حضرت عیسیٰ علیہ السلام ؛قرآن و حدیث کی روشنی میں

جناب عیسیٰ ؑ کے حواریین
امام محمد باقر علیہ السلا م ؑ نے فرمایا :بیشک ! اﷲ نے جناب عیسیٰ ؑ کو فقط بنی اسرائیل کی طرف مبعوث کیا اور آپ کی نبوت بیت المقدس میں تھی اور آپ کے بعد کے بارہ حواری تھے ۔(بحارالانوار ج ۱۴ص ۲۵۰ح۴۰)
ابن عباس نے رسول خدا سے سوال کیا ․․․کہ آپ کے بعد کتنے امام ہوں گے ؟
آپ نے فرمایا :جناب عیسیٰ ؑ کے حواری کی تعداد ،جناب موسیٰ ؑ کے قبیلہ کی تعداد اور بنی اسرائیل کے سردار کی تعداد کے برابر ہوں گے ۔
میں نے عرض کیا :اے پیغمبر!وہ حضرات کتنے تھے؟
آپ نے فرمایا :ان کی تعداد بارہ تھی اور میرے بعد امام کی بھی یہی تعداد ہو گی․․․ ۔(بحارالانورار ج ۳۶ص ۲۸۵ح ۱۰۷)
ابن فضال نے اپنے والد سے روایت کی ہے انہوں نے کہا کہ میں نے امام رضا ؑ سے عر ض کیا کہ حواریوں کو حوا ری کیوں کہا جاتاہے ؟


آپ نے فرمایا :لوگوں کے مطابق ان کو حواری اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ (قصارتھے)لوگوں کے گندے کپڑوں کو دھل کرصاف کیا کرتے تھے ۔اور یہ نام خبذالحواری سے مشتق ہے ۔لیکن ہمارے مطابق ان کو حواری اس لئے کہا جاتا ہے چونکہ وہ خود پاک وصاف رہتے اور لوگوں کو وعظ و نصیحت اور ذکر الٰہی کے ذریعہ گناہوں کی گندگی سے پاک کرتے تھے۔
آپ سے یہ بھی سوال کیا گیا کہ نصاریٰ کو نصاریٰ کو کیوں کہا جاتا ہے ؟
ٓآپ نے فرمایا:اس لئے وہ لوگ ناصرہ نامی قریہ سے تعلق رکھتے تھے جوسرزمین شام میں واقع تھا ۔جناب مریم اور جناب عیسیٰ ؑ مصر سے ہجرت کرنے کے بعد وہیں پر مقیم ہوئے تھے۔(بحارالانوارج ۱۴ ص ۲۷۳ح۲)
امام جعفرصادق ؑ نے فرمایا:بیشک! حوار ی جناب عیسیٰ ؑ کے فرما ں بردار تھے اور ہمارے پیروکار ،ہمارے حواری ہیں ۔لیکن جناب عیسیٰ ؑ کے حواریوں سے زیادہ ہمارے حواری فرماں بردار ہیں ۔جناب عیسیٰ نے کہا:’’من انصاری الی اﷲ ‘‘
کون ہے جو خداکی راہ میں میرا مددگارہوگا۔حوارین نے کہا کہ ہم اﷲ کے مددگار ہیں ۔(سورہ آل عمران ۵۲)ؑ
بخدا قسم! ان لوگوں نے یہودیوں کے مقابل آپ کی مدد نہیں کی اور نہ ہی ان سے جنگ کی ۔لیکن خدا کی قسم!ہمارے شیعہ نے ہمیشہ ہماری مدد کی ہے یہاں تک اﷲ نے رسول خدا کی روح کو قبض کرلی ۔ان لوگوں نے ہماری حمایت میں جنگیں کیں جبکہ ان کوجلاگیا ،تکلیف دی گئی اور شہر بدر بھی کیا گیا ۔اﷲ انھیں جزائے خیر عطا فرمائے !․․․۔(الکافی :شیخ کلینی ج ۸ص ۲۶۸ح۳۹۶)
انس ابن مالک نے رسول خدا ؐسے جناب عیسیٰ کے حواریوں کے سلسلے میں سوال کیا ـ توآپ نے فرمایا :وہ لوگ بہترین صفات کے مالک تھے ۔وہ بارہ شخص تھے جنہوں نے شادی نہیں کی تھی ۔اﷲ اور اس کے رسول کی مدد کرنے میں سبقت کرتے ۔نا ہی ان کے یہاں غرور و گھمنڈ ،نا ہی کمزوری اور نہ شک وشبہ تھا ۔ان لوگوں نے بصارت ،اثر ورسوخ او ر مبتلائے رنج و غم ہونے کے باوجود بھی ان کی مدد کی ہے ۔
میں نے عرض کیا:اے اﷲ کے رسول!آپ کے حواری کون حضرات ہیں ؟
آپ نے فرمایا :میرے بعد بارہ امام ہیں جو(حضرت) علی ؑ اور (جناب)فاطمہ زہرا ؐ کی صلب سے ہوں گے۔وہ لوگ میرے حواری اور میرے دین کے ناصر ومددگار ہوں گے ۔(بحارالانوارج ۳۶ص۳۰۹ح۱۴۹)
جناب مفضل نے ایک طولانی روایت میں امام جعفر صادق ؑ سے عرض کیا کہ اے میرے سید و سردار!․․․جناب موسیٰ کی قو م کو یہودی کیوں کہا جاتا ہے ؟
آپ نے فرمایا:اﷲ کے قول کے مطابق ’’انا ھدنا الیک ‘‘
ہم تیری ہی طرف رجوع کر رہے ہیں ۔(سورہ اعراف ۱۵۶)
یعنی ہم آپ کی ہدایت کے طالب ہیں۔
آپ نے عرض کیا : نصاریٰ کے سلسلے میں آپ کا کیا نظریہ ہے؟
آپ نے فرمایا :جنا ب عیسیٰ ؑ کے قول کے مطابق’’من انصاری الی اﷲ ‘‘
کون ہے جو خداکی راہ میں میرا مددگارہوگا۔
حوارین نے کہا کہ ہم اﷲ کے مددگار ہیں ۔(سورہ آل عمران؍ ۵۲)
دین الٰہی کی نصرت کرنے کے سبب وہ نصاریٰ کہلائے ۔(بحارالانوارج۵۳ص۵ )
نوٹ:اس مضمون میں درایت اورروایت کے صحیح السندہونے سے قطع نظر صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے متعلق معلومات کو جمع کیا گیاہے۔(مترجم)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: