میڈیا ہمیں کیا اور کیوں دکھاتا ہے؟ (نوم چومسکی Noam Chomsky)

اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ اس وقت دنیا کو عسکری طاقت نہیں بلکہ میڈیا کی طاقت کے ذریعے کنٹرول کیا جارہا ہے ۔۔۔۔۔ دنیا کی حکمران ایلیٹ یعنی اصل اور بڑا سرمایہ دار طبقہ جیسے چاہے عوام کی رائے تبدیل کرنے پر قادر ہے ۔۔۔۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ میڈیا دنیا کی خبریں بلا کم و کاست پہنچا دیتا ہے تو اس کی شدید غلط فہمی ہے ۔۔۔۔ دنیا بھر کے میڈیا پر ترقی یافتہ ممالک کے سرمایہ داروں کا مکمل کنٹرول ہے اور ترقی پذیر ممالک کا میڈیا ان مغربی اداروں کا دست نگر ہے جو سرمایہ دارانہ نظام کے محافظ کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
معروف مفکر نوم چومسکی اور ایڈورڈ ہرمن نے 1988 میں شائع ہونے والی اپنی کتاب The Political Economy of Mass Media میں خبر کو عوام تک پہنچانے کے اس سلسلے کو ایک پراپیگنڈا ماڈل قرار دیتے ہوئے ایسے پانچ فلٹرز کی نشاندہی کی جن سے گزار کر خبر کو عوام تک پہنچایا جاتا ہے ۔۔۔۔۔ انہی فلٹرز کے ذریعے یہ طے کیا جاتا کہ کس خبر کو کس انداز سے لوگوں تک پہنچانا ہے یا اس میں مطلوبہ ردوبدل کرنا ہے یا سرے ہی سے دبا دینا ہے ۔۔۔۔۔ ان پانچ فلٹرز پر ایک نظر ڈالنے سے یہ اندازہ کرنا قطعی مشکل نہیں کہ ہمیں کیا اور کیوں بتایا جاتا ہے:
* میڈیا اداروں کی ملکیت، سرمائے کا تحفظ، منفعت پسندی
تمام میڈیا ادارے خالصتاً اپنے مالکان کے مالی مفادات کے لیے کام کرتے ہیں اور عوامی حقوق کا تحفظ محض ایک ڈھکوسلا ہے۔ یہ مالکان مکمل طور پر سرمایہ دارانہ ذہنیت رکھتے ہیں اور دولت کے ساتھ ساتھ طاقت کے حصول میں مصروف رہتے ہیں تاکہ حکومتوں، اداروں اور عوام کو اپنی مرضی کے مطابق چلنے پر مجبور کر سکیں۔
* فنڈنگ اور ایڈورٹائزنگ
سرمایہ ہی مزید سرمائے کے حصول کا ذریعہ ہے۔میڈیا اور صنعتی ادارے ایڈورٹائزنگ کے ذریعے ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔ ان دونوں کے نزدیک عوامی مفاد نام کی کوئی شے وجود نہیں رکھتی۔
* خبر کے ذرائع پر اجارہ داری
بڑے ادارے خبر اور معلومات کے ذرائع پر بھی اجارہ داری رکھتے ہیں۔یہ ادارے معروف شخصیات کے انٹرویوز اور گفتگو کے پروگراموں کو بھی کلی طور پر سرمایہ دارانہ نظام کے تحفظ کے لیےاستعمال کرتے ہیں۔
* توجہ بٹانے کے لیے معمولی تنقید، مخالف آواز دبانے کے طاقت کا استعمال
بعض اوقات میڈیا ہمیں ان سرمایہ داروں پر تنقید کرتے ہوئے بھی نظر آتا ہے جن کے مفادات کا تحفظ یہ خود کرتا ہے۔ یہ نمائشی تنقید محض عوام کی توجہ کسی برے معاملے سے ہٹانے کے لیے ہوتی ہے۔ دوسری جانب میڈیا اور اس کی پشت پر کارفرما سرمایہ دار مخالف آوازوں کو دبانے کے لیے طاقت کے استعمال سے بھی گریز نہیں کرتے۔ رشوت، بلیک میلنگ اور قتل تک ان کے لیے معمولی بات ہیں۔
* سرد جنگ کےدور میں کمیونزم اور موجودہ دور میں “اسلامی” دہشت گردی کا خوف
میڈیا لوگوں کے اذہان کو اپنی مرضی کے مطابق سوچنے پر مجبور کرنے کے لیے “ولن” تراشتا ہے۔ ایک طویل عرصے تک سرمایہ دارانہ نظام نے اپنے عوام کے ذہنوں میں کمیونزم کا خوف بٹھائے رکھا۔ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد پہلے عراق اور پھر اسلامی دہشتگردی کا خوف پیدا کر کے، عوام کو اس کا شکار بنایا گیا۔ اس خوف کے لیے میڈیا صرف خبر ہی نہیں، ہر پروگرام، ڈرامے، فلم وغیرہ کا سہارا لیتا ہے۔ یہ خوف پیدا کرنے کے بعد لوگوں کو یہ بتایا جاتا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام ہی ان کی جان و مال کا محافظ ہے تاکہ وہ اس نظام کے شکنجے سے آزاد ہونے کے متعلق سوچنے کی زحمت بھی نہ کریں۔
ترجمہ: جین سارترے
Jean Sartre

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: