قرآن پاک کے نزول کا مقصد یہی تھا

قرآن پاک کے نزول کا مقصد یہی تھا کہ ہر زمانے کے لوگ اس میں بیان کیے گئے واقعات سے نصیحت پکڑیں اور اسکی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر اپنی دنیا کو بہتر سے بہتر بنائیں ۔۔۔قرآن پاک میں اللہ تعالی نے بنی اسرائیل کا ایک قصہ بیان فرمایا ہے ۔بنی اسرائیل کیلیے سبت کے دن کسی قسم کا دنیاوی کام کرنا حرام تھا۔بنی اسرائیل کی ایک آبادی سمندر کے گرد آباد تھی جو حیلہ کر کہ ثبت کے دن مچھلیاں پکڑ لیتی۔اس موقع پر اس آبادی میں تین گروہ ہو گئے ایک وہ جو اس گناہ کا علانیہ مرتکب ہوتا تھا۔دوسرا وہ جو انکو اس کام سے باز رکھنے کی کوشش کرتا تھا اور تیسرا گروہ وہ جو اس کام کو خود تو نہ کرتا تھا لیکن نہ ہی باز رہنے کہ تاکید کرتا بلکہ سمجھانے والوں کو کہتا کہ ایسے لوگوں کو سمجھانے کا کیا فائدہ؟پھر اس قوم پر عذاب الہی آیا تو صرف دوسرا گروہ بچ گیا جو خود باز تھا اور تبلیغ بھی کر رہا تھا جبکہ پہلا اور تیسرا گروہ ہلاک کر دیے گئے۔پہلا اپنے گناہ کی بدولت اور تیسرا فرض تبلیغ کو ترک کرنے کی بدولت۔۔۔

سورت اعراف کے بیسویں رکوع میں یہ پورا واقعہ بیان ہے؛

“اور جب ان میں سے ایک فرقہ بولا کہ تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جنھیں خدا برباد کرنے والا ہے یا سزا دینے والا ہے انھوں نے جواب دیا ہم تمہارے رب کے آگے اپنے سے الزام اتارنے کیلیے انکو نصیحت کرتے ہیں کہ شاید یہ نیک بن جائیں۔تو جب وہ بھول گئے جو انکو سمجھایا گیا تھا تو ہم نے انکو جو منع کرتے تھے بچا لیا اور گناہ گاروں کو انکی بے حکمی کے سبب بڑے عذاب میں پکڑا”۔۔۔

یہ قصہ بتاتا ہے کہ اسلام میں گرتے ہوووں کو بچانا کتنا اہم ہے ۔اب اگر ہم پاکستانی معاشرے پر نظر دوڑائیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ پیٹھ پیچھے کسی کا عیب بیان کرنا تو ہماری hobby ہے لیکن اگر بات کسی کو سمجھانے پر آ جائے تو ہمارے ہیں اس طرح کے جملے عام ہیں کہ بھیئ اسکی زندگی ،،،ہم کیا کر سکتے ہیں ۔۔۔اسی طرح سیاسی اور اجتماعی معاملات میں دیکھ لیں تو ہمارے ہاں ایک گروہ ہے جو بار ہا اس جملے کو سناتا ہے کہ جیسا چل رہا ہے ویسا چلنے دو ،،،تمہارے کرنے سے کیا بدل جانا،،کیا فیس بک پر لکھنے سے ملک بہتر ہو جائے گا تو ان سب کیلیے جواب ہے کہ ہمارا کام ہے اس کام کی نصیحت کرنا جو ہمارے نذدیک ٹھیک ہے باقی ماننا نہ ماننا لوگوں کا اپنا مسئلہ ہے اور اس واقعے کی مناسبت سے یہ بات واضح ہے کہ صحیح کی تبلیغ کس قدر اہم ہے۔۔۔

منقول

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: