“ہم ایسے نہ تھے”

تحریر: جویریہ سعید

یہ پاکستان ایسا نہیں تھا کہ اب لوگ اس سے وابستگی پر شرمندہ ہوتے ہیں. مسلم اکثریت پر مشتمل مگر داخلی طور پر بڑا تنوع رکھنے والا ہمارا معاشرہ جہاں بہت سے لوگ عرصے سے مل جل کر ہی رہ رہے تھے. انفرادی طور پر تکلیف دہ واقعات کس معاشرے میں نہیں ہوتے ، ہمارے یہاں بھی ہوے مگر ہم ایسے جنونی اور متعصب کبھی نہیں تھے کہ اسے ہماری پہچان بنا دیا جاۓ. یہاں مختلف مذھبی اور علاقائی پس منظر رکھنے والے بچے ایک ہی سکول جاتے تھے. مخصوص مواقع پر کبھی کبھی ایک دوسرے کے عقیدوں اور وابستگیوں پر کچھ شک اور کچھ تجسس کی کیفیت بھی ہوتی، کبھی فرینڈلی فایٹس بھی ہوتیں، مگر پھر بھی سب مل جل کر رہتےتھے. ہنستے بولتے، کھیلتے کودتے، پڑھائی بھی ہوتی اور باہم مقابلے بھی . ہمارے یہاں بڑے اچھے اور نامور سکول اسماعیلی اور عیسائی برادری کے تحت چل رہے ہیں جن میں پڑھنے والی اکثریت مسلمان بچوں کی ہوتی ہے. ہم نےخود بھی ایک ایسے ہی سکول سے پڑھا ہے. ہماری جماعت میں احمدی لڑکی بھی تھی اور ہندو بھی. بلکہ ہمارے بیچ کی سب سے زہین اور ہر دلعزیز لڑکی ہندو تھی. ہمیں جن چند ہم جماعت ساتھیوں کے گھر جانے کی اجازت تھی، وہ ان میں سے ایک تھی. اس لئے کہ ہمارے والدین کا خیال تھا کہ وہ پورا گھرانہ بہت اچھا ہے اور خصوصا اس کی والدہ بہت نیک اور شریف خاتون تھیں. اس لئے باسانی ہم ان کے گھر رک جاتے تھے. ہماری بہت سی کزنز اور دوستوں کا خیال تھا کہ اپنی شیعہ دوستوں کے گھر سے پانی نہیں پینا چاہیے کیونکہ وہ اس میں کچھ ملا دیتی ہیں. مگر مزے کی بات یہ تھی کہ اس کے باوجود ہم سب کی بڑی پکی قسم کی سہیلیاں شیعہ تھیں.

محرم میں جلوس اور تعزیے نکلتے، سبیلیں لگائی جاتیں، ربیع االاول میں محافل میلاد منعقد ہوتیں. ہمارے بڑے ذرا وہابی اور کٹر قسم کے تھے. لہٰذا ہمیں خوب اچھی طرح سکھایا گیا تھا کہ ان سب کو صحیح نہیں سمجھنا اور ان رسومات کے کھانے پینے سے بھی گریز کرنا ہے. لیکن یہ گریز بڑے عجیب طرز کا تھا. نہ اس میں جارحیت تھی نہ سوشل بایکاٹ تھا اور نہ نفرت تھی. بلکہ یہ ایک بڑی خاموش ، اصولی طورپر مضبوط اور با اعتماد قسم کی احتیاط تھی.

ہم محرم میں جلوس اور تعزیے بھی شوق سے دیکھ لیا کرتے . البتہ تلواروں والا ماتم دیکھنے پر بچوں پر پابندی تھی. محرم میں اچھی سے اچھی سجی سبیلیں دیکھنے کے لیے اپنے کزنزکے ساتھ گلیوں گلیوں گھوما کرتے. تلواریں اور رنگ برنگی ٹوپیاں بھی خرید کر دلادی جاتیں. ربیع الاول کے مہینے میں خاندان میں ہونے والی محافل میلاد میں شرکت تو لازمی تھی. البتہ کھڑے ہو کر سلام پڑھتے وقت ہم دوسرے کمرے میں چلے جاتے. میلادی قصے پڑھنے پر ہم الجھ کر ضرور کہتے کہ اس کے بجاۓ احادیث اور سیرت نبوی صلی اللہ وسلم کیوں نہیں پڑھی جاتیں. دادی ہماری پیار سے پچکار کر کہتیں کہ چلو اب کے میلاد میں “تقریر” تم کر لینا. ہر تہوار پر شہرکی “بتیاں دکھانے ” ہمارے ابو خود ہمیں لے جایا کرتے. بڑے ہوے تو کالج اور یونیورسٹی میں بھی کچھ ایسا ہی ماحول تھا. سب بس طلبہ ہی تھے، جیسے عام طور پر ہوا کرتے ہیں. یہاں گو کہ تفرقات کچھ زیادہ ہیں مگر اس کی بنیادیں سیاسی ہیں. عام لوگوں میں ایسے امتیازی رویے نہیں ملتے. جاب پر کام کرتے ہوے بھی سب ایک دوسرے کے کولیگ ہی ہوتے ہیں. ایک دوسرے کو مذھبی تہواروں پر سپورٹ دینے والے. مثلا اسپتال میں اگر عید یا بقر عید پر آپ ان کال ہیں تو آپ کو بہر صورت اپنی ذمہ داری اداکرنی ہو گی. لیکن ایسٹر ، کرسمس یا دیوالی وغیرہ پر اپنے غیر مسلم ساتھی کو بیک دیں گے اور ان کی جگہ مسلمان ڈاکٹروں کی ڈیوٹی لگے گی. یہ کام بڑے نارمل اندازمیں ایک روٹین کے طور پر ہوتا ہے.

ہم اپنے ہندو کولیگز کے ساتھ اسی طرح دوستیاں اور دشمنیاں رکھتے ہیں جس طرح مسلمان کولیگز کے ساتھ. گھروں میں کام کرنے والی ماسیاں، مالی، ڈرائیور، خاکروب وغیرہ عید پر الگ اور اپنے مذھبی تہواروں پر الگ جوڑے، راشن اور “عیدی” لیا کرتے . دونوں ہی طرح کے تہواروں پر چھٹیاں بھی لی جاتیں. سکولوں، کالجوں اور نوکریوں میں کم از کم مذھبی طور پر کسی قابل ذکر امتیاز کا ہمارے یہاں تذکرہ نہیں ملتا. چونکہ بحثیت مجموعی غیر مسلم آبادی بہت کم ہے اس اعتبار سے ان جگہوں پر ان کی شرح کم مگر relevant ہے. عالمی رپورٹوں میں “اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک ” کے موضوع پر آپ کو “بلاسفیمی لا” ، ” قانون ختم نبوت ” ” نصاب تعلیم میں مذھبی مواد کی موجودگی ” اور “حالیہ پرتشدد ” واقعات سے متعلق اعداد وشمار ہی ملیں گے. یہ اور بات ہے کہ خود اقلیتوں کی جانب سے ہونے والی (کچھ ہی سہی) زیادتیوں پر کوئی رپورٹ نہیں ملے گی. یعنی مذھبی اختلافات کے علاوہ عملی میدانوں میں امتیازی سلوک کی شہادتیں پیش کرنا ذرا مشکل ہے بلکہ اس لحاظ سے تواور معاشروں کے برعکس ہمارا ریکارڈ کافی اچھا ہے. مختصرا یہ کہ اختلافات ہمیشہ سے ہیں. راسخ العقیدگی بھی کوئی آج کی پیداوار نہیں. مگر ایسی جارحیت اور انتشار پہلے نہ تھا. اس کا مطلب یہ نہیں کہ سب کچھ بہت مثالی تھا. یقینا بحیثیت اکثریت ہمیں زیادہ وسعت قلبی اور خیر کا برتاؤ کرنا چاہیے تھا. صفائی ستھرائی سے وابستہ اقلیتی برادری کے لئے عزت ، خدمت اور دعوت خیر کی ضرورت تھی. اپنے اجتماعی رویوں کو بہتر بنانا چاہیے تھا. یہ ہم پر قرض تھا اور ہے کہ ہم اپنے دین کی فیوض وبرکات سے انہیں فیض یاب کرتے. ہم نے انہیں مثالی دعوت الی الخیر کا نہ مستحق جانا اور نہ اس کے لئے قابل ذکر کوششیں کیں. ہمارے روایتی حلقوں اور بزرگوں نے انہیں حقیر بھی سمجھا . مگر پھر بھی ہم ایسے جارح ، جنونی اور خون کے پیاسے کبھی نہ تھے کہ اسے ہمارا امتیازی نشان سمجھا جاتا. یہ جو آج کا پاکستان ہے جس سے وابستگی پر آج کچھ لوگوں کو شرمندگی ہورہی ہے، ہم پاکستانی تو اس کو نہیں جانتے. اسی لئے ہمارے لئے یہ ماننا بہت مشکل ہے کہ ایسی بربریت ہم سے سرزد ہوتی ہے. اسی لئے ایسی بربریت پر ہم سب درد سے نڈھال ہو جاتے ہیں اور اسی لئے ایسے خونچکاں لمحوں میں ہم اپنوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کو دوڑ کر جاتے ہیں. مجھے وہ سب خون رنگ واقعات یاد ہیں جب ہم پاکستانیوں نے اپنے ہم وطنوں کے لئے خون کے عطیات دیے، مرہم پٹی کی ،گھروں میں راشن پہنچاۓ، گھر گھر جاکر کاؤنسلنگ کی، جو کرسکتے تھے کیا.

اسی لئے میں مصر ہوں کہ یہ جو کچھ “دائیں ” اور کچھ ” بائیں “بازووں والے پاکستانیوں کا “مکروہ” چہرہ دکھا کر ہمیں مایوس کرنا چاہتے ہیں، اس قوم پر تبرے بھیجتے ہیں، اس ملک سے وابستگی پر شرمندگی کا برملا اظہار کرتے ہیں، یہ ہمارا چہرہ نہیں. ہم تو cultural diversity (ثقافتی تنوع) کی خوبصورت مثال ہیں، ہم تو موت اور خوف کے خلاف زندگی کی مزاحمت کی علامت ہیں، ہم تو محبت اور خدمت کا استعارہ ہیں. ہم جو صدیوں کا کٹھن سفر طے کرتے یہاں تک پہنچے ہیں ، اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہم نےوقت اور حالات کے جبر کا مقابلہ کیا ہے اور survive بھی کیا ہے ، ہم تو بڑے سخت جان ہیں ایسے نہیں مٹنے والے. ہم اور آگے جائیں گے. اگرچہ ایک لمبے عرصے سے ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمارے راہزن ہی ہمارے راہبر ہیں جو ہماری منزلوں کے نشان گم کردیتے ہیں. مگر پھر بھی ہم خوف ، عصبیت اور مایوسی کے اندھیرے میں خدمت ، محبت اور امید کے دیے جلائیں گے. اپنے حصے کے دیے !!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: