چنار کی کہانی : محمد صغیر قمر

ستاون مسلم ممالک کو جیسے سانپ سونگھ جاتاہے ۔ ان کے حکمران جیسے بھیڑوں کا ریوڑہوتے ہیں جو دنیا میں کٹتے مٹتے انسانوں کے خون کا تماشا کرتا ہے۔ دوسری جانب یورپ اور مغرب ہے جو انسانوں کو بچانے کے لیے کبھی افغانستان پر چڑھائی کرتا ہے کبھی عراق اس کو ” پکارتا“ ہے ۔کبھی ایران میں ” انسانی حقوق کی پامالی“ کو ختم کرنے کو دوڑتے ہیں کبھی کوریا انہیں کھٹکتا ہے کبھی وینزویلا ان کے لیے چیلنج بن جاتا ہے ۔ یہ سب متحد ہیں ۔دفاع اور خارجہ پالیسی کے ساتھ ساتھ ایک مشترکہ پارلیمنٹ تک ۔جب کہ مسلمانوں کو ایک ایک کر کے انہی کے اندر سے دشمن تلاش کر کے ذبح کر رہے ہیں اور مسلم حکمران اپنی توندوں اور گردنوں کو موٹا کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔یہ اسلامی دنیا کے نام نہاد” ممالک “ اور ان کے نامور حکمران ہیں۔دنیائے کفر اسلام کے خلاف پروپیگنڈے کاایک وسیع اور مہیب جال بچھا چکی ہے ۔ اسلام کو ایک جنگ جو دین اور مسلمانوں کو دہشت گرد قوم ثابت کرنے کے لیے عالم گیر پیمانے پر پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔صہیونی میڈیا کی قوت کے بل پر دنیا کی اکثریت اس جھوٹ کا شکار بنا دی گئی ہے۔اسلام اور مسلمانوں سے شعوری عناد اور عداوت رکھ کر یورش کرنے والے تھوڑے ہیں‘باقی انبوہ کثیر ان دشمنوں کا ہے ‘جنہیں وجہ عنادتک معلوم نہیں ۔وہ ایک زبردست سائنسی پروپیگنڈے سے اسلام کے دشمن بنا دیے گئے ہیں ۔ان کم نصیبوں میں سے اکثریت تو ان کی ہے ‘جو خود اس چشمہ حیات کے متلاشی و متمنی ہیں ‘جو صرف اسلام کا حیات بخش نظام فراہم کرتا ہے اور جو پوری انسانیت کو حیات ابدی ‘دائمی سکون اور امن اور انصاف دے سکتا ہے‘ مگر ظاہر ہے یہ بات انہیں معلوم نہیں کہ وہ چشمہ حیات کہاں ہے اور سچی بات یہ ہے کہ انہیں بتانے والا بھی کوئی نہیں ۔اس لیے کہ وہ مسلمان حکمران اور رہنما جنہیں یہ معلوم ہے ‘ان کی اکثریت خود بھی اس چشمہ صافی سے اپنی روحوں کی تشنگی مٹانے پر تیار نہیں ۔وہ اس پاک و صاف منبع حیات کو چھوڑ کر ان ہی گندی نالیوں اور آلودہ نہروں سے پیاس بجھا رہے ہیں ‘ جو مغرب کی متعفن تہذیب کے جوہڑوں سے نکلتی ہیں ۔ جن سے پیاس بجھتی نہیں اور بھڑکتی ہے ۔دنیائے اسلام میں سینکڑوں ہزاروں داعیان حق صدائے حق بلند کرنے کو موجود ہیں ‘ مگر اکثر ان کی صدا بہ صحرا ثابت ہوتی ہے ‘اس لیے کہ ان کے اندر وہ اتحاد و یگانگت مفقود ہے جو اس دعوت حق میں تاثیر پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے ….جس کے لیے خالق ارض و سما نے حکمت و بصیرت اور محبت فاتح عالم کو شرط قرار دیاتھا۔ ” اور اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور خوب صورت نصیحت سے دعوت دو….“ اس حکمت و بصیرت سے محروم ہو کر امت مسلمہ دنیا کو اپنے کردار و عمل سے متاثر کرنے میں بری طرح ناکام ثابت ہو رہی ہے۔ہمارا سارا ”قبیلہ “ ان ہی بیماریوں میں مبتلا ہے ‘جن میں پورا یورپ ‘ شمالی اور لاطینی امریکا اور دوسری ترقی پسند دنیا مبتلا ہے۔اقبال ؒ نے تہذیب مغرب کی اجتماعی خودکشی کی جو پیش گوئی کی تھی ‘اس کے پورا ہونے کا وقت سر پر آ پہنچا ہے ۔ آج یورپ و امریکا میں انسانیت کو مٹا کر اپنی بالا دستی قائم کرنے کے طریقوں پر تو اختلاف ہو سکتاہے ‘ لیکن اس بات پر وہ سب عملاً متفق ہیں کہ زندہ رہنے کا حق صرف ان ہی کو حاصل ہے ۔ ایسا نہ ہوتا تو یہ لوگ مشرق وسطیٰ اور افغانستان میں لاکھوں انسانوں کی قتل و غارت گری کے حق میں نہ ہوتے ۔ وہ اس سلسلے کو روکنے کے بجائے اسے جاری رکھنا چاہتے ہیں ‘ لیکن حالات ان کے قابو سے باہر ہو چکے ہیں ۔یہ جوں جوں مسلمانوں کو قتل کرنے اور ” جدید تہذیب “ کو لانے کی سعی کرتے ہیں رد عمل بڑھتا چلا جارہا ہے اور ان کے کھلے تضاد نے دنیا کو ڈپریشن کا شکار کر دیا ہے۔
مغرب سے اٹھنے والی آندھی نے عالم اسلام کی رہی سہی ساکھ بھی خاک میں ملا دی ہے ۔امریکہ ایک قہر خداوندی کی شکل میں اسلام کے قلب پر ٹوٹا تو اسلامی دنیا کے حکمران توقع کے عین مطابق بے چارگی اور کسمپرسی کے انداز میں نہ صرف اس کے سامنے سپر انداز ہو گئے ‘بلکہ اپنی ساری قوت بھی کفر و شرک کے علمبرداروں کے سپرد کر دی ‘ تا کہ وہ زیادہ آسانی سے بے بس مسلمانوں کی گردنیں کاٹ سکیں ۔یہ حقیقت بھی کچھ کم الم انگیز نہیں کہ اس چیلنج کو اسلامی دنیا کے ضمیر نے بھی جرات و ہمت سے قبول نہیں کیا ۔یہاں تک کہ وہ اسلامی تحریکات بھی اس چیلنج کو کماحقہ سمجھ پائیں ‘نہ ہی ان کی طرف سے اس کا مقابلہ یا تدارک کرنے کی کوئی اجتماعی سعی دیکھنے میں آئی ….جن کا دعویٰ یہ تھا کہ اسلام اس دور میں انسانیت کے لیے آخری پناہ گاہ اور واحد چشمہ آب حیات ہے۔ مختلف ممالک میں اسلامی تحریکیں مقامی مسائل اور معاملات میں الجھی رہیں اور ان کی طرف سے بھی امریکی جارحیت کا جواب اس فہم و فراست اور بینش و بصیرت سے نہیں دیاگیا جس کا وقت تقاضا کرتا تھا ۔ اس کے برعکس ایک عمومی ناامیدی ‘بے جواز غم و غصے یا حالات سے سمجھوتے کی کیفیت پائی جاتی ہے ۔یہ درست ہے کہ اسلامی تحریکات کے لیے کام کے مواقع محدود تر ہو رہے ہیں اور چیلنج کی شدت گزرتے وقت کے ساتھ بڑھ رہی ہے ۔زمین جو پہلے ہی خراب تھی ‘ اب بالکل بنجر نظر آتی ہے ۔موسم ناموافق اور پانی کمیاب ہے ‘ لیکن اہل حق کے لیے تو ازل سے یہی کچھ مقدر کیاگیا ہے ۔وہ بنجر زمینوں میں کھیتیاں اگاتے اور اپنے خون پسینے سے سینچتے چلے آئے ہیں ۔ان کے لیے تائید و نصرت الٰہی کے سوا پہلے کوئی مادی سہارا تھا ‘نہ آج موجود ہے۔کچھ نیک دل انسان اور پاک روحیں اگر تائید و تعاون کے لیے مل جائیں ‘تو انہیں اپنا حق جاننے کے بجائے تائیدایزدی اور عنایت الٰہی سمجھنا چاہیے ۔یہ درست ہے کہ اسلامی دنیا مغرب کے گھیرے میں آ ئی ہوئی دکھائی دیتی ہے ۔مغربی فکر ‘اقدار ‘ٹیکنالوجی ‘ ثقافت ‘ معاشرت اور معیشت سے پہلے ہی مسلمانوں پر دائرہ تنگ ہو رہا تھا ‘اب سیاسی اور عسکری غلبہ بھی مسلط ہو رہا ہے ۔بڑھتے ہوئے دباﺅ سے بہت سے لوگ گھبرا کر کہہ اٹھے ہیں کہ اس وقت اسلامی تشخص برقرار رکھنا اور مسلم قوم کی بقا اور وجود کو باقی رکھنا اصل چیلنج ہے ۔ لیکن کیا عجب تاریکیوں کا یہ سفر اسلام کی پر نور منزل پر پہنچنے کا پیش خیمہ ثابت ہو۔یہ بھی درست ہے کہ علمائے اسلام کو مغرب اپنے راستے کا روڑا سمجھتا ہے ‘سردست وہ ان کی کوئی بات سننے کو تیار نہیں ہوگا لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ ستاون ممالک بائیس تیئس ممالک کے سامنے گھٹنے ٹیک دیں اور اپنے شہریوں کی تکہ بوٹی ہوتے دیکھتے رہیں ۔ مسلمانوں پر چڑھائی کرنے والے جتھہ بندی کر کے نکلے ہیں وہ اسلام کے خلاف متحد ہیں جب کہ ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی نمائندگی کا دم بھرنے والے چوہوں کی طرح بلوں میں گھس جاتے ہیں ۔ امریکا اور اس کے اتحادی اگر ہزاروں میل دور کا سفر کر کے عراق ‘ افغانستان اور دیگر ملکوں پر چڑھائی کر سکتے ہیں تو دنیا کی کس کتاب میں لکھا ہے کہ غزہ کے محصور سولہ لاکھ انسانوں کی مدد کے لیے کوئی بھی اسلامی حکمران بات بھی نہیں کر سکتا اور یہ بھی ناممکن بنا دیاگیا ہے کہ وہ اسلام کا عالمگیر سچ ان ظالموں کے سامنے پیش کریں اور ان کی دوہری اور دو غلی پالیسی کا بودہ پن کھول کر بیان کر سکیں ۔ ان حکمرانوں کے پاس کچھ کرنے کا وقت کم رہ گیا ہے ۔ ستاون ملکوں کے گونگے بہرے اور اندھے حکمرانوں کو اپنی اس معذوری کا علاج تلاش کرناہوگا ورنہ یہ معذوری ہمیں ذلت کی گہرائیوں میں لے جائے گی۔امریکا اور اس کے اتحادی ایک ایک کر کے اسلامی ملکوں کو اسی طرح کچلتے جا ئیں گے اور ہر ایک اپنی گردن بچانے کی فکر میں رہے گا تو پھر وہ وقت بہت جلد آ جائے گا جب یہ چار چار کنال کے جسم ‘طوفانی پیٹ اوردودو مرلے کی گردنیں ایک ایک کر ڈرون حملوں راکٹوں اور ” جعلی مقابلوں“ میں اڑا دی جائیں گی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: