گھر سے جو تیغ و کفن لے کے چلا کیوں سرِ کوئے بُتاں رقصاں ہے : اسریٰ غوری

میدان کے عین درمیان میں لکڑی کی سادہ سی میز رکھی ہے جس کے دونوں طرف بھارتی فوج اور سپاہی الگ الگ قطار میں کھڑے ہیں، میز کے گرد پہلے جنرل اروڑا بیٹھتے ہیں، ان کے برابر جنرل نیازی بیٹھ جاتے ہیں۔ یہ ان کی زندگی کا سب سے زیادہ ذلّت آمیز لمحہ ہے، مسّودہ میز پر رکھا ہے، جنرل نیازی کا ہاتھ آگے بڑھتا ہے اور ان کا قلم مسودے پر اپنے دستخط ثبت کر دیتا ہے۔ پاکستان کا پرچم سر زمین ڈھاکہ میں سرنگوں ہوگیا۔ جنرل نیازی اپنا ریوالور کھولتے ہیں اور گولیوں سے خالی کر کے جنرل اروڑا کے ہاتھ میں تھما دیتے ہیں۔ جنرل نیازی کے تمغے اور رینک سر عام اتارے جاتے ہیں۔ ہجوم کی طرف سے گالیوں کی بوچھاڑ شروع ہوتی ہے۔ جنرل نیازی اپنی جیپ کی طرف آتے ہیں جس کا بھارتی فوجیوں نے محاصرہ کر رکھا ہے۔ ”قصاب، بھیڑیے اور قاتل“ کا شور اُٹھتا ہے، جنرل نیازی اپنی گاڑی میں بیٹھنے والے ہیں، ایک آدمی محاصرہ توڑ کر آگے بڑھتا ہے، اور اُن کے سر پر جوتا کھینچ کر مارتا ہے۔ ہائے ! یہ رُسوائی ، یہ بے بسی اور یہ بےچارگی، یہ ذلّت اور اور یہ ہزیمت ، ہماری تاریخ نے پہلے کبھی نہ دیکھی تھی۔ (سقوط بغداد سے سقوط ڈھاکہ تک) لکھنے کو بڑا حوصلہ درکار تھا کوئی افسانہ تو نہیں لکھنے جا رہے تھے کہ بس قلم اٹھایا اور چلا دیا۔ یہ تو اپنی ہی آپ بیتی تھی، اپنے ہی لہو کی داستاں تھی، نام نہاد اپنوں ہی کے ہاتھوں ٹکڑے ٹکڑے ہوجانے کی دردناک روداد تھی، سرا پکڑنے کی تلاش میں بہت دیر تاریخ کے جھرونکوں میں جھانکتی رہی، سامنے ہی صدیق سالک کی کربناک سچائیاں لیے ایک ایک حقیقت میری تلاش کا جواب دیتی ”میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا“، ہاں ہم نے بھی اس میں حقیقتا ڈھاکہ کو ڈوبتے دیکھا. لمحہ لمحہ ڈوبتے ڈھاکہ میں کئی بار آنکھیں دھندلائیں، کئی بار الفاظ آپس میں گڈ مڈ ہوئے، کئی بار دل اپنوں کے ہاتھوں اپنوں کے اس خون ناحق پر اس زور سے نوحہ کناں ہوا۔ مگر وہ نوحے کون سنتا؟ غلطیوں، زیادتیوں، اور ناانصافیوں کے شور میں ایسے نوحے دب جایا کرتے ہیں۔ وہ خواب، وہ نظریہ، یوں دولخت کیوں ہوا؟
اس سوال میں خود بہت کچھ ہے مگر سیکھنے اور سمجھنے والوں کے لیے۔ تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ سقوط ڈھاکہ پرصرف آنسو بہانے کے بجائے ہم تلخ حقائق کا جائرہ لیں جن کے سبب ہمیں مشرقی پاکستان میں ذلت و رسوائی کا سامنا ہوا۔ خرابیاں تو پاکستان بننے کے بعد ہی واضح ہو گئی تھیں جن کا احاطہ کرنا تفصیل طلب ہے، اس لیے صرف1971ء سے مختصر تجزیہ ضروری ہے۔ 1970ء میں جنرل یحیی خان نے انتخابات کرائے جن کے نتیجے میں ملک سیاسی اعتبار سے تقسیم ہو گیا۔ اس تقسیم کو سیاسی حکمت عملی سے دور کیا جا سکتا تھا لیکن دانستہ طور پر طاقت کے زور پر اسے حل کرنے کی کوشش کی گئی۔ ذرا غور کیجیے کہ جنرل یحییٰ خان جنوری 1971 ءمیں ڈھاکہ جاتے ہیں اور وہاں جھوٹا اعلان کرتے ہیں کہ قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس 9 مارچ کو ڈھاکہ میں ہوگا۔ اسلام آباد واپس آتے ہی اپنا وعدہ بدل دیتے ہیں۔ قومی اسمبلی کے اجلاس کو ملتوی کر دیا اور نئی شرائط عائد کر دیں۔ ہماری کوتاہیاں دشمن کی راہ ہموار کرتی گئیں اور بالاخر اس نے ہمیں یوں زیر کیا کہ ہم اٹھ بھی نہیں پائے، مگر افسوس صد افسوس کہ ہمیں اس کا احساس تک نہیں تھا کہ ہم کیا کھو رہے ہیں، بلکہ ہماری مغربی پاکستان کی اعلی سیاسی و فوجی قیادت کی جانب سے ”خدا کا شکر ہے کہ پاکستان بچ گیا“ تو کبھی ” ادھر ہم ادھر تم ” کی بازگشت سنائی دی۔ 16 دسمبر کو پاکستان میں سقوط ڈھاکہ کے المیہ پر ملک بھر میں بے شمار جگہوں پر تقریبات ہوتی ہیں۔ اسباب کا ذکرہوتا ہے، مقالے پڑھے جاتے ہیں اور ملک کے دانشور اپنے خیالات کا بڑے پر زور الفاظ میں اظہار کرتے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستانی قوم کو اس سانحے پر بڑا دکھ ہے اور قوم اس سے سبق سیکھنا چاہتی ہے اور ملک کی تقسیم سے نظریہ پاکستان کو جو نقصان پہنچا ہے، اس پر پشیمان ہے اور اس نظریے کی مضبوط حصار بندی کی ضرورت سے آگاہ ہے۔ دراصل یہ تمام باتیں خود فریبی ہے۔

یہ حقیقت بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے راہنماؤں کو پھانسی دینے سے عیاں ہو گئی ہے، جن کا جرم یہ تھا کہ انہوں نے 1971ء میں جب فوج مشرقی پاکستان میں حکومتی رٹ قائم کرنے کے لیے جنگ لڑ رہی تھی، تو اس نے جماعت اسلامی کے نوجوانوں پر مشتمل ایک تنظیم البدر کے نام سے بنائی جس نے پاک فوج کے شانہ بشانہ پاکستان کی جنگ لڑتے ہوئے بڑی قربانیاں دیں۔ جماعت اسلامی کی قیادت پر الزام لگایا کہ البدر کا حصہ ہوتے ہوئے انہوں نے بنگالیوں پر ظلم کیا، انہیں قتل کیا اور خواتین کی بے حرمتی کی۔ ان الزامات کی بنیاد پر انھیں اس عدالت کے سامنے پیش کیا گیا جسے جنگی جرائم کے خلاف انٹرنیشنل ٹرائل کورٹ کا نام دیا گیا. اس ظالمانہ فیصلے کے خلاف حکومت پاکستان نےاحتجاج کا ایک لفظ بھی نہ بولا، بلکہ یہ کہہ کر خاموشی اختیار کر لی کہ ”یہ بنگلہ دیش کا اندرونی مسئلہ ہے۔“ حالانکہ یہ بنگلہ دیش کا اندرونی معاملہ نہیں تھا بلکہ نظریہ پاکستان کے تقدس کا معاملہ تھا۔ پاکستان کی سلامتی کا معاملہ تھا، اس لیے کہ مشرقی پاکستان کا علاقہ کہ جہاں مسلم لیگ ایک جماعت کی حیثیت سے معرض وجود میں آئی تھی، اور جہاں کے مسلمانوں نے یک زبان ہو کر پاکستان کے حق میں ووٹ دیا تھا،وہاں ان لوگوں نے پاک فوج کے ساتھ مل کر ملک کی بقا کی جنگ لڑی، قربانیاں دیں، جس طرح فوجی جوان اور آفیسر اس جنگ میں شہید ہوئے اور ان میں اکثر وہاں گمنام قبروں میں دفن ہیں، اسی طرح ان لوگوں نے بھی قربانیاں دیں اور شہید ہوئے. ہماری حکومت نے ان کے جسد خاکی کو پاکستان لانے کی ایک موہوم سی کوشش بھی نہیں کی جبکہ ویتنام کی جنگ ختم ہونے کے نصف صدی گزرنے کے بعد بھی امریکہ اپنے گمنام سپاہیوں کو تلاش کرنے کا حق رکھتا ہے۔ اس لیے کہ اس قوم کو حب الوطنی کے معنی معلوم ہیں۔ تجزیہ نگار شیخ افتخار عادل انھی قائدین میں سے ایک عبدالقادر ملا کی شہادت پر یوں رقمطراز ہیں: ”جماعت اسلامی کے بزرگ رہنماؤں کو بھارتی اشارے پر اسلام اور پاکستان سے محبت کی سزا دی جا رہی ہے۔ بنگلہ دیشی عوام حسینہ واجد حکومت کی اسلام اور پاکستان دشمن پالیسیوں کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ ان قائدین کا قصور کیا تھا، پاکستان سے محبت، وہ پاکستاں کی تقسیم کا مخالف تھا۔ اس محب وطن پاکستانی کا خیال تھا کہ بھارت سے ساز باز کر کے پاکستان کو توڑنے کی سازش کرنے والے شیخ مجیب الرحمن کی اس سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ اس باہمت نوجوان نے پاکستان، نظریہ پاکستان اور اسلام کی حفاظت کا بیڑا اٹھایا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ پاکستان سے محبت کی خاطر اپنی جان قربان کرنے والا 65 سالہ بوڑھا شخص آج پاکستانیوں کی نظر میں اجنبی ہے، خود پاکستانی میڈیا اسے جنگی جرائم کا مرتکب سمجھ رہا ہے۔ وہ شخص جو دین و وطن کی خاطر پھانسی کے پھندے پر جھول گیا، اسے مجرم قرار دیا جا رہا ہے۔“ ملا عبدالقادر سے مطیع الرحمن نظامی تک، یہ سولیوں پر لٹکائے جانے والوں کے اجسام آج بھی اپنی محبتوں کے صلے پر سراپا حیران ہیں کہ محبت کی سزا تختہ دار ٹھہری ہے. اپنے دور اقتدار میں جنرل پرویز مشرف بنگلہ دیش گئے اور یادگار پر پھول چڑھا آئے اور ”غلطیوں کی معافی“ مانگ لی. کون سی غلطیاں؟ کیا وطن کی بقا کی جنگ لڑنا غلطی ہے۔ شمال مغربی سرحدوں سے بلوچستان اور کراچی تک، جو جنگ لڑی جا رہی ہے، اور جانوں کی قربانیاں دی جا رہی ہیں، کیا یہ بھی غلطی ہے یاد رہے جو قومیں اپنے ماضی سے سبق نہیں حاصل کرتیں اور محسنوں کو فراموش کردیتی ہیں، وقت انہیں پھر انہیں یوں فراموش کردیا کرتا ہے کہ وہ تاریخ کے اوراق میں بھی جگہ نہیں پاتیں۔
نوٹ : تحریر کے لیے صدیق سالک کی کتاب میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا اور جنرل اسلم بیگ کے ایک کالم سے استفادہ کیا گیا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: