” عہد سفاک تیرے ڈوبتے کردار پہ خاک ” : فرحان بن عبدالرحمٰن

میرے قابل قدر قارئین کرام اسلامی جمہوریہ پاکستان کے شہر قصور کے ایک اور متاثرہ گھرانے کے سربراہ بےبس احسان بھائی کی دلخراش کہانی، پڑھئیے انہی کی زبانی …
میرا نام احسان الٰہی ہے۔ میری بیٹی چھ سال کی ہے اور تین بچوں میں سب سے بڑی ہے۔ میں قصور شہر میں پلاسٹک کے برتن بیچتا تھا جس سے ہمارا گزر بسر ہوتا تھا لیکن اب وہ کام بھی نہیں ہو پا رہا کیونکہ ہم دونوں میاں بیوی گذشتہ دو ماہ سے ہسپتال میں ہیں جہاں بچی کا علاج جاری ہے۔
سمجھ میں نہیں آتا کہ اس ظالم نے میری بچی کو نہ جانے کس چیز سے مارا اور کس طرح تشدد کیا کہ وہ جب سے ہمیں ملی، نہ تو کچھ بول پاتی ہے اور نہ ہمیں پہچانتی تھی۔ میری بچی گذشتہ برس نومبر کے مہینے کے اوائل میں شام چھ بجے کے قریب گھر کے پاس واقع دکان سے دہی خریدنے گئی تھی۔ جب کافی دیر گزر جانے کے بعد بھی وہ گھر واپس نہیں لوٹی تو اس کی ماں کو تشویش ہوئی اور دیگر رشتہ داروں کے ساتھ مل کر انھوں نے اس کی تلاش شروع کی۔


میں بھی فوراً کام سے واپس آ گیا۔ جب وہ نہیں ملی تو ہم نے پولیس میں رپورٹ کی اور اگلی صبح تقریباً دس بجے کے قریب وہ ایک کچرے کے ڈھیر سے نیم مردہ حالت میں ملی۔اپنی طرف سے اس ظالم نے اسے مار کر پھینکا تھا مگر جب دیکھا تو اس کی سانسیں چل رہیں تھیں۔ مگر بس سانسیں ہی تھیں۔ کئی روز تک وہ ہسپتال میں بے ہوش اور وینٹی لیٹر پر رہی۔ آنکھیں کھولیں بھی تو نہ کسی کو پہچانتی تھی اور نہ بولتی تھی، بس روتی رہتی تھی۔ پھر ڈاکٹروں نے ہمیں گھر بھیج دیا مگر اس کی حالت اسی طرح رہی۔کچھ روز قبل زینب کا واقعہ سامنے آنے پر جب میری خبر بھی ٹی وی پر نشر ہوئی تو حکومت نے اس کے علاج کی ذمہ داری اٹھائی اور اب لاہور میں اس کا مفت علاج ہو رہا ہے۔ اس کا آپریشن بھی اب کیا گیا ہے جس کے بعد اس کی حالت میں بہتری آ رہی ہے۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ اس کے سر میں پانی جمع ہو گیا تھا۔ اب میں اسے کہوں کہ میں جا رہا ہوں تو رونے لگتی ہے، جب میں رُک جاؤں تو چپ کر جاتی ہے۔اس سانحے نے ہماری زندگی بدل کر رکھ دی ہے۔ میری بچی پریپ کی طالبہ تھی اور اُن دنوں اس کے امتحان چل رہے تھے۔ اسے پڑھائی سے بہت شغف تھا۔ اس نے اتنے اچھے نمبر حاصل کیے تھے۔ وہ جتنا پڑھنا چاہتی میں اسے پڑھاتا، وہ زندگی میں جو بننا چاہتی ہے میں اسے ضرور بناؤں گا۔میری روزی روٹی چھوٹ گئی ہے، مگر میں بہت شکر گزار ہوں کہ کچھ ایسے ہمدرد لوگ ہیں جو ملک کے باہر سے بھی اس مشکل وقت میں ہماری مدد کر رہے ہیں۔ کچھ لوگوں نے تو مجھے ملک سے باہر لے جانے کی بھی پیشکش کی ہے۔
یہ درست ہے کہ مجھے اب یہاں اپنے بچوں کے لیے خوف محسوس ہو رہا ہے مگر پھر بھی ملک تو اپنا ہے، میں پاکستان کبھی نہیں چھوڑوں گا۔
میں تمام والدین سے اپیل کرتا ہوں کہ خدارا اپنے بچوں کا خیال رکھیں۔ میں نہیں رکھ پایا تھا، مگر میں نہیں دیکھ سکتا کہ کسی اور کے بچوں کے ساتھ وہ کچھ ہو جو میری بچی اور قصور کی دوسری کئی بچیوں کے ساتھ ہوا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: