اسٹریٹ چلڈرن سٹڈی : نورالہدی شاہین

کراچی کی ایک لڑکی انفاس علی شاہ زیدی نے تین سال قبل فٹ پاتھ پر اسٹریٹ چلڈرن کو پڑھانا شروع کر دیا۔ یہاں وہ بچے پڑھتے ہیں جو کچرے میں رزق تلاش کرتے یا بھیک مانگ کر گزارہ کرتے ہیں۔ انفاس زیدی نے ان کو اپنے پاس بلاکر کپڑے، جوتے اور کھانا پینا دیکر ان کو حصول تعلیم میں لگا دیا۔
تین سالہ محنت کے نتیجے میں انفاس علی شاہ نے فٹ پاتھ اسکول کے 7شاخیں قائم کیں جہاں دو ہزار سے زائد اسٹریٹ چلڈرن مفت تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
آج انفاس زیدی نے مجھے فون کرکے بتایا کہ ناہید درانی اس کو دھمکیاں دے رہی ہے۔
ناہید درانی سابق وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی بیٹی اور اس وقت سندھ ایجوکیشن فاونڈیشن کی ایم ڈی ہے۔ اس ادارے کے پاس کوئی ایک بھی اچھا کام لوگوں کو دکھانے کیلئے نہیں۔ اوپر سے سندھ حکومت کی کرپشن کے باعث ملکی و غیر ملکی ڈونر ایجنسیاں سندھ ایجوکیشن فاونڈیشن کو فنڈز دینے کیلئے تیار نہیں۔
ناہید درانی اب اپنی اس حیثیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انفاس علی شاہ سے فٹ پاتھ اسکولز چھین کر اس کی ساری محنت کا کریڈٹ خود لینا چاہتی ہے اور یہ دکھا کر ڈونر ایجنسیوں سے فنڈز ہڑپ کرنا چاہتی ہے۔ اس نے انفاس علی شاہ کو اپنے دفتر بلا کر دھمکیاں دیں کہ دو دن میں یہ سب کچھ نہ سمیٹا تو ملک ریاض اور آئی جی سندھ و دیگر اعلیٰ حکام سے کہہ کر زبردستی بوریا بستر گول کروا دوں گی۔


آخر سندھ میں یہ کیا ہورہا ہے۔ اساتذہ پر تشدد کیا جاتا ہے۔ 6ہزار اسکول بند پڑے ہیں، ہزاروں گھوسٹ اساتذہ گھروں میں بیٹھ کر تنخواہ لے رہے ہیں۔ پورے ملک میں سندھ تعلیمی لحاظ سے پیچھے ہے۔ اس کے باجود حکومت نہ تو خود کچھ کرتی ہے نہ انفاس علی شاہ جیسے لوگوں کو کرنے دیتی ہے۔
ہم وزیراعلیٰ سندھ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ناہید درانی کو لگام ڈالی جائے۔
نورالہدی شاہین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: