بچپن کے رومانس : نشرمکرر : فیض اللہ خان

افغانستان و کشمیر وہ قریبی رومانس تھے جو بچپن سے ھی ھمیں مل گئے تھے افغان جہاد ھمارے اسکول دور میں عروج پر تھا تو کشمیر کشمیر کی صدائیں بھی بلند ھورھی تھیں ایسے میں سلیم ناز بریلوی مرحوم اور حافظ حسین احمد کی آواز میں ترانے نیا جذبہ پیدا کر رھے تھے ، کتنے ھی جاننے والے کشمیر کے برف زاروں میں اترے اور پھر انہی پہاڑوں میں منوں مٹی اوڑھے سو گئے ، کشمیر آذاد نہ ھو سکا ، ھو بھی نہیں سکتا تھا کیونکہ نیت ھی نہیں تھی پرسکون کشمیریوں کو ھم نے آذادی کی راہ دکھائی ،جب کشمیری پوری استقامت سے اس پہ چل نکلے ایک لاکھ شہید ، ھزاروں لاپتہ و قید ھو گئے دو نسلیں بر باد ھو گئیں تو ھم سید علی گیلانی اور سید صلاح الدین کو حیراں پریشاں چھوڑ کر امریکی ھدایات کیمطابق ایسے یوٹرن کیطرف گئے کہ ابھی تلک گھوم ھی رھے ھیں! ھکے بکے سید زادے ھمیں دیکھتے رھے اور ھم انکی نظروں سے جانتے بوجھتے انجان! پتہ نہیں ھمارا بوڑھا شیر سید علی گیلانی کس دل سے پھر بھی پاکستان پاکستان کہتا ھے ، کوئی نہیں بتاتا کہ کتنے ھی کشمیری مجاھدین اس دوران واپس گئے اور بھارت کے سامنے سرنڈر ھوگئے ویسے بھی پاکستان کی بیوفائی کے بعد ان بیچاروں کے پاس راستہ ھی کچھ نہیں بچا تھا ، یہ اس بوڑھے راھنماء کی ھی ھمت ھے کہ آج بھی ڈنکے کی چوٹ پہ کہتا ھیکہ اسلام کی نسبت سے ھم پاکستانی ھیں ، پاکستان ھمارا ھے! ھم میں تو اسکا سامنا کرنے کی بھی تاب نہیں، کیا ھمارے اداروں حکمرانوں اور سیاستدانوں میں اتنی جرات ھیکہ وہ اس للکار پر دو لفظ بول سکیں !


برہان الدین وانی کی صورت میں جب تحریک نے نئے ولولے سے کروٹ لی تو ہمارے منہ میں پڑی زبان بھی بول پڑی اور طویل عرصے بعد اقوام متحدہ میں پاکستان نے جاندار مؤقف اختیار کیا ۔ کشمیر پیچیدہ مسئلہ ہے حافظ سعید کے اس سے جڑنے اور نمایاں ہونے کی وجہ سے ھند کو پروپیگنڈہ کا موقع ملا بہتر یہی تھا کہ تحریک کی چہرے کشمیری ہی رھتے ۔ اقوام متحدہ جیسے ادارے مسلمانوں سے جڑے مسائل حل کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے لیکن ہمارے لئیے ضروری ہے کہ اقوام عالم تک کشمیر کا مقدمہ مدلل انداز سے پہنچائیں اور پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست اور معاشی قوت بنانے پہ زور دیں ، محلے میں بھی عزت امیر آدمی کی ہوتی ہے عالمی اداروں سے بھیک مانگنے والے ممالک کی کوئی نہیں سنتا ۔ یہ بات پیش نظر رہے کہ کشمیر کشمیریوں کا ہے اور حتمی فیصلے کا اختیار انہی کے پاس ہے ۔ رہی انکی آذادی تو بارھا کہہ چکا ہوں وہ الگ ہی مخلوق ہوگی جو مصلحت و سیاست کو ایک طرف رکھ کر انکے لئیے لڑے گی ۔کشمیریوں کی پاکستانیوں سے محبت ڈھکی چھپی نہیں لیکن انکے گلے شکوے بڑھ چکے جسے دور کرنا ریاست کی ذمہ واری ہے اور اس سے بڑھ کر کشمیر کو پوری قوم کا مسئلہ بنانا ہوگا نہ کہ اسکے علمبردار فقط جماعت اسلامی ، جماعت الدعوی اور مسعود اظہر ہوں ۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: