بھارتی ٹارچر سیل سے چنار کہانی : محمد صغیر قمر

میری ماں !
تو جو اس وقت یادوں کے شبستان میں میری آہٹوں پر کان لگائے بیٹھی ہوگی اور ہر آہٹ پر تمہیں میرے آنے کا گمان گزرتا ہوگا۔ تمہیں کون بتائے کہ وہ جس کی خوشی اور غم کے ساتھ تو نے اپنی خوشی اور غم مشروط کر رکھی تھی ۔ جب چشم تصور میں ان گلیوں ‘ پگ ڈنڈیوں اور ندی کے کناروں کا خیال آتا ہے جن کے ساتھ اس کی زندگی کی سب سے حسین بہاریں وابستہ ہیں تو ان میں سب سے زیادہ گھائل کرنے والی یاد تیری مہربانیوں اور شفقتوں کی یاد ہوتی ہے ۔
تجھ سے بچھڑ جانے کے بعد مجھے رہ رہ کر خیال آتا ہے کہ جب میں چند دن تجھ سے دور رہنے کے بعد اچانک تیرے سامنے نمودار ہوتا تھا ‘ تو تیرے مرجھائے ہوئے معصوم چہرے پر کس قدر اطمینان ہوتا تھا۔ مجھے بے چین کرنے والی یادیں جو محبت اور شفقت سے لبریز تیری آنکھوں کے کٹوروں میں چھلکنے والے ان آنسوﺅں سے وابستہ ہیں جو ظالم بھارتی پولیس کے ہاتھوں میری گرفتاری کے بعد ساون بھادوں کی طرح ان کٹوروں سے ٹپ ٹپ گرنے لگتے ‘ پھر ایک مدت تک ہمارے مابین حائل جدائی کی دیوار تیری آنکھوں کے ساغر خشک کر لیتی اور ان میں مایوسی اور اداسی کے سائے اس طرح پھیل جاتے جیسے اپنے لخت جگر کو مٹی میں دبانے کے بعد ایک ماں کی آنکھیں یہ سوچ کر بجھ جاتی ہیں کہ اب یہ لاڈلا کبھی واپس نہیں لوٹے گا ۔
لیکن میں ہر بار رہا ہو کر تیری آنکھوں کی رعنائیوں کو لوٹا دیتا ۔ میری ماں ! مجھے اچھی طرح یاد ہے اور اب وہ یاد ایک کرب بن کر رہ گئی ہے ‘ جب تو جیل میں مجھ سے ملاقات کے لیے آتی اور جیل کی ملاقاتی کوٹھڑی میں مجھے گلے لگاتی ‘ میں تیرے کندھے پر سر رکھتا ‘ اس وقت میری آنکھوں میں آنسو آتے ‘ لیکن وہ اس خیال سے کبھی چھلک نہ سکے کہ کہیں غیرت پر حرف نہ آئے ۔ تو مجھے دلاسہ دیتی ‘ لیکن تمہیں معلوم نہ تھا کہ میری آنکھوں میں یہ تیری محبت کے آنسو ہوتے تھے۔ میں قید کی صعوبتوں سے دل برداشتہ نہیں ہوا کرتا تھا ‘ لیکن تیرے سکون پر لوٹنے والے سانپ میرے احساس کو ڈس لیتے ۔ میری ماں ! یوں تو ان دنوں کی باتیں ‘ جب میری شریانوں میں دوڑنے والا تیرا دودھ مجھے شعور کی منزل تک پہنچا چکا تھا ۔
یہ اس دور کی باتیں ہیں جب تیری ڈھلتی عمر میری رگوں میں دوڑنے والے لہو کے قرض سے سہارے کا تقاضا کر رہی تھی ‘ لیکن میری جوانی گردش ایام کے بھنور کی نذر ہو گئی لیکن اس سے بھی پہلے ایک د ور ہے ۔ جس کی یاد میں قوس قزح کے رنگوں کی مانند حسین ہیں ۔ میں تیری آنکھوں کا سب سے سہانا خواب تھا اور تو نے غربت و افلاس کی حالت میں بھی اس خواب میں رنگ بھرے ‘ جب میں بچہ تھا تو تو نے اپنا خون سفید کر کے مجھے پلایا۔
تیری لوریاں میرے کانوں میں شہد گھول دیتیں ۔ جب میںنے چلنا شروع کر دیا تو تیرے منہ میں نوالہ تب تک حلق میں اٹکا رہتا جب تک تو میرے منہ میں نوالہ نہ ڈالتی۔ جب تو دن کو لوگوں کے کھیتوں میں مزدوری کرنے جاتی اورشام کو گھر واپس لوٹتی تو اپنی اوڑھنی کے کونے کی گرہ کھول کر میرے منہ میں وہ سب کچھ ڈال دیتی جو تجھے دن کو وہاں کھانے کو ملا کرتا ۔چراغ کی مدہم روشنی میں ‘نیم تاریک کمرے میں ‘میں سوکھے ہوئے گوشت اور پنیر کے ٹکڑے چبایا کرتا ۔ میں بیمار ہوتا ‘ تو فکر مندی کے عالم میں میری پیشانی پر بار بار ہاتھ پھیر کر مجھے اپنے لمس کا آب حیات پلاتی۔
تیری ناتمام مرادوں کی قسم ! مجھے یاد ہے جب تو مصلے پر نماز شروع کر دیتی تو میں مصلے پر تیرے آگے بیٹھ کر تیری رکعتوں کو کتنا طویل بنا دیتا تھا اور کبھی تیرے پہلو میں کھڑے ہو کر تیری نقل اتارا کرتا ۔ مجھے معلوم نہیں میرے گرد آلود چہرے پر پھیلی ہوئی مسکراہٹوں میں تیرے لیے کیا رکھا ہوتا تھا جو میری ایک حرکت پر نچھاور ہو جاتی تھی ۔ پھر وہ موڑ آیا جب میںنے تیرے احسانات کے بدلے تمہیں دکھ دینے شروع کر دیے ۔ یہ وہ دور تھا جب خیالات آوارہ اور جذبات گمراہ ہوتے ہیں ۔ میری زندگی کے اس مختصر ترین لمحے میں شاید میری آنکھوں کی بصارت سلب ہو چکی تھی جو میں تیری عظمت کو مجروح کرتا رہا ۔ میں اس بات کا اب اندازہ لگا سکتا ہوں کہ میں نے تمہیں کتنا ستایا ۔ میری سر کشی کے جواب میں حسرت کے ساتھ میری طرف دیکھ کر تو ایک ٹھنڈی آہ بھر لیتی اور پھر آنکھیں جھکا لیتی ۔
تیری چنار صفت ہستی…. جو کھلے تو پھول اور پھیلے تو افق ہوتی ‘ میرے ہاتھوں کتنے زخم سہتی رہتی ‘ لیکن تیری ممتا کی چھاﺅں کے دائرے میرے لیے ہمیشہ وسیع سے وسیع تر ہوتے گئے۔
میری ماں ! مجھے اندازہ نہیں تھا‘ نہ تمہیں کبھی یہ خیال گزرا ہوگا کہ تو ایک طرف دھوپ میں جھلستی رہے گی اور میں تجھ سے دور ‘ مسافتوں کی دوری پر ‘ یادوں کے بن میں سلگتا رہوں گا۔ تیری پرچھائیاں جب چشم تصور میں میرے سامنے لہرانے لگتی ہیں اور تیری معصوم صورت میرے نہاں خانہ دل میں چپکے سے جھانکنے لگتی ہے تو میں بے چین ہو جاتا ہوں ‘ لیکن پھر مجھے احساس ہوتا ہے کہ تیری شبیہ اکیلی نہیں ہے ‘ بلکہ اس کے ساتھ بہت سی موہوم تصویریں ‘ چہروں پر ممتا کا تقدس لیے آنکھوں میں انتظار کا کرب سمیٹے متوحش نگاہوں سے سر نکالتی ہیں‘ مجھے احساس ہوتا ہے کہ ان میں سے ہر ایک ماں ہے ۔ چہرے سب ایک جیسے بن جاتے ہیں اور وہ مجھے پکارنا شروع کر دیتی ہیں ۔ مختلف ناموں سے ‘ لیکن میں کسی کے لیے مر چکا ہوں ‘ کسی کا بیٹا بن کر زنداں میں ہوں اور کسی کو میرے لوٹ آنے کی امید ہے ‘ اچانک خون کا ایک دریا میرے احساس اور تیری یادوں کے درمیان حائل ہو جاتا ہے اور وہ بے شمار مقدس تصویریں اس میں ڈوبنے لگتی ہیں ۔ میں یادوں کی سیج سے پھسل جاتا ہوں ۔ جب اچھے دنوں کی خاطر تجھ سے رخصت ہونے کی وہ گھڑی سوہان روح بنی ہوئی ہے جب تو مجھے الوداع کہنے کی خاطر صحن میں لگے درختوں کے جھنڈ کے نیچے بیٹھی رہی ‘ تیری حسرت بھری نگاہیں میرا تعاقب کرتی رہیں اور میں مڑ مڑ کر تیری حسرت دید کا جواب دیتا رہا ۔ جب تک فاصلوں کی خلیج نے ہمیں ایک دوسرے اوجھل نہ کر دیا۔
میری ماں ! ہم ایسے گناہوں کی فصل کاٹ رہے ہیں جو ہم نے نہیں بوئی ہے ۔ اپنی آہ و بکا میں تنہا نہیں ہے نہ میں اپنے بے کسی میں اکیلا ہوں ‘ بلکہ یہ کاررواں ہے جن کی حسرتیں ناکام اور جن کے ارمان تشنہ کام رہے ۔ ہم نے بسمل روحوں کے قافلے میں بس ایک کا اضافہ کر دیا ہے ۔
میری ماں ! رشتوں کی ہریالی جو چہروں کو شاداب بناتی ہے ‘ قربتوں سے لہلہاتی ہے ‘ لیکن اپنے نصیب میں قربتیں نہ رہیں‘ رشتوں کی کھیتیاں دونوں طرف مرجھائی ہوئی ہیں اور بیچ میں ایک خونی لکیر حائل ہے ۔ شاداب چہرے بجھتے جا رہے ہیں۔ آمیں تمہیں دکھاﺅں کہ خونی لکیر کے اس پار کتنے چہروں پر جھریوں کی زبان میں زندگی کی ناتمام داستانیں رقم ہو چکی ہیں جو ثانیوں کے لیے اپنوں سے رخصت ہوئے تھے ‘ لیکن یہ ثانیے اتنے طویل ہو گئے کہ جیتے جی ایک د وسرے کو دیکھنے کی بات تو دور ہے ‘ ایک دوسرے کے جنازے کو کندھا بھی نہ دے سکے ۔ کتنے ستم ٹوٹے کہ خونی دیوار کے نہ اس پار لوگوں کو چین مل سکا اور نہ اس طرف ۔لمحوں کی جدائیاں زندگی کا روگ بن گئیں لیکن !
میری ماں ! لوگوں نے سوچا ہے اور بزرگ کہتے ہیں کہ رشتوں کی ان مرجھائی ہوئی کھیتیوں کو پھر سے لہلہانے کی خاطر انہیں لہو سے سینچنے کی ضرورت ہوتی ہے ‘لہو ٹپ ٹپ گر رہا ہے اور دوریاں سمٹ نہیں رہیں ‘ ان قافلوں میں میں بھی شریک ہوا ہوں اور زنداں میرا مقدر بن گیا۔خونی لکیر کے اس پار جہاں ہمارے مقدر کے وکیل رہتے ہیں عشروں دیکھ دیکھ کر نگاہیں پتھرا گئی ہیں۔ زنداں کی دیواروں کے اس پار سے امیدوں کی کرنیں کبھی کبھی پھوٹتی تھیں ۔اب وہاں کانٹے دار گھاگ اگ آئی ہے اور میری تاریک کوٹھڑی میں ستم گروہ کے حربے بڑھ گئے ہیں ۔ تمہارے انتظار کی طرح میرا مستقبل بھی طویل اندھیروں میں گم ہوتا جا رہا ہے لیکن میری ماں تو میرے انتظار میں اکتانا نہیں !
ماں! تو امید کے چراغ جلائے اپنی آنکھوں میں خواب سجا کر رہنا ‘ میں آﺅں گا اور ایسے آﺅں گا کہ پھر کوئی خونی لکیر ہمارے درمیان حائل نہ ہو سکے گی ….!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *