قصور کی بے قصور زینب : اعجاز حسن

دل دہلا دینے والی سی سی ٹی وی فوٹیج ہے۔ تصویر دھند لی سی ہے۔ بچی ایک مرد کی انگلی تھامے سڑک پر جا رہی ہے۔جب بچی نے انگلی تھامی ہو گی تو اسے یہی احساس ہو گا کہ یہ میرا محافظ ہے۔ اسے گمان نہ تھا کہ یہ مکار درندہ ہے جو انسانی روپ دھارے ہوئے ہے۔ شاید مکار درندے نے بچی کو ماں باپ کی عمرے سے واپسی کی خبر اور ان سے ملاقات کا جھانسہ دیا ہو۔۔۔ دل کو چھلنی کر دینے والی ایک اور تصویر ہے۔ مسلا ہوا خوب صورت پھول گندگی کے ڈھیر میں پڑا ہے۔ واضح نظر آ رہا ہے کہ بچی سرخ فراک اور سفید و سیاہ دھاری دار ٹراؤزر میں ملبوس ہے۔ اس پھول نما بچی کا نام زینب ہے۔آہ، قصور کی بے قصور زینب۔
زینب قتل کیس غیر معمولی ہے۔ کچھ تشویش ناک حقائق اس سے متعلق ہیں۔ایک: پولیس حکام کے مطابق اس وقت شہر کے مختلف تھانوں میں چھ سے زائد ایسے کیسز ہیں جن میں بچوں کو اغوا و قتل کر کے ان کی لاشوں کو اسی علاقے میں پھینک دیا گیا۔
دو: گمان ہے کہ ایک ہی درندہ صفت ہے جو بچوں کو راستے سے اٹھاتا ہے بعد ازاں ان کی ڈیڈ باڈی کو پھینک دیتا ہے۔ضلع میں 2015ء سے اس نوعیت کے آٹھ کیس رپورٹ ہو چکے ہیں۔
تین: ایک ماہ قبل بھی شہر میں زینب کی ہم عمر بچی لاپتہ ہو گئی تھی۔ اس بچی نے خود کو نامعلوم اغوا کار کی ہوس کا نشانہ بننے سے بچا لیا تھا اور وہ گھر لوٹ چکی ہے، لیکن وہ ذہنی صدمے سے نہیں نکل پائی۔چار: زینب کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ہر دو طرح کی زیادتی کے شواہد ہیں۔ چہرے پر تشدد کے آثار ہیں، ہڈی ٹوٹی ہوئی ہے، اس کی سانس بند کی گئی۔ پانچ: پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر کے مطابق سات ماہ میں یہ چوتھا واقعہ ہے اور ان تمام واقعات کی میڈیکل رپورٹس زینب کیس سے مماثلت رکھتی ہیں۔چھ: 2015ء میں رپورٹس منظر عام پر آئی تھیں کہ قصور میں درجنوں بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور ان کی ویڈیوز بھی بنائی گئی۔ گمان ہے کہ اس کے پیچھے بڑا مافیا ہے، جو بچوں کی ویڈیوز بنانے کے کاروبار میں ملوث تھا۔ آہ، قصور کی بے قصور زینب۔
انسپکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب پولیس نے قصور واقعے سے متعلق ابتدائی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کردی۔رپورٹ میں کہا گیا کہ زینب کے قتل میں ملوث مجرم کو پکڑنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں، جبکہ اس سلسلے میں 227 مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کی گئی ہے اور علاقے کا جیو فینسنگ ڈیٹا حاصل کرلیا گیا ہے۔ آئی جی پنجاب کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ میں کہا گیا کہ واقعہ کی سی سی ٹی وی ویڈیو میں ملزم کی شناخت کے لیے فرانزک لیبارٹری سے مدد لی جارہی ہے اور اسے سلسلے 64 ڈی این اے ٹیسٹ کا مشاہدہ کیا گیا۔ آہ، قصور کی بے قصور زینب۔
ابھی ڈیرہ اسمٰعیل خان میں ہونے والے انسانیت سوز واقعہ کی بازگشت باقی تھی۔ ابھی وہ چیخیں فضا میں تھیں کہ زینب کی پکار نے دلوں کو چیر ڈالا۔ ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ پولیس کے نظام میں اصلاحات لازمی ہیں۔ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ عدالتی نظام میں تبدیلی ناگزیر ہے۔ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ پیمرا میڈیا کو اخلاقیات کے دائرے میں رکھے۔ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ پی ٹی اے انٹرنیٹ پرپھیلی بے حیائی کو لگام دے۔ ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ قانون کے رکھوالے چیف جسٹس اور حکمرانوں کی تنبیہ کے بغیر دل جمعی اور تندہی سے فرض ادا کریں گے۔ ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ عوامی نمائندے ٹینڈرز کی بجائے انصاف کی فراہمی کو ذمہ داری تصور کریں۔ ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ معصوم بچوں کو انسان نما مکار درندوں کے ہتھکنڈوں سے آگاہ کرنا لازمی ہے،تبھی ہرزینب استحصال سے محفوظ ہو گی۔ آہ، قصور کی بے قصور زینب۔


اطلاعات کے مطابق امریکی ریاست ویسٹ ورجینیا میں دس ماہ کی بچی کو اس کی ماں کے بوائے فرینڈ نے زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد مار ڈالا۔ اس واقعہ کے بعد عوام میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی۔ عوام نے ملزم کی سرعام پھانسی کا مطالبہ کرنا شروع کردیا۔ ویسٹ ورجینیا میں سزائے موت کا قانون پچاس برس قبل ختم کر دیا گیا تھا، لہٰذا سرعام پھانسی کی پٹیشن کی مہم شروع کی گئی ، اس پٹیشن پر پچاس ہزار لوگ دستخط کر چکے ہیں۔لیفٹنٹ جنرل (ر)فیض علی چشتی نے گذشتہ دنوں ایک تحریر میں 23 مارچ 1978ء کو پپو زیادتی وقتل کیس میں مجرموں کی سرعام پھانسی کا ذکر کیا۔ پھر لکھا ہے کہ ایک مدت تک دوبارہ ایسا واقعہ پیش نہیں آیا۔ آہ، قصور کی بے قصور زینب۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ (قبیلہ) مخزوم کی عورت کا معاملہ جس نے چوری کی تھی ، قریش کے لوگوں کے لیے اہمیت اختیار کرگیا۔ انہوں نے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے اس معاملہ میں کون بات کر سکتا ہے اسامہ رضی اللہ عنہ کے سوا، جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت پیارے ہیں اور کوئی آپ سے سفارش کی ہمت نہیں کر سکتا ؟ چنانچہ اسامہ رضی اللہ عنہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’کیا تم اللہ کی حدوں میں سفارش کرنے آئے ہو‘‘ پھر آپ کھڑے ہوئے اور خطبہ دیا اور فرمایا: ’’اے لوگو ! تم سے پہلے کے لوگ اس لیے گمراہ ہو گئے کہ جب ان میں کوئی بڑا آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے لیکن اگر کمزور چوری کرتا تو اس پر حد قائم کرتے تھے‘‘۔۔۔ (بخاری) ۔۔۔ اور یہ سفارش دربار رسالت سے ٹھکرا دی گئی۔
اگر اس ملک میں ہر زینب کو بچانا ہے، انصاف لانا ہے، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی بیان کردہ اسلامی سزاؤں کو نافذ کرنا ہو گا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے اصول کو لاگو کرنا ہو گا۔ اس اصول کے مطابق قانون ’’بااختیار ‘‘اور ’’بے اختیار‘‘ کے لئے برابر ہے۔ ہرقصوروار کو بلا امتیاز سزا دی جائے تو پھر آئندہ قصور کی کوئی بیٹی کوڑے کے ڈھیر سے نہ ملے گی۔ پھر قلم تھامتے ہوئے نہ کالم نگار کا دل لرزے گا ، نہ ہاتھ کانپے گا۔ آہ، قصور کی بے قصور زینب۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: