خواتین کا خزانہ

1 پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا اِرشاد ہے کہ ’’جب ایک عورت پانچ وقت نماز پڑھئے، رمضان کے روزے رکھئے، شرمگاہ کی حفاظت کرے، اپنے شوہر کی اطاعت کرے تو روزِ محشر ایسی عورت کو کہا جائے گا کہ جنت کے جس دروازے سے چاہو داخل ہو جاؤ‘‘۔ (صحیح الجامع)۔
2 رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (1) اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتل ہونا، (2) طاعون کی بیماری میں فوت ہونا، (3) پیٹ کی بیماری میں فوت ہونا، (4) اور کسی عورت کا زچگی کے دوران انتقال کر جانا، یہ تمام شہادت کے مرتبے پر فائز ہونے والے ہیں‘‘۔ (مسند احمد)۔
3 رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’کسی بھی عورت کے اگر تین بچے فوت ہو جائیں تو یہ بچے اس عورت کے لئے جہنم کی آگ سے رکاوٹ بن جائیں گے‘‘۔ ایک عورت نے سوال کیا: اگر دو بچے فوت ہو تو پھر؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’ہاں اگر دو بچے بھی فوت ہو جائیں‘‘ (تو وہ بھی ماں کو جہنم سے بچائیں گے)۔ (صحیح بخاری)۔
4 رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’اے عورتوں کی جماعت! تم کثرت سے صدقہ و خیرات کرو، اگر تم کو اپنے زیورات میں سے کچھ دینا پڑے۔ بے شک تم میں سے بہت عورتیں جہنمی ہیں۔ (یعنی عورتوں کی تعداد مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے اسی لئے جہنم میں بھی زیادہ ہوں گی)۔ (صحیح بخاری و مسلم)۔
5 رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’کوئی عورت اگر اس حالت میں فوت ہو کہ اس کا شوہر اس سے راضی ہو تو وہ عورت جنتی ہے‘‘۔ (جامع ترمذی و سنن ابن ماجہ)۔
6 رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’اے عورتو! تم کثرت سے تسبیح اور اللہ تعالیٰ کی تقدیس بیان کیا کرو۔ اپنی انگلیوں کے پوروں پر ان تسبیحات کو شمار کیا کرو۔ بے شک انگلیاں قیامت کو بول بول کر تمہاری گواہی دیں گی۔ تم غافل نہ ہوا کرو وگرنہ اللہ تعالیٰ کی رحمت تمہیں بھول جائے گی‘‘۔ (سنن ابی داؤد)۔
7 ایک بار رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اُمّ سنان رضی اللہ عنہا سے پوچھا: تم ہمارے ساتھ حج پر کیوں نہیں جا رہی؟ تو اُمّ سنان رضی اللہ عنہا نے عرض کی کہ میرے شوہر کی صرف دو اونٹنیاں ہیں۔ ایک پر میرا شوہر اور بیٹا سفر حج کریں گے اور دوسری اونٹنی ہماری زمین کو پانی پلاتی ہے۔ یہ سن کر سول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’پھر تم رمضان میں عمرہ کر لینا کیونکہ رمضان میں عمرہ کرنا حج کے برابر ہے‘‘۔ (متفق علیہ)
8 پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ اس آدمی پر اپنا رحم نازل فرمائے جو رات کو اٹھتا ہے، خود بھی نماز پڑھتا ہے اور اپنی بیوی کو بھی جگاتا ہے۔ اگر اس کی بیوی نہ اٹھے تو پانی کے چھینٹے اس کے منہ پر مارتا ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ اس عورت پر اپنا رحم نازل فرمائے جو راتوں کو اُٹھ کر نماز پڑھتی ہے اور اپنے شوہر کو بھی اٹھاتی ہے۔ اگر وہ نہ اٹھے تو پانی اس کے چہرے پر مارتی ہے‘‘۔ (صحیح الجامع)۔
9 اُم حمید رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس تشریف لائیں اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں آپ کے ساتھ نماز پڑھنا چاہتی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’مجھے علم ہے لیکن تم اپنے گھر میں نماز پڑھو تو یہ نماز تمہارے لئے بہتر ہے۔ اگر تم اپنے کمرے میں نماز پڑھو تو یہ نماز تمہارے صحن میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔ اگر صحن میں پڑھو تو یہ نماز تمہاری قوم کی مسجد میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔ اور تمہاری قوم کی مسجد میں نماز میری مسجد میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے‘‘ (ترغیب و ترھیب)۔
10 نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے سوال کیا گیا کہ ایک عورت روزہ دار اور تہجد گذار ہے صدقہ و خیرات بھی بہت کرتی ہے لیکن اپنے پڑوسیوں کو ایذا و تکلیف پہنچاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’وہ عورت جہنمی ہے‘‘۔ سوال کرنے والے نے دوبارہ عرض کی: اے اللہ کے رسول! ایک دوسری عورت فرض نماز پڑھتی ہے، تھوڑے بہت پنیر کے ٹکڑے بھی صدقہ کرتی ہے لیکن اس نے کبھی کسی کو زبان سے تکلیف نہیں پہنچائی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’یہ عورت جنتی ہے‘‘ (ادب المفرد۔ صححہ البانی)
11 رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ کی قسم! وہ عورت جو اپنے شوہر کا حق ادا نہیں کرتی، وہ اپنے رب کا حق بھی ادا نہیں کر رہی۔ کبھی شوہر اپنی بیوی کو اس حالت میں حق زوجیت ادا کرنے کے لئے بلائے کہ وہ تنور پر کام کر رہی ہو تو بھی اسے شوہر کی بات ماننی چاہیئے‘‘۔ (صحیح الجامع)۔

12 رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’جب کوئی عورت اپنے گھر سے کوئی چیز صدقہ کرے (لیکن بگاڑ پیدا نہ کرے) تو اس عورت کے ساتھ ساتھ اس کے شوہر کو بھی اجر و ثواب ملے گا۔ اور اسی طرح خزانچی کو بھی اجر ملے گا اور اس کے مالک کو بھی‘‘۔ (صحیح بخاری)۔

13 حصین بن محصن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اس کی پھوپھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس تشریف لائیں۔ اپنی ضروریات سے فارغ ہو کر جانے لگیں تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے پوچھا: ’’تم کس طرح اس کے ساتھ رہتی ہو‘‘؟ کہنے لگیں میں اس کی خدمت میں کوئی کمی نہیں کرتی۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’خیال رکھنا کہ وہ تمہاری جنت بھی ہے اور دوزخ بھی‘‘۔ (مسند احمد و حاکم)۔
اے مسلمان بہن! تم اپنے گھر اور اپنی ازدواجی زندگی میں بہت سی پریشانیاں، تکالیف حمل و ولادت کا بوجھ اٹھاتی ہو، بچے کو دودھ پلانا، تربیت کرنا اس کے سوا ہے۔ لیکن اگر تم اہل ایمان ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے فرمان کے مطابق مومن پر آنے والی ہر تکلیف غم اور دکھ کا اجر ملتا ہے۔ اس کے گناہوں کا کفارہ بنتا ہے۔ (بحوالہ بخاری)۔
اس فرمانِ نبوی صلی اللہ علیہ و سلم کو ہمیشہ یاد رکھئے۔
منقول

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: