سیکولرزم کے لبادے میں چھپے کمیونسٹ اور سوشلسٹ تحریک و نظریہ پاکستان کے اصل مخالف

تحریر : شمس الدین امجد

ادارہ مطالعہ تاریخ، پاکستان میں کمیونزم اور سوشلزم پر عقیدہ رکھنے والے بچے کھچے اصحاب کا ادارہ ہے۔ ڈاکٹر مبشرحسن ، ڈاکٹر مہدی حسن اور حسین نقی جیسے بڑے نام اس کے سرپرستوں اور حلقہ مشاورت میں شامل ہیں۔ ادارے نے ترقی پسند نقطہ نظر سے از سر نو تاریخ پاکستان لکھنے کا بیڑہ اٹھایا ہے اور ‘پاکستان کی سیاسی تاریخ’ کے عنوان سے برصغیر کے مختلف خطوں کی تاریخ شائع کی ہے۔ اگرچہ یہ تاریخ مخصوص ذہنیت کے پیش نظر مخصوص تناظر میں لکھی گئی ہے مگر اس سے حالات و واقعات کی ایک تصویر سامنے آ جاتی ہے اور اگر آپ نے اس موضوع پر دیگر کتب کا مطالعہ کر رکھا ہے تو حقیقت اور آمیزش کا اندازہ ہو جاتا ہے اور مخصوص اسلوب بھی سامنے آ جاتا ہے۔ اس وقت اس سیریز کا نواں حصہ بعنوان ‘ تحریک پاکستان میں بنگالی مسلمانوں کا نمایاں ترین کردار’ زیر مطالعہ ہے، جو معروف ترقی پسند صحافی زاہد چوہدری اور حسن جعفر زیدی کی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔

کتاب کے بیک پیج پر زاہد چوہدری کے تعارف میں نظر چند لائنوں پر نظر ٹھہر گئی ، پہلے یہ چند لائنیں ملاحظہ کیجیے

” زاہد چوہدری نے قومیتی تضاد اور قومی تضاد کی اہمیت کو اپنے منفرد انداز میں اجاگر کیا، 71-1970 میں بنگالیوں کے قومیتی حقوق کے حق میں آواز اٹھائی اور وقت سے پہلے لوگوں کو متنبہ کیا کہ ملک ٹوٹنے والا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ قومی تضاد کے حوالے سے بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم کی ہمیشہ سختی سے مخالفت کی۔ پاکستان کے ترقی پسند حلقوں نے اس کا سمجھایا ہوا قومی تضاد کا نظریہ قبول کر لیا ہے مگر پاک بھارت قومی تضاد کی حقیقت کو ابھی تک بعض حلقے قبول کرتے ہوئے دکھائی نہیں دیتے”

آج کل جو لوگ مولانا مودودی پر تحریک پاکستان کی مخالفت کا لغو اور بے بنیاد الزام (جس کا جائزہ ہم الگ مضمون میں لیں گے) لگاتے ہیں ، ان کی اپنی حقیقت یہ ہے کہ انھوں نے خود کل تحریک پاکستان اور دو قومی نظریے کو قبول کیا تھا نہ آج کر رہے ہیں۔ یہ کل کمیونسٹ تھے، سوشلسٹ تھے، ترقی پسند تھے، آج خود کو سیکولر و لبرل کہلواتے ہیں، لیکن ذہنی طور پر وہیں کھڑے ہیں جہاں 1947 میں تھے۔ اسی کی طرف زاہد چوہدری کے اس تعارف میں اشارہ کیا گیا ہے کہ وہ آج تک پاک بھارت علیحدگی اور اس دو قومی تضاد کو قبول نہیں کر سکے۔

کمیونسٹ اور سوشلسٹ مذہب کو تو مانتے نہیں، ان کے نزدیک انسان طبقاتی تضاد اور جبر کا شکار ہے، اس کو اس سے چھٹکارا دلانا ہے، اس لیے اسلامی قومیت کی بنیاد پر کسی تحریک میں ان کےلیے کوئی کشش نہیں تھی، ان کےلیے پورا ہندوستان جدوجہد کا میدان تھا اور وہ پورے ہندوستان پر سرخ جھنڈا لہرانے اور تمام قومیتوں اور مذاہب کو زیر نگیں کرنے کو اپنی معراج سمجھتے تھے۔ مگر چار و ناچار پاکستان بن گیا تو بھی وہ اپنی اس خواہش سے پیچھا نہیں چھڑا پائے، ہندوستان میں وہ آج بھی مسلح جدوجہد کر رہے ہیں اور پاکستان میں

وہ یا تو راولپنڈی سازش کیس میں بغاوت کرتے اور حکومت و ریاست پر قبضے کی سازش کرتے نظر آتے ہیں تاکہ پاکستان کو بھی سرخ دائرے میں شامل کر سکیں، یاد رہے کہ جنرل اکبر خان اور فیض احمد فیض اس سازش کے سرخیل تھے۔ پاکستان میں مسلح بغاوت اسی فکر کی دین ہے۔ مکتی باہنی سے پختون زلمی اور خیبرپختونخوا اور بلوچستان کو الگ کرنے کی سازش تک۔ مسلح بغاوت اس فکر کا لازمی نتیجہ ہے، جہاں بھی اس فکر کا ظہور ہوا ہے ریاست کے خلاف بندوق تھامنا سامراج کے خلاف نکلنے جیسا قرار پایا ہے اور چی گویرا نسل کے کئی مسلح جدوجہد کرنے والے اس فکر کے ہیرو قرار پائے ہیں۔

یا پھر ساحر لدھیانوی اور قراۃ العین حیدر کی صورت میں ہندوستان جاتے دکھائی دیتے ہیں۔ اور یہ اپنے آپ میں انوکھی مثال تھی کہ جب برصغیر کے مسلمان لاکھوں کی تعداد میں پاکستان کو اپنے خوابوں کی سرزمین سمجھ کر اس کی طرف ہجرت کر رہے تھے، وہ بھی جنھوں نے حمایت کی اور وہ بھی جنھوں نے اس سے اختلاف کیا، مگر یہ سعادت صرف کمیونسٹوں اور ترقی پسندوں کے حصے میں آئی کہ ان کے نمایاں نام پاکستان سے ہجرت کرکے ہندئووں کے ساتھ ہندوستان تشریف لے گئے۔ آج جب ان کی باقیات صحیح یا غلط کسی اور پر الزام لگاتی ہیں تو دل کرتا ہے کہ ان کی ڈھٹائی پر مبنی اس ادا پر کہیں دور جا کر خوب ہنسا جائے۔

اصلا تو سیکولرزم بھی مذہب کو برداشت نہیں کرتا اگرچہ کہا جاتا ہے کہ مذہب فرد کا نجی معاملہ ہے اور سیکولرزم کو اس سے کوئی سروکار نہیں مگر ظاہر ہے کہ یہ دھوکے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ کل کے کمیونسٹ اور سوشلسٹ جنھوں نے اب روبل کے بجائے ڈالرز سے آس لگالی ہے اور طبقاتی تضاد کے خاتمے کی جدوجہد کو خیرباد کہہ کر سرمایہ دارانہ نظام کی چوکھٹ پر سجدہ ریز ہیں۔ اب جب وہ سیکولرزم کی بات کرتے ہیں تو اصلا دو قومی نظریہ اس میں بھی کہیں فٹ نہیں بیٹھتا، اس لیے نئے نظریے اور نئی قرارداد کی بات سننے کو مل رہی ہے۔ تحریک پاکستان کی کامیابی سے لگنے والا زخم آج تک بھرا نہیں ہے، اس کی ٹیس اٹھتی اور کچوکے لگاتی رہتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ سیکولرزم کے داعی تحریک پاکستان کے دنوں میں کانگریس اور اس کے ہمنوا تھے، اب ان کے الفاظ میں کوئی ان سے پوچھے کہ وہ سیکولرزم کے مقابلے میں اسلام کے نام پر بننے والے پاکستان کے مامے چاچے کب سے بن گئے؟ اور مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ جیسے خالصتا اسلامی اور مسلم نعروں پر چلنے والی تحریک میں سے سیکولرزم کہاں سے نکال لائے؟ پاکستان سیکولرزم کی بنیاد پر بنا یا اس لیے کہ بعد میں اس کی چراگاہ بن سکے تو پھر تو اس تقسیم کی کوئی ضرورت تب تھی نہ اب اس کا کوئی جواز دکھائی دیتا ہے۔ ایک لطیف نکتہ اس میں یہ بھی ہے کہ کانگریس ظاہرا ہی سہی سیکولرزم کی بنیاد پر یک قومی نظریے کی بات کر رہی تھی، اس لیے وہاں آئین سیکولر بنا، اس کے مقابلے میں مسلم لیگ اسلام اور مسلم تشخص کی بنیاد پر دو قومی نظریے کے ساتھ میدان میں تھی، اس لیے یہاں قرارداد مقاصد بھی منظور ہوئی اور ریاست بھی دستوری طور پر اسلامی جمہوریہ قرار پائی۔ اس تاریخی تناظر میں نہیں معلوم کہ کوئی سیکولر کیسے دوقومی نظریے کی بنیاد پر بننے والے پاکستان کا ٹھیکیدار بن سکتا ہے؟ کوئی جواب ہو تو عنایت فرمائیے۔ شکریہ

1 Comment
  1. 15 April, 2016
    میرا فسر امان
    swkolr anasar ka moh pr tamacha hay.yi rang bdl bdl kr pakistan kay islami tashes ko naqasn poncahatay hain ..kl russia say robl latay thay aj amrika say dalar latay hain.jasay pily es ko shakast hoe the ab be ya sakast khain gay
    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: