رب کا شُکر کس لئے (تحریر بشارت حمید )

اللہ تعالٰی نے اس روئے زمین پر انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ جس طرح کی ذہنی اور جسمانی صلاحیتیں انسان کو عطا کی گئی ہیں ویسی کسی اور مخلوق کو نہیں دی گئیں۔ انسان مختلف اشیاء کی پہچان انکی خصوصیات کے ساتھ ساتھ انکے نام سے بھی کرتا ہے۔ انسان کی فطرت میں ودعیت کردہ علم الاشیاء آج جدید ٹیکنالوجی کے دور میں اپنی معراج کی طرف جاتا دکھائی دیتا ہے۔ ہزاروں میل کا سفر چند گھنٹوں میں اور ہاتھ میں پکڑے ایک چھوٹے سے سمارٹ فون کے ذریعے تمام دنیا سے رابطے نے جہاں اس زمین کو گلوبل ولیج بنا دیا ہے وہیں حضرت انسان اپنی اصل پہچان اور اپنے خالق سے غافل ہوتا جا رہا ہے۔
ہم اپنے شب و روز پر نظر دوڑائیں تو زندگی ایک تیز رفتار سے گزرتی نظر آتی ہے۔ کسی سڑک پر چند منٹ کھڑے ہو کر مشاہدہ کیا جائے تو ایک قلیل وقت میں سینکڑوں گاڑیاں اِدھر سے اُدھر بھاگتی نظر آتی ہیں۔ ہر بندہ کسی نامعلوم جلدی میں نظر آتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے زندگی میں سکون اور چین ختم ہو کر رہ گیا ہے۔ دنیا اکٹھی کرنے کی ایک نا ختم ہونے والی دوڑ ہے جس نے ہر ایک کو مصروف کر رکھا ہے۔ زیادہ سے زیادہ مال کمانے کی ہوس نے انسان کو مادہ پرستی اور خالق سے دوری کی راہ پہ چلا رکھا ہے۔ ہر انسان کے پاس جو کچھ ہے اس پر شکر کرنے کی بجائے جو نہیں ہے اسے حاصل کرنے کی تگ ودو میں حلال و حرام کی تمیز کے بغیر دن رات اپنے آپ کو ہلکان کر رہا ہے۔
مال و دولت میں اضافے کی دوڑ ایسی دوڑ ہے جس کا اختتام ملک الموت کی آمد پر ہی ہوتا ہے تب انسان کو سوائے پچھتاوے کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ ایک حدیث مبارکہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ انسان کا وہی کچھ ہے جو اس نے کھا پی لیا اور پہن کر پرانا کر دیا یا پھر اللہ کی راہ میں صدقہ کر دیا باقی جو کچھ ہے وہ تو ورثاء کا ہے۔ یعنی انسان ساری زندگی میرا مال میری جائیداد کرتا کرتا موت کی دہلیز پر پہنچ جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ میرا تو کچھ بھی نہیں بس وہی کچھ تھا جو کھا پی کر جسم کا حصہ بنا لیا یا وہ قیمتی لباس جو پہن کر پرانا کر دیا باقی تو کچھ بھی میرے ساتھ نہیں جا سکتا سوائے نیک یا بد اعمال کے سب کچھ یہیں چھوڑنا ہے۔ اور جس دولت کو ساری زندگی کنجوسی سے بچا بچا کر جمع کیا جتنی جائیدادیں بنائیں اس کی آنکھ بند ہوتے ہی ورثاء تقسیم کر لیتے ہیں۔ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ پھر انسان کی زندگی کس کام میں لگ گئی جس کا اس کی اپنی ذات کو کچھ بھی فائدہ نہ پہنچ سکا۔
انسان اپنے آپ پر غور و فکر کرے تو اس کی اپنی ذات میں ایک ایسا نظام نظر آئے گا کہ بندہ اس کے بنانے والے مالک کی صناعی اور قدرت پر حیران رہ جائے۔ ذرا یہ تصور کیجئے کہ اپنی پیدائش سے ایک سال پہلے میں کہاں تھا۔۔۔کسی کو میرا کوئی پتہ نہیں تھا کوئی میری ذات کے بارے کچھ بھی نہیں جانتا تھا۔ میرے وجود کے اس دنیا میں آنے سے پہلے کسی کو میرا نام بھی معلوم نہیں تھا۔ میں جس ملک میں پیدا ہوا جس شہر محلے اور گھر میں جن والدین کے ہاں میری پیدائش ہوئی اس سارے نظام اور ماحول کو منتخب کرنے میں میرا اپنا یا کسی اور فرد کا کتنا اختیار تھا۔ پھر جب میں پیدا ہوا تو میرے سارے اعضاء درست حالت میں تھے اگر مجھ میں پیدائشی طور پر کوئی کمزوری یا نقص ہوتا تو میں کیا کر لیتا۔
پھر والدین کے دل میں اللہ نے میری محبت اس درجہ تک پیدا کی کہ انہوں نے میری پرورش کے لئے اپنا آرام و سکون بھی قربان کر دیا اور میری ہر آواز پر فوری میری طرف لپک کر آئے۔ میری کسی تکلیف پر وہ کتنے پریشان ہوتے اور جب تک مجھے سکون نہ ملتا وہ بے چین ہی رہتے۔یہ سارے انتظام میرے لئے کس نے کئے۔۔۔۔ یقیناً اسی خالق و مالک نے جس نے مجھے پیدا کیا اور میری ہر ضرورت کے مطابق ہر بندوبست کیا تو اس مالک کا شکر ادا کرنا ہم پر فرض ہے۔
انسانی جسم کا سارا نظام کتنا پیچیدہ ہے کہ اگر ایک عضو بھی اپنا کام پورا نہ کرے تو انسان بے کار ہو کر رہ جاتا ہے۔ اگر ہمارے پاس صحت و تندرستی کی نعمت ہے تو یہ اللہ کا سب سے بڑا انعام ہے۔ اگر ہم صرف اس ایک نعمت کا ہی احساس کر لیں تو اپنے رب کا شکر ادا کریں کہ ہم روزانہ صبح خود بیڈ سے اٹھ کر باتھ روم جا سکتے ہیں۔ دنیا میں ہزاروں لوگ ایسے ہیں جو بیڈ سے خود اٹھ کر بھی نہیں بیٹھ سکتے۔ پھر رفع حاجت اگر نارمل ہے تو بھی اس مالک کی بہت بڑی نعمت ہے کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جو اس سے محروم ہیں اور طرح طرح کے علاج سے بھی افاقہ نہیں پا رہے۔
ہم اپنے پاؤں پر چل کر کہیں بھی جا سکتے ہیں اپنی آنکھوں سے مختلف نظارے دیکھ سکتے ہیں اپنے ہاتھوں سے اپنی مرضی کا کام کر سکتے ہیں۔ ہمارا دل نارمل کام کر رہا ہے ہمارا بلڈ پریشر نارمل رہتا ہے ہم صحیح طور پر سانس لے سکتے ہیں ہمیں رات کو گولیاں کھائے بغیر نیند آ جاتی ہے تو یقین مانیں کہ ہم جیسا امیر کوئی نہیں ہے۔ یہ ایسی دولت ہے جو دنیا کا امیر ترین انسان بھی نہیں خرید سکتا۔ اسی پر اپنے رب کا شکر ادا کیا جائے کہ اس نے ہمیں صحیح سلامت رکھا ہوا ہے۔
پھر پینے کا میٹھا پانی جو ہم فری میں ضائع بھی کرتے ہیں دنیا کی کتنی بڑی آبادی ہے جو اس سے محروم ہے۔ کھانے میں رنگ برنگی ڈشیں تیار کرکے زبان کا چٹخارہ حاصل کرتے وقت ہمیں کبھی ان بھوکے لوگوں کا خیال بھی نہیں آتا جو کوڑے کے ڈھیر سے اپنے کھانے کا سامان اکٹھا کرتے ہیں۔
یہ تو چند مثالیں ہیں جن سے ہمیں ہر وقت واسطہ رہتا ہے اگر مزید غور کریں گے تو اللہ کی عنایت کا شمار نہیں کر سکیں گے۔ یہ جان لینا چاہیے کہ دنیا میں صرف پیسہ ہی سب کچھ نہیں کہ اسی کے پیچھے ہر وقت باولے ہو کر لگے رہیں۔ اللہ تعالٰی نے جو کچھ ہمیں دے رکھا ہے اس پر اس کا شکر ادا کرتے رہنا چاہیے اور دعا کرتے رہنا چاہیے کہ وہ ہمیں آزمائش سے محفوظ رکھے اور اپنی نعمتوں کی شکر گزاری کے ساتھ ہدایت کے سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: