کیا ہم زمانہ جاہلیت میں ہیں؟ محمد صغیر قمر

جاہلیت کے زمانے میں لوگ اپنی بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیتے تھے ۔دفن کرنے سے پہلے بہلانے کے لیے اس کا باپ بچی کو مٹھائی کا ٹکڑا دیتا اور گڑیا تھما کر اس کو قبر میں بٹھادیا جاتا۔بچی کھیل جان کرمگن ہو جاتی اورباپ اس پر مٹی ڈالنے لگتا۔ جب مٹی بچی کی گردن تک پہنچ جاتی تو وہ گھبرا کر اپنی ماں کو آواز دیتی ،چیختی چلاتی لیکن ظالم باپ اس کوزندہ درگور کر دیتا ۔بعث نبویﷺسے قبل اس طرح کے واقعات عام تھے ۔اسلام قبول کرنے کے بعدایک صحابی رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنا ایسا ہی ایک واقعہ رحمت عالمﷺ کے سامنے سنایا۔
”میں اپنی بیٹی کو دفنانے کے لیے لے جا رہا تھا۔بچی نے میری انگلی پکڑ رکھی تھی ، وہ بہت خوش لگ رہی تھی ۔وہ سارا راستہ اپنی توتلی زبان سے باتیں کرتی رہی۔ میں ساراراستہ اس کو بہلاتا رہا۔یہاںتک کہ قبرستا ن پہنچ گیا اور اس کے لیے قبر کی جگہ منتخب کی ۔میں نیچے زمین پر بیٹھااور اپنے ہاتھوں سے ریت اٹھانے لگا ،میری بیٹی نے مجھے کام کرتے دیکھا تو تو وہ میراہاتھ بٹانے لگ گئی ۔وہ اپنے ننھے ہاتھوں سے اپنی قبر کھود رہی تھی ،اسے معلوم بھی نہیں تھا۔ہم دونوں باپ بیٹی ریت کھودتے رہے ۔ میں نے اس دن صاف کپڑے پہن رکھے تھے ۔ریت کھودتے وقت میرے کپڑوں پر مٹی لگ گئی ۔میری بچی نے اٹھ کر میرے کپڑے صاف کیے ۔قبر تیار ہوئی تو میں نے اس میں اسے بٹھایااور اس پر مٹی ڈالنی شروع کر دی ۔وہ بھی اپنے ننھے ہاتھوں سے اپنے اوپر مٹی ڈالنے لگی ۔وہ مٹی ڈالتی جاتی تھی اور قہقہے لگاتی جاتی اور ساتھ ساتھ مجھ سے فرمائش کرتی جاتی تھی ۔میں دل ہی دل میں اپنے جھوٹے خداﺅں سے دعا کر رہا تھا کہ وہ مجھے بیٹا دیں ۔میں دعا کرتا رہا اور بیٹی کو ریت میں دفن کرتا گیا۔میں نے آخری بار جب اس کے سر پر مٹی ڈالنی شروع کی تواس نے خوفزدہ نظروں سے مجھے دیکھا اور کہا “ابا !آپ مجھے کیوں دفن کر نا چاہتے ہیں “میں نے اپنے د ل پر پتھر رکھ لیا اور دونوں ہاتھو ں سے قبر پر مٹی پھینکنے لگا ۔بیٹی روتی رہی ،چیختی رہی ،دہائیاں دیتی رہی ،لیکن میں نے اس کو قبر میں زندہ دفن کر دیا۔”
انہوں نے یہاں تک واقعہ سنایا تھا کہ رحمت للعالمین ﷺ کا ضبط جواب دے گیا ،آپﷺ اتنا روئے کہ ہچکی بندھ گئی،داڑھی مبارک آنسوﺅں سے تر ہو گئی آپ کی آوازرندھ گئی ۔وہ صحابی بھی دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے۔آپﷺ نے حکم دیا یہ واقعہ پھر سناﺅ۔۔۔چنانچہ پھر سنایا گیا تو آپ ﷺ پھرزار وقطار رو دیے۔


قیس بن عاصم بنی تمیم کے سرداروں میں سے تھا۔ظہور رسالتﷺ کے بعداس نے اسلام قبول کر لیا ،ایک روز وہ رسول اللہ کی خدمت میں حاضرہوئے اور آپﷺ کی خدمت میں عرض کیا یارسول اللہ گزشتہ زمانے میں بعض باپ ایسے بھی تھے جنہوں نے جہالت کے باعث اپنی بے گناہ بیٹیوں کو زندہ در گور کر دیا تھا میری بھی بارہ بیٹیاں تھیں۔ میں نے سب کے ساتھ یہی گھناﺅنا سلوک کیا ۔جب میرے ہاں تیر ہویں بیٹی ہوئی تو میری بیوی نے اسے مخفی طورپر جنم دیا اس نے یہ ظاہر کیا کہ نو مود مردہ پیدا ہوئی ہے۔ اسے چھپا کر اپنے قبیلے والوں کے ہاں بھیج دیا اس وقت تو میں مطمئن ہو گیا لیکن بعد میں مجھے اس کا علم ہو گیا ۔میں نے اسے وہاں سے لیا اور اپنے ساتھ ویرانے میں لے گیا۔اس نے بہت آ ہ و زاری کی ، میری منتیں کیں گر یہ و بکا کی مگرمیں نے پر وا ہ نہ کی اور اسے زندہ در گور کردیا۔رسول اللہ (ﷺ)نے یہ واقعہ سنا تو بہت اداس ہوگئے ۔ آپ کی آنکھوں سے آنسوجاری تھے آپ نے فرمایا:
من لایرحم لایرحم
جو کسی پر رحم نہیں کر تا اس پر رحم نہیں کیا جائے گا۔
اس کے بعدآپﷺ نے قیس کی طرف رخ کیا اور یوں فرمایا:تمہیں سخت دن در پیش ہے۔
لنڈے کے دانش فروشو!! اسلام نے توبیٹیوں کو زندگی اور عزت عطا کی ہے ۔تمہیں یہ کہتے کیوں شرم آتی ہے کہ قصور میں یہ ظالم دراصل تمہارے قبیلے کے لوگ ہیں،جن کے لیے تم دن رات مادر پدرآزادی اور جدت تلاش کرتے رہتے ہو،نصاب میں تبدیلی کے خواہاں رہتے ہو،اسلام اور حجاب کا مذاق اڑاتے ہو۔یاد رکھو!ان معصوموں کا خون تمہاری گردنوں پر ہے اور ان گردنوں کی قسمت میں رسی ہے۔۔آخر کا ر رسی!!زمانہ جاہلیت میں تم رہتے ہو اہل اسلام نہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: