور پولیس والون کے ہاتهوں ذلیل ہونے کے بعد کس مرد کا دل چاہے گا کہ وه دوباره گهر آکر اس بیوی کے ساته اچها سلوک کرے گا یا مطیع و فرمان بردار بن کر رہے گا..اسکا غیض و غضب تو اور بهی بڑه جائے . مثلا ایک دو حالیہ واقعات سامنے ائے کہ .

شوہر نے جهگڑا ہونے پر بیوی پر ہاته اٹهایا تو بیوی نے شکایت کر دی.پولیس والے شوہر کو لے گئے تیسرے روز اسکا غصہ اور بهی بڑه گیا اس نے آتے ہی بیوی کو طلاق دے کر گهر بهیج دیا.. ایک اور واقعہ میں شوہر نے اکر بیوی کو آگ لگا دی..

اب بتاہیں کہ جس تشدد سے بچانے کے لئے اور عورت کے تحفظ کے لئے اس بل کو منظور کیا گیا اس نے عورت کو تحفظ دیا یا اور غیر محفوظ کر دیا… اور ایسی بهونڈی شرائط کہ گهر جانے پر مرد کو کڑا پہنا کر بهیجا جائے گا..بالکل بچگانہ ذہنیت کی عکاسی کرتی شقیں ہیں..نہ جانے کس کی ایما پر اور کس کے دباو پر یہ بل جلد بازی میں منظور کرایا گیا کہ پاس کرنے والوں کو بهی نہیں معلوم کہ اس میں درج کیا کیا ہے؟؟ یہی وجہ ہے کہ تمام مزہبی و باشعور طبقوں نے بهی اس کی مخالفت کی ہے.صاف نظر ارہا ہے کہ اس بل کا مقصد عورت کا تحفظ نہیں بلکہ عورت کے تحفظ کے نام پر خاندان کو غیر مستحکم کر کے عورت کا مزید استحصال ہے. اسکا نتیجہ لازمی طور پر شرح طلاق میں اضافہ کی صورت ہی نکلے گا.اور ایسا مادر پدر آزاد معاشرا بنے گا کہ جہان محرم رشتوں کا تقدس پامال ہو کر ره جائے گا.

اسلام نے عورت کو وه مضبوط مقام دیا جو کسی اور مذہیب نے نہیں دیا عورت جس روپ میں بهی ہو بہن ،ماں.،بیوی اور بیٹی کے الگ الگ حقوق گنوائے اور پهر جو زرا برابر بهی ان میں کوتاہی کرے گا اس پر بڑی سرزنش کی گئ.اپ اسلام کے ہی دئے گئے حقوق کو نافذ کروادیں.عورتوں کو حقیقی تحفظ ملے گا.اور جو پہلے سے قوانین ہیں ان پر عمل کروادیں.. خداراہمارے معاشرے میں تمام تر بگاڑ کے باوجود ایک خاندان ہی تو بچا ہے اس پر ضرب مت لگاہیں.

2 Comments
  1. 17 March, 2016
    ظفرین

    حقوق نسوان بل عورت کے حقوق دلواءے گا نهین ظلم کا شکار هون گی عورت کو حقوق صرف اسلام مین ملتے هین 

    Reply
  2. 17 March, 2016
    میرا فسر امان

    ہم نے یہ پہلے ہی کہا تھا کہ پاکستان میں خاندان بکھر جائیں گے۔ ۔ ۔ مغرب کے کہنے پر پاکستانی کو تباہ کرنےایک کوشش ہے

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: