کشمیری مسلمان اک سیسہ پلائی دیوار : قاضی حسین احمد مرحوم کا اک چشم کشا کالم

مجھے یقین تھا کہ افغانستان کے بعد کشمیر اور وسط ایشیا کے مسلمان جاگیں گے۔ لیکن یہ معلوم نہیں تھا کہ اتنی جلدی کشمیری مسلمان ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں گے۔صدیوں کے مظلوم و مقہور کشمیریوں کے بارے میں یہ فرض کر لیا گیا تھا کہ ہندوستان سنگین کی نوک سے انہیں غلام رکھنے میں کامیاب رہے گا ، یہ بات باطل ثابت ہو چکی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو ذہناً غلامی کو قبول نہیں کرتا ، شکست قبول کرنے سے انکار کر دیتا ہے ، اسے قتل کیا جا سکتا ہے ، اذیتیں دی جا سکتی ہیں لیکن غلامی پر راضی نہیں کیا جا سکتا۔ مسلمان کو اﷲ نے کوئی ایسا راستہ نہیں بتایا کہ وہ غیر اﷲ کے بندے بن کر بھی مسلمان رہ سکے۔ مسلمان ہے تو وہ صرف اﷲ کا بندہ ہے ۔ اسی کے سامنے جھکتا ہے ، اسی سے مانگتاہے ، اسی سے خوف کھاتا ہے اور اس کے در کے سوا دوسرے ہر در سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔ توحید کا عقیدہ جرات آموز ہے ۔ شجاع اور دلیر بنانے والا ہے۔
إِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَیْْہِمُ الْمَلَاءِکَۃُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّۃِ الَّتِیْ کُنتُمْ تُوعَدُونَ نَحْنُ أَوْلِیَاؤُکُمْ فِیْ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَفِیْ الْآخِرَۃِ وَلَکُمْ فِیْہَا مَا تَشْتَہِیْ أَنفُسُکُمْ وَلَکُمْ فِیْہَا مَا تَدَّعُونَ نُزُلاً مِّنْ غَفُورٍ رَّحِیْمٍ وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلاً مِّمَّن دَعَا إِلَی اللَّہِ وَعَمِلَ صَالِحاً وَقَالَ إِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْن(سورہ فصلت ۔۳۰۔۳۳)
آخرت کا یہ عقیدہ کہ مجھے اپنے رب کے پاس جانا ہے اور اس کے سوا دنیا کی کوئی دوسری طاقت مجھے نفع نہیں پہنچا سکتی ۔اگر میرا رب مجھ سے راضی ہے تو میں اس کے احسنات کا مستحق بن جاؤں گا اور یہی اصل کامیابی ہے اور ایک مسلمان کو ایک ایسے مقام پر کھڑا کر دینا ہے کہ دنیا کی جابر کی کمندیں اس کے گلوئے عشق کو نہیں پہنچ سکتیں۔
اﷲ پر اور روز آخرت پر اسی ایمان کی قوت تھی جس سے فرعون کے مقابلے میں جادوگر ڈٹ گئے ؤ وہ جادو گر جو چند لمحے پہلے فرعون کے انعام کے طلب گار تھے جب اﷲ اور روز آخرت کی حقیقت سے روشناس ہوئے تو فرعون کی اس دھمکی کے جواب میں کہ میں تمہیں الٹا لٹکا دوں گا اور تمہارے ہاتھ اور پیر کاٹ دوں گا ۔ کہنے لگے کہ جو تمہارا بس چلے وہ کر گزرو ، تم تو محض اس دنیا کی زندگی ہی کا خاتمہ کر سکتے ہو جب کہ ہم تو یقیناً اپنے رب کی طرف پلٹنے والے ہیں ۔


داؤد کے زمانے کے افغانستان کے ایک سابق نائب وزیر اعظم نے مجھے بتایا کہ ان کے ساتھ کابینہ میں جو کمیونسٹ وزیر شامل تھے ( اور جو بعد میں افغانستان کے حکمران بن گئے) یہ کہنے پر مجبور ہو گئے تھے کہ دنیا کا کوئی دوسرا نظریہ اپنے ماننے والے کو وہ قربانیاں دینے پر آمادہ نہیں کر سکتا جن پر دین اسلام اپنے ماننے والے کو آمادہ کر دیتا ہے۔
اس کا سبب یہ ہے کہ ایک مومن مخلص سب کچھ اﷲ کی خوشنودی اور فلاح اخروی کے لیے کرتا ہے۔ اس وقت پوری امت مسلمہ میں بیداری کی جو لہر ہے ، یہ انسان کو انسان کی غلامی سے نکال کر انسانوں کے رب کی غلامی میں دینے کی تہریک ہے ۔ یہی انسانیت کی حقیقی آزادی کی منزل ہے۔ ایک ایسے انسانی معاشرے کا قیام جس میں سب انسان اﷲ کے بندے اور آپس میں بھائی بھائی ہوں ۔ انسانیت اسلام کی رہنمائی میں اس کی منزل کی طرف رواں دواں ہے ۔
اس قافلے کو عارضی طور پر اور مقامی طور پر ہزیمتیں اٹھانی پڑی ہیں لیکن یہ قافلہ پوری ثابت قدمی کے ساتھ اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہے۔اس کی قوت اور اس کی رفتار میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور مصائب کے پہاڑ ٹوٹنے کے باوجود شوق منزل کا تقاضا اتنا شدید ہے کہ اس قافلے کا ہر فرد اس ذوق یقین سے سرشار ہے کہ منزل سامنے ہے بس دو گام بڑھانے کی دیر ہے۔
اس وقت کشمیر میں آزادی و حق خود ارادیت کی جو تحریک جاری ہے وہ بیداری ملت کی اسی عالمی تحریک کا ایک حصہ ہے۔ اور یہ تحریک یوں ہی اچانک کسی حادثے کے نتیجے میں معرض وجود میں نہیں آ گئی ہے بلکہ ایک تسلسل ہے ، اس تحریک مزاحمت کا جو مقبوضہ کشمیر کی تحریک اسلامی اور اسلام و آزادی کی دوسری قوتوں کی قیادت میں گزشتہ پینتالیس برس بھارت کے سامراجی تسلط کے خلاف نہایت اہتمام سے جاری چلی آ رہی ہے ۔ یہ ایک ہمہ گیر تحریک ہے جو بیک وقت زندگی کے تمام محاذوں پر جاری ہے ، فکری محاذ پر بھی اورتہذیبی محاذ پر بھی ، سیاسی محاذ پر بھی اور عسکری محاذ پر بھی ، اور ان سارے محاذوں پر اس تحریک کی معجزانہ کامیابیوں کے نتیجے میں بھارتی سامراج کو مسلسل پسپائی اختیار کرنا پڑ رہی ہے ، واﷲ الحمد۔
بھارتی سامراج کے خلاف مسلمانان کشمیر کی اس تحریک مزاحمت کی قوت کا حقیقی سر چشمہ اﷲ تعالیٰ پر ایمان اور اس راہ میں جہاد کا جذبہ ہے جو اس تحریک کا سر چشمہ قوت بھی ہے اور پہچان بھی ۔ یہی وہ لازوال جذبہ ہے جس نے اسلامیان کشمیرکو بھارت کے برہمنی سامراج کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا عزم و حوصلہ بھی عطا کیا اور اپنے نصب العین کی راہ میں بھارتی درندوں کے ہاتھوں وہ بے پناہ آلام و مصائب برداشت کرنے کی ہمت بھی دی جس کی ایک جھلک جناب صغیر قمر کی مرتب کردہ اسی کتاب میں دکھائی دیتی ہے۔ اس کتاب کے مطالعے سے جہاں امن و شانتی اور انہسا کے نام نہاد علمبردار سیکولر بھارت کا خون آشام چہرہ پوری طرح نکھر کر سامنے آ جاتا ہے اور انسان یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا کہ آیا یہ سب کچھ کرنے والے دنیا کے کسی معیار کی روسے انسان کہلانے کے مستحق بھی ہیں یا نہیں ، وہیں اس کتاب کے مطالعے سے اسلام آزادی کے ان علمبرداروں کے عزم و حوصلے کا بھی اندازہ ہو جاتا ہے جو آج مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سامراج کے خلاف مصروف جہاد ہیں اور جن کی ایک بڑی تعداد آج بھارت کے زندانوں اور عقوبت خانوں میں پابند سلاسل عزیمت و استقامت کی تاریخ کا ایک نیا باب رقم کر رہی ہے۔
مسلمانان کشمیر کی آزادی کی اس تحریک کو سبو تاژ کرنے کے لیے بھارتی سامراج ایک طرف جبر و تشدد اور ظلم و استبداد کے ایسے ایسے خون آشام ہتھکنڈے اختیار کیے ہوئے ہے کہ ان کے تصور سے بھی انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ، جبکہ دوسری طرف اس کی سازش یہ ہے کہ اس تحریک کا رشتہ اس کی قوت کے سر چشمے اسلام اور جذبہ جہاد سے منقطع کر کے سوشلزم اور سیکولرازم کے لادینی نظریات سے استوار کر دیا جائے ۔ لیکن ہمیں مسلمانان کشمیر کی فراست ایمانی پر پورا بھروسہ ہے کہ وہ سامراج کے ان ہتھکنڈوں سے پوری طرح ہوشیار رہیں گے۔
یہاں اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ کسی تحریک کی کامیابی میں قیادت کی بالغ نظری ، فہم و فراست اور جرات و بہادری کا بہت بڑا حصہ ہوتا ہے اور مسلمانان کشمیر اس اعتبار سے خوش قسمت واقع ہوئے ہیں کہ انہیں آزادی و حق خود ارادیت کی اس تحریک میں جناب سید علی گیلانی کی شکل میں ایک ایسا بالغ نظر اور جرات مند قائد مل گیا ہے جس کی فراست مومنانہ اور جرات ایمانی پر پوری طرح بھروسہ کیا جا سکتا ہے اور جو بھارتی سامراج کے خلاف چالیس سالہ تحریک مزاحمت کے دوران میں سولہ برس سے زیادہ عرصے تک جیلوں اور عقوبت خانوں میں پابند سلاسل رہ کر اپنی عزیمت وا ستقامت کا منہ بولتا ثبوت فراہم کر چکا ہے اور آج بھی بھارت کے شہ الہ آباد کے ایک عقوبت خانے میں پابجولاں ہے۔ سید علی گیلانی کا یہی جرات مندانہ و قائدانہ کردار ہے جس نے مسلمانان کشمیر کی نئی نسل کو اسلام اور آزادی کے جذبوں سے سرشار کر کے موجودہ تحریک جہاد سے وابستہ کیا ہے اور جس کا کچھ اندازہ اس کتاب کے مطالعے سے بھی ہوتا ہے۔


جناب صغیر قمر کی یہ کتاب جہاں مقبوضہ کشمیر کے زندانوں اور عقوبت خانوں میں پابند سلاسل ہمارے مسلمان بھائیوں کے دلدوز اور کربناک شب و روز کی ایک جھلک پیش کرتی ہے ، وہیں یہ ہمیں جہاد کشمیر کے سلسلے میں اپنی ذمہ داریوں کا احساس بھی دلاتی ہے ۔ میری دعا ہے کہ اﷲ جناب صغیر قمر کی اس کوشش کو کامیاب اور قبول فرمائے اور انہیں اس کے لیے جزائے خیر دے۔ آمین ۔

1 Comment
  1. 4 February, 2018
    mir afsar aman
    mah shah allah
    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: