فیصلہ آپ کا ! 

نیلی آنکھوں والی وہ ننھی سی شہزادی مسکراتی سی تصویر جب سامنے آتی جیسے سوال کرتی 

” بائ ذنب قتلت ”

کہاں سے جواب لائیں کہ اس سوال کا جواب تو روز محشر رب اعلیٰ خود لیں ان سفاک مجرموں سے جن کے جسموں میں آگ کے شعلے بھرے ہوتے انہی شعلوں میں رب تعالی’ انکو جلائے گا جن کی آنکھوں میں شیطان ناچتا ہے اور ساتھ انکو بھی نچاتا ہے مگر آخر کب تک ۔۔۔۔ 

اور جن کے سینوں میں دل نہیں انگارے ہوتے ہیں یاد رکھنا اللہ روز قیامت ان انگاروں کو کبھی ٹھنڈا نہیں ہونے دے گا وہ انکو اور بھڑکائے گا ۔۔۔

مگر آج انصاف کون کرے گا ؟؟؟

آج زینب کے ماں باپ کیساتھ ہر بچی کے ماں باپ کے جلتے کلیجوں پر مرہم کون رکھے گا 

اس جزا والے دن کی ہمیں پروا نہیں کہ وہ دن تو بدلے کا دن ہے  

” مالک یوم الدین ” 

ہمیں تو اس دنیا میں بدلہ چاہیے تاکہ آنے والے دنوں میں ہم پھر کسی زینب کی تصاویر شئیر کر کے سمجھ رہے ہوں کہ ہم فرض کفایہ ادا کردیا کیونکہ ۔۔۔ ہم بے بس بلکہ بے حس لوگ ہیں  چار دن  رو پیٹ کر چیخ چلا کر بس اگلے کسی سانحے کے رونما ہوجانے تک سب بھول کر نئے کھیل تماشوں میں گم ہوجانے والے ۔۔۔ 

کس کو یاد نہیں وہ سیکنڑوں بچوں کا اجتماعی زیادتیوں اور انکی ویڈیوز کا بھیانک و المناک سانحہ جن سے انکا بچپن انکی معصومیت ہی نہیں بلکہ ان سے ان کی زندگی کی خوبصورتی کو ہی چھین کر ان کو زندہ درگو کردیا گیا تھا کیا وہ بچے اب اک نارمل زندگی گزارنے کے قابل رہے ؟؟ وہ معصوم سی سنبل ایسے ہی تو شور برپا ہوا تھا اک کہرام مچا تھا ۔۔۔ 

مگر پھر کیا ہوا ؟

کیا وہ سفاک قاتل پکڑے گیے 

 کیا وہ انسانیت سے عاری مجرم سولی چڑھائے گئے ؟  ؟

 کیا اسکو بھیانک انجام سے دوچار کرکے آوروں کیلیے عبرت بنایا گیا ؟؟ 

نہیں نا !! 

وہ گینگ جس کا سراغ بھی لگ چکا تھا ؟؟ 

مگر کیا کیجیے کہ کھوجیوں کے کھرے تو کسی بڑے محل کے آگے جا کر رک رہے تھے کہ جن اندر جانا کسی کے بس میں نا تھا ۔۔۔ 

پھر کیا ہوا اگلے ایسے ہی کسی واقعہ تک اک لمبی خاموشی ۔۔۔۔ اک لمبی نیند ۔۔۔۔۔

اے کاش کہ اسوقت ان لمبے ہاتھ والوں اور اونچے محلوں اور پست کردار والوں پر کوئی ہاتھ ڈال دیتا اے کاش ! کہ کوئی ان کو سرعام پتھروں سے رجم کروادیتا تو آنے والے شیطان صفت اپنی ہوس کی آگ کو بجھانے سے پہلے اس انجام کو سو بار سوچتے تو سہی۔۔۔۔ 

اے کاش ! کہ یہ سب ہوجاتا تو میرے اور کتنے ہی معصوم بچے میری نجانے کتنی سنبل کتنی زینب کتنی طوبی بچ جاتیں  وہ بھی جو جان سے جا چکیں اور وہ بھی جو اب تک لاپتہ ہیں اور جن کے ماں باپ وہ زینب کی حالت دیکھ دیکھ کر دن رات کیسے سولی پر لٹکتے ہونگے ۔۔۔ 

ان چند ماہ میں معصوم سی زینب صرف قصور شہر کی بارہویں بدنصیب بچی ہے جو ایسے درندوں کے بھینٹ چڑھی ۔۔۔

لیکن ! اک منٹ رکیے ذرا ! اک نگاہ دوڑائیے ان اخبار کے تراشوں پر کہ یہ اخباری تراشے ہی نہیں بلکہ وہ آئینہ ہے جس میں میرے آپ کے ملک کی بھیانک  تصویر ہے۔۔اور بات انہیں بارہ تک نہیں بلکہ اس دیس میں جہاں آپ اپنے بچوں کو کلیجے سے لگا چین کی نیند سوتے ہیں اسی دیس میں کتنے بچے بچیاں ہر روز  ان شیطانوں کی شیطانی ہوس کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں ۔۔


کون نہیں جانتا کہ اس شیطانیت کا محرک  آج میڈیا پر چلنے والے ننگے ناچ ہوں یا ہاتھ میں پکڑے اس ایک موبایل پر اک کلک پر آنے والی وہ پورن ویڈیوز ہیں جو جاہل سے جاہل بھی پچاس روپے دے کر اپنے میموری کارڈ میں فیڈ کروالیتا جو نا صرف خود دیکھی جاتیں ہیں آگے فاروڈ کی جاتیں  اور پڑھے لکھے تو انکا تو کیا ہی کہنا کہ یہ سو کالڈ پڑھے لکھے معزز حضرات تک اپنے واٹس ایپ گروپس میں ایسی ویڈیوز شئیر کرتے ہیں اور انجوائے کرتے جن کو دیکھ کر آپ کی روح تک کانپ جائے اور جب وہ لوگ بھی زینب جیسی بچیوں کے انجام پر نوحے لکھتے تو جی چاہتا ان کا منہ نوچ لیا جائے ۔۔۔ 

ایسے بھیانک واقعات کی روک تھام اسی صورت میں ممکن ہے جب دونوں محاذوں پر بیک وقت کام کیا جائے 

اک طرف اس ملک سے ان پورن ویڈیوز کا خاتمہ اس پر بین لگانا اسے بلاک کرنا اور اس بے لگام میڈیا کو لگام دینا ہے 

 تو دوسری جانب ایسے بھیڑیوں کو سر عام وہ سزا دینا جو آنے والوں کیلیے برسوں عبرت بنی رہے ۔۔۔

یہ دو کام اگر نا ہوئے تو یاد رکھیے ! 

کہ یہ زینب بھی سنبل اور اس جیسی بہت سی بچیوں کی طرح  بس چار دن کی غوغاں سے بڑھ کر کچھ نہیں ۔۔۔ !!

 اور یہ بھی یاد رکھیے کہ خدا نا کرے وہ اگلی زینب اگلی سنبل آپ کی بھی ہوسکتی ہے !!

!فیصلہ آپ کا 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: