کہانی ختم ہوتی ہے : محمد صغیر قمر

یادش بخیر!کسی ملک کا ہنستا بستا خوش حال شہزادہ اچانک ” شہزادگی “ سے لطف اندوز ہونے کے بجائے اداس رہنے لگا۔ بہت علاج کیے مگر مسلسل مایوسی کی جانب گامزن ہوتا چلا گیا۔سب کو شہزادئہ معظم کی بیماری کے بارے میں فکر ہوئی ۔ ظل سبحانی کے چہرے کی رنگت اڑی اڑی رہنے لگی۔ سرخ و سفید چہرہ مظفر گڑھ کے آموں کی طرح زرد اور سندھ کے چھوہاروں جیسا جھری زدہ ہو گیا۔اس کی آنکھیں منسوخ شدہ کالا باغ ڈیم کی طرح گہری اور پیٹ چارسدہ کے تربوزوں کی طرح لٹکنے لگا تو کار شہنشائی میں ہم مرتبہ و ہم خیال درباریوں سے مشاورت کی ۔ اتفاق رائے سے سب اس نتیجے پر پہنچے کہ شہزادہ معظم چونکہ فارغ ہیں ۔ ان کے پاس کوئی کام بھی نہیں ‘ کاہل اور سست ہونے کے ساتھ ساتھ بے صلاحیت بھی ہیں چنانچہ ان کا بادشاہ بننا ضروری ہے۔ بادشاہ بننے کے بعد وہ کھل کھلا کر ” اپنے “ کام کر سکتے ہیں ۔ اس تجویز پرصاد ہوا ‘ اگر ظل سبحانی کے ہاتھ کوئی ایسابھوت آ جائے جس کو جملہ کام کرنے اور لمحوں میں حکم بجا لانے کا سلیقہ آتا ہو تو شہزادہ معظم کے سارے دکھ دور ہو جائیں گے‘ تاہم شرط یہ ہے کہ بھوت اپنی خوبیوں میں لاثانی اور اپنی پھرتی میں برق رفتار ہو ۔ بھوت ایسا ہو جس کی وجہ سے اختیارات کا کوڑا برسانا آسان اور عوام کو بے دام غلام بنا کر رکھنا ممکن ہو جائے ۔ان اختیارات کے حصول کے بعد شہزادے کا دل شاد ہوگا اور روح غم سے آزاد۔ بھوت کی مدد سے ان کے لیے ہر کام کرنا آسان ہو جائے گا ۔اس لیے کاہلی اور سستی کے باوجود کام تفویض کر دیے جائیں گے۔ باہم مشورے کے بعد درباری کسی ایسے فرد کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے جو اس طرح کا بھوت ان کو قابو کر دے۔ لاﺅ لشکر کے ہمراہ جنگلوں ‘ بیابانوں اور پہاڑوں کو عبور کرتے سات سمندر پار مشقت کے بعد سادھو کے پاس پہنچے۔ اسے سارا ماجرا کہہ سنایا۔ سادھو نے بڑی توجہ سے شاہانہ فرمائش سنی اور پھر کمال شفقت سے کہا۔
” دیکھو ! بھوت دینا کوئی مشکل کام نہیں ‘یاد رکھو بھوت کو کبھی بے کار نہ بیٹھنے دینا۔ اگر بھوت کی قوت کار کے مطابق اسے کام نہ دیا گیا تو پھر بھوت سب کو نگل جائے گا ۔“
سادھو کی بات سنی ان سنی کرتے ہوئے شہزادے نے کہا ” سادھو بابا ! ہم آپ کے بھوت کو بہت کام دیں گے۔ اتنا کام کہ وہ تھک ہار کر بھاگ جائے گا۔ ایک بار آپ ہمیں بھوت دے دیں۔ پھر ہمارے کرتب ملاحظہ کریں۔‘ ‘شہزادے اور اس کے حواریوں کی ضد سے مجبور ہو کر سادھو نے ایک بھاری بھرکم بھوت شہزادے کے ہمراہ کر دیا ۔ وہ خوشی خوشی وطن لوٹا اور کار شاہی سنبھال لیے


پہلے روز اس نے گھنٹی بجائی بھوت حاضر ہوا۔ بڑے تحکم سے کہا” مجھے بادشاہ بناﺅ ‘ میرے لیے نیا تاج و تخت لاﺅ‘ بڑے بڑے کھڑپینج زیر کر دو۔ ٹھیکیدار ‘ پٹواری ‘ پلمبر ‘ سکول ماسٹر‘ زکوٰة چیئرمین ‘ ناظم ‘کونسلر ‘حوالدار ‘ خرکار ‘ ملاں ‘ مولوی ‘ ریٹائرڈ ‘ حاضر موجود ‘ غائب جو راستے میںروڑا اٹکائے ” برابر “ کر کے شام سے پہلے پہلے رپورٹ کرو۔“ حکم سن کر بھوت نے لمبی سی جمائی لی ‘ شہزادے کو ایک نگاہ غلط سے دیکھا گویا کہہ رہا ہو” بس“ ”چندلمحوں کی کھڑ کھڑ کے بعد آداب بجا لا کر بولا …. ” حضور والا تاج شاہی پہن لیں ‘ تخت زریں و زمردیں بچھایا جا چکا ہے ۔آپ کے حکم پر تمام ” چھوٹا موٹا طبقہ “ کوٹ پیس دیاگیا ہے ۔مناسب سمجھیں تو کچھ کھانے کے طور پر حاضر کروں۔“ بادشاہ سلامت کی مسرت کی حد نہ رہی۔ بہت حیران ہوئے ۔ا تنے مشکل کام جن کا انہوں نے خواب ہی دیکھا تھا ان کے وہم و گمان میں نہ تھا کہ اس پھرتی سے کام ہو جائیں گے۔ بھوت کو پھر حکم دیا ۔
” ملک میں ایک آٹھ دس سڑکیں بنانا چاہتا ہوں دو چار پل تعمیر کرنے ہیں۔“ جو حکم سرکارکا ‘ بھوت نکل کھڑا ہوا۔ شام سے پہلے پہلے حاضر ہوا۔ ” سب کچھ افتتاح کے لیے تیار ہے مہاراج ۔“
اب کیا تھا مملکت میں بھوت کی وجہ سے ایسے ایسے کام ہونے لگے کہ عقل دنگ رہ جاتی تھی ۔لوگ انگشت بدندان تھے کہ ملک کیا سے کیا ہو گیا ہے ۔ کوئی اسے انقلاب کوئی بادشاہ کا کمال اور کوئی بھوت کی کرامت کہتا۔ یہ کیا ہو رہا ہے ؟ ہر ایک کے ہونٹوں پر یہی سوال تھا۔
بھوت ان کے تمام دشمنوں کو زیر کر چکا تھا ۔چھوٹے بڑے امیر غریب ”برابر“ کر دیے گئے ۔ انصاف چل کر بلکہ لانگ مارچ کر کے لوگوں کی دہلیز پر ” دستک “ دینے لگے ۔ قانون کی ایسی علمداری قائم ہوئی کہ لوگ تھانوں اور کچہریوں میں رلنے کی بجائے گلی محلے میں ” فیصلے “ ہوتے دیکھنے لگے ۔شیر اور بکری ایک ہی گھاٹ پر پانی پینے لگے ۔ شیر بکری بن گیا یا بکرے شیر بن کر دندنانے لگے ۔ اشیائے خوردونوش عام ہوئیں لوگ روٹی کی جگہ کیک دال کی جگہ چکن اور ڈنڈا صابن کی جگہ لیکس استعمال کرنے لگے۔پھانسی گھاٹ ختم ہوئے اور گھروں میں لوگوں کو اپنی مرضی سے خودکشی کی اجازت عام ہو گئی ۔ جانوروں اور چوپاﺅں کی منڈیاں ختم ہوئیں خواتین کو بچے آسانی سے فروخت کرنے کی سہولت مل گئی ۔
بادشاہ کو مسرت کے تمام سامان میسر آئے۔وہ دیکھ رہا تھا کہ پل جھپکتے یہ سارے کام ہو رہے ہیں ۔اسے حیرت سرف اس پر تھی کہ پھر بھی عوام خوش نہیں ہوتے؟۔آخر وہ صبح طلوع ہوئی جب بادشاہ کو کرنے کا کوئی کام یاد نہیں تھا ۔اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا کرے ۔ عقل ‘ فہم و فراست دانائی ‘ ذہانت کوئی فیصلہ کرتی یا بھوت سے تھوڑی سی فراست اور مشاورت لانے کا مطالبہ کرتے یا سرمایہ دے کر خرید لیتے مگر بازاروں میں یہ جنس نایاب تھی ۔سب کچھ بازاروں میں عام تھا مگر فہم و فراست اور دور اندیشی کا قحط پڑا تھا۔ اب ان کو فکر دامن گیر ہوئی کہ بھوت اسے نہیں چھوڑے گا۔ موت سر پر نظر آئی پسینے چھوٹنے لگے تو وہ بھاگے بھاگے سات سمندر پار سادھو بابا کے پاس پہنچے ۔ اپنی بپتا سنانا شروع ہی کی تھی کہ بھوت اس کے پیچھے وہاں جا پہنچا۔ اس سے قبل کہ سادھو کوئی منتر جنتر چلاتا بھوت بادشاہ کو ہڑپ کر گیا۔یہاں کہانی ختم ہو گئی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: