زلزلوں کی گہرائی تک پہنچنے والے زلزلہ بھیجنے والے تک کیوں نہیں پہنچ پاتے؟ اسریٰ غوری

ابھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے اور چینلز محکمہ موسمیات کے حوالے سے بتا رہے ہیں کہ اس کی گہرائی 178 کلومیٹر تھی۔ یہ دیکھتے ہوئے ذہن میں سوال آیا کہ زلزلوں کی گہرائی تک پہنچنے والے زلزلہ بھیجنے والے تک کیوں نہیں پہنچ پاتے؟
ہم نے دیکھا ہے کہ دانشوروں کا ایک حصہ اسے اللہ کی تنبیہہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا بلکہ اس کی سائنسی توجیحات پیش کرنے لگتا ہے، اور سارا زور اس سے بچنے یا نقصان کم کرنے کےلیے تدابیر اختیار کرنے پر ہوتا ہے۔ کچھ تو ایسے دریدہ دہن و قلم بھی ہیں جو مذاق اڑانا شروع کر دیتے ہیں، متاثرین کا بھی مذاق اڑاتے ہیں اور ایمانی کیفیت رکھنے والوں کا بھی۔ حالانکہ تدابیر اختیار کرنے سے کس نے کب روکا، بلکہ اسلام خود اس کی تعلیم دیتا ہے۔ کائنات میں خدائی تصرف پر یقین رکھنے والا فرد تو بس اتنا کہتا ہے کہ زلزلوں سے بچنے کےلیے ضرور حل نکالیے، بلڈنگ کوڈز میں تبدیلی کیجیے، دوسری تمام احتیاطیں، جتنی ممکن ہیں، ان کو بھی سامنے رکھیے، مگر اس کے ساتھ اپنے اعمال کو بدلنے، نماز، توبہ و استغفار اور صدقہ خیرات کا انکار بھی مت کیجیے۔
یہ بات بہت واضح طور پر بیان کردی گئی ہے کہ زلزلے کی ایک وجہ لوگوں کی بد اعمالیاں بھی ہیں۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب لوگ اجتماعی طور پر گناہ کرنے لگتے ہیں تو اللہ کے حکم سے زمین میں زلزلے آنے لگتے ہیں، پھر اگر یہ لوگ توبہ و استغفار کرلیں تو زمین تھم جاتی ہے، وگرنہ اللہ تعالیٰ ان کے گھروں کو منہدم کر دیتا ہے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں زلزلہ آیا تو منبر پر تشریف لائے اور لوگوں کو صدقہ خیرات اور توبہ استغفار کرنے کا حکم دیا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنھما فرماتی ہیں
”جب لوگ پانچ قسم کی برائیاں کرنے لگتے ہیں تو ان کو پانچ طرح کے مصائب میں مبتلا کیا جاتا ہے۔ جب سود عام ہوگا تو زلزلے اور زمین میں دھنسنا عام ہو جائے گا۔ جب اہل اقتدار ظلم کرنے لگیں گے تو بارشیں بند ہو جائیں گی ، جب زنا عام ہو جائے گا تو لوگ جلدی مریں گے۔ جب لوگ زکوٰۃ دینے سے رک جائیں گے تو مویشی مرنے لگیں گے اور جب غیر مسلموں کے حقوق کی حفاظت نہ ہوگی تو وہ مسلمانوں پر غالب آجائیں گے۔”
اسی طرح ایک اور روایت میں ہے کہ “جب شادی شدہ عورتیں بہک جائیں، جب لوگ زنا کو حلال سمجھنے لگیں، شراب پئیں اور گانوں کی محفلیں سجنے لگیں تو اللہ تعالیٰ کو آسمان میں غیرت آتی ہے، وہ زمین کو حکم دیتا ہے اور زمین میں زلزلے آنے لگتے ہیں۔”
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا:
”جب مال غنیمت دولت سمیٹنے کا ذریعہ بن جائے، امانت کو غنیمت اور زکوٰۃ کو بوجھ سمجھا جائے، دین کا علم دنیوی مقصد کے تحت حاصل کیا جائے، آدمی اپنی بیوی کی فرمانبرداری کرے اور ماں کی نافرمانی کرے۔ دوست سے قربت بڑھائی جائے اور باپ سے دوری اختیار کی جائے۔ مساجد میں شوروغل بلند ہونے لگے، کسی کے شر سے بچنے کے لیے اس کی عزت کی جائے۔ اداکارائیں اور موسیقی کے آلات عام ہو جائیں۔ شراب سرعام پی جانے لگے۔ اس امت کے بعد والے لوگ پہلے والوں کو برا بھلا کہیں تو پھر انتظار کرو تندوتیز ہواؤں کا، زمین میں زلزلوں کا، زمین میں دھنسے جانے کا، بندر و خنزیر بنائے جانے کا اور آسمان سے پتھر برسنے کا اور یکے بعد دیگرے آنے والی ایسی نشانیوں کا جو تسبیح کی لڑی ٹوٹنے کے بعد تسبیح کے دانوں کے گرنے کی طرح پے در پے آئیں گی۔”
نبی کریم ﷺ کے زمانے میں مدینہ میں زلزلہ آیا تو آپ ﷺ نےصحابہ کو توبہ استغفار کا حکم دیا۔ جبکہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے بارے میں آتا ہے کہ زلزلہ آتا تو وہ فوراً نماز کی طرف متوجہ ہوتے۔


اللہ سب کو محفوظ رکھے اور اس آخری زلزلے سے پہلے بھی توبہ استغفار کی توفیق عطا فرمائے جس کے بعد توبہ کی بھی مہلت نہیں‌ ملے گی۔
دل لگتی بات یہ ہے کہ ہم نہیں ہلتے تو زمین ہلا دی جاتی ہے، تنبیہ ہوتی ہے رب کی جانب سے کہ پلٹ آؤ، اب بھی وقت ہے، مہلت ہے۔ تو کیا ہم اس آخری زلزلے سے پہلے کسی زلزلے کے بعد اس مہلت سے فائدہ اٹھائیں گے، اللہ سے رجوع کرنے والے بن سکیں گے؟ اس سوال کے جواب میں ہماری اخروی نجات پوشیدہ ہے

1 Comment
  1. 1 February, 2018
    mir afsar aman
    mah shah allah
    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: