“خواتین کا تحفظ یا بربادی”

تحریر: قدسیہ مدثر

پرامن معاشرہ۔مضبوط خاندانی نظام۔رشتوں کا تقدس۔عفو و درگزر۔شرم و حیا کا سوچ و نگاہ سے لے کر عمل تک وجود رکھنا۔مرد اور عورت کا ملکر خاندان کو مستحکم کرنا۔
یہ وہ چیدہ اصول ہیں جو کسی کامیاب اسلامی معاشرے کے وجود کا باعث بنتا ہے۔
پنجاب اسمبلی کی طرف سے پیش کردہ حقوق نسواں بل عورت کی کھلی تذلیل ہے جس میں عورت کو مادر پدر آزاد کر کے اس کی نسوانیت چھین لی ہے۔
اسلام عورت پر تشدد کا قائل نہیں ۔اسلام نے عورت کو بحیثیت ماں ۔بیوی ۔بیٹی۔بہن حقوق کی تقسیم آج سے چودہ سو سال پہلے کر دی تھی۔پھر ۔۔۔۔۔یہ کون لوگ ہیں جو عورت کو حقوق کا بہلاوہ دے کر بے راہ روی کی ترغیب دے رہے ہیں۔
چھوٹی چھوٹی باتوں پر میاں بیوی لڑائی معمولی بات ہے۔جس کا حل خاندان کے بڑے بوڑھے آپس میں بیٹھ کر سکتے ہیں۔لیکن جب ان مسائل میں قانون کی دخل اندازی آ جاتی ہے تو مسائل حل ہونے کی بجا ئے مزید الجھ جاتے ہیں۔اور گھر کی بات زبان زدعام ہو جائے گی۔اور اسلام جو میاں بیوی کو لباس کی مانند اور ایک دوسرے کا پردہ قرار دیتا ہے۔کیا قانون کو درمیان میں لا کر وہ پردہ قائم رہ سکے گا۔؟
اس بل کے پاس ہونے کے بعد ہی ایسے واقعات سننے میں آئے ہیں کہ بیوی نے لڑائی کی صورت میں شوہر کو جیل کی ہوا لگوائی اور شوہر نے واپس آتے ہی بیوی کو طلاق دے دی۔
خاوندوں کو کڑے پہنا کر کیا اپنے خاوند کے دل میں وہ مقام بنا پائے گی جو اسکا حق ہے۔15
سال کے بعد بیٹی کو اپنی من پسند زندگی گزارنے کا کھلا اختیار اس بل میں دے دیااور اگر والد روکے تو بیٹی اپنے باپ کو جیل کی ہوا لگوائے گی۔
جناب والا ! یہ ہمارا اقدار نہیں، مغربی اقدار کی یلغار ایک عرصے سے ہمارے خاندانی نظام کوتباہ کرنے کے در پے ہے لیکن ناکام رہی۔
موجودہ حکومت کے ایجنڈے میں اسلام کو مارڈنائز کرنے اور اخلاقی اقدار کو ختم کرنے کا ہدف ہے جو ہم کسی صورت لاگو نہیں ہونے دیں گے۔
ہمیں امہات المومنین رض کو اپنا رول ماڈل بنانا چاہئے۔جو اپنے شوہروں کے مشن کو آگے لے کر بڑھیں۔حضرت عائشہ رض کی حضور ص سے محبت اطاعت گزاری۔خدمت گزاری اور ہر مشکل وقت میں صابرانہ رفاقت۔یہ وہ صفات ہیں جو ایک عورت کو اپنے شوہر کا محبوب بنا سکتی ہیں۔ کیونکہ ۔
حقوق چھینے نہیں جاتے حقوق محبت۔وفاداری۔خدمت گزاری کے سبب خود مل جاتے ہیں۔

1 Comment
  1. 18 March, 2016
    میرا فسر امان

    اسلامی مین ہی عورت کو ھقوق ملتے ہین۔ مگربی معاشرے نے عورت کا دلیل و خوار کر دیا ہے۔ اللہ مغرب زدی پاکستانی خواتین کو ہدایت دے امین

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: