“یوم یک جہتی کشمیر اورپاکستان کا ضمیر زندہ ” قاضی حسین احمدمرحوم: عبدالہادی احمد

افغان قوم نے روس کے ساتھ جنگ میں اپنےپندرہ لاکھ بیٹے قربان کردیے، اس جنگ میں صرف پچاس ہزار روسی مارے گئے، اس لیے کہ روس زمین اور آسمان سے آگ برسا رہا تھا اور أفغان ٹوٹی پھوٹی بندوقوں سے لڑتے تھے،مگر افغانوں نے روس کومعاشی طور پر تباہ اور سوویت یونین کوٹکرے ٹکڑے کر ڈالا۔ اسی زمانے میں جب روس کو یقین ہو گیا تھاکہ اس قوم سے جیتنا ممکن نہیں اور وہ اپنی شکست تسلیم کر کے أفغانستان سے نکل رہا تھا، کشمیر کی جدو جہد آزادی میں اچانک شدت آگئی۔یہ کشمیر کی جدو جہد آزادی پر افغان جہاد کی کامیابی کےاثرات تھے، افغانوں کی فتح نے کشمیریوں کو امید دلادی۔ انہوں نے جب دیکھا کہ افغان جہاد کے نتیجے میں روس جیسی سپر پاور بھی ٹکڑ ے ٹکڑے ہو کر پسپائی سے دوچارہو سکتی ہے ،دیوار برلن گر سکتی ہے ،یورپ اور وسط ایشیاکمیونزم کی گرفت سے آزاد ہوسکتے ہیں اور وسطِ ایشیا کی مسلم ریاستیں آزاد ہو کر دوبارہ دنیا کے نقشے پر نموارد ہوسکتی ہیں ،تو وہ بھی کشمیر کو آزاد کرا سکتے ہیں۔یہ اسی (80) کے عشرے کے آخری دن تھے۔
1987ء میں مقبوضہ کشمیر میں اسمبلی کے انتخابات آزادی کے نعرے پر لڑے گئے۔ آزادی پسند بھاری مارجن سے جیت رہے تھے،مگربھارت نے کھلی دھاندلی سے اپنی شکست کو فتح میں بدل دیا۔ اس پر کشمیر کی نوجوان نسل کا غصہ بے قابو ہو گیا اورمقبوضہ کشمیر سے نوجوانوں کے چھوٹے چھوٹے گروہ کنٹرول لائن پر واقع برف زاروں کو عبور کرتے ہوئے آزاد کشمیر پہنچنے لگے۔ یہ سب عسکری تربیت حاصل کرنے کے خواہاں تھے۔ افغان جہاد میں جوکشمیری شریک رہے تھے انہوں نے أفغان سرحد کے مختلف مقامات پر اپنے عسکری مراکز (غنڈ) بنا لیے تھے۔ان ہی مقامات پر نوجوان کشمیریوں کے تربیتی انتظامات بھی کیے گئے تھے۔ شروع میں مقبوضہ کشمیر کے مختلف علاقوں سے گنتی کے نوجوان جہاد میں شرکت اور تربیت لینے آئے۔اس کے بعد یہ سلسلہ چل نکلا، چراغ سے چراغ جلا اورپوری قوم جذبہ آزادی سے سر شار ہو کر اٹھ کھڑی ہوئی ۔
1989ء میں روس افغانستان سے واپس گیا،اسی سال کشمیر کے جہاد کا باقاعدہ آغاز ہوا ۔ابتدامیں کچھ کشمیری نوجوانوں کو عسکری تربیت دلانے کا انتظام پاک أفغان سرحد کے قریب واقع جہادی تربیت گاہوں میں ہوا۔ حزب اسلامی کے سربراہ حکمت یار اور جمعیت اسلامی کے رہنما پروفیسرربانی آپس میں سخت مخالف تھے،لیکن دونوں کشمیرکی جد وجہد آزادی سے سو فی صد متفق تھے۔ امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد کی اپیل پرانہوں نے بخوشی کشمیری نوجوانوں کو تربیت دلانے کا عندیہ دیا۔ اس طرح کشمیری نوجوانون کا افغانستان جانے کا سلسلہ شروع ہوا۔ پہلے بیج میں20…25 نوجوان آئے ۔تاہم1989ء کے اواخر میں یہ تعداد سینکڑوں کو پہنچ گئی ۔ کشمیری نوجوان عسکری تربیت حاصل کر کے واپس گئے،تو ان کے ساتھ جہاد افغانستان کا انقلاب آفریں پیغام بھی مقبوضہ کشمیر کے گھر گھر جا پہنچا۔ جد وجہد آزادی کی بجھی ہوئی راکھ میں دبی ہوئی چنگاریاں یکبارگی بھڑک اٹھیں،جہادی ترانوں سے ساری وادی گونجنے لگی۔ سری نگر کی بسوں پر مظفر آباد کے بورڈ آویزاں ہو گئے، کشمیری نوجوان ان بسوں پرکپواڑا اوراس سے آگے برفانی وادیوں سے ہوئے بیس کیمپ پہنچتے رہے۔ وہاں سے یہ کوہ سفید کی ترائیوں میں واقع تربیت گاہوں میںچلے جاتے تھے۔ جنوری1990 ءکے بعد تو دو تین سو لوگ روزانہ آنے لگے۔ اس طرح بیس کیمپ کے کے دشوار گزار راستوں میں اور تربیت گاہوں میں نوجوانوں کاایک ہجوم اکٹھا ہو گیا۔اس سےایک نیا مسئلہ کھڑا ہوگیا،کسی کے پاس اتنے لوگوں کو کھاناکھلانے اوربستر مہیا کرنے کا انتظام نہ تھا ۔ بے نظیرحکومت اس پوری صورت حال سے بالکل بے خبر یا لاتعلق تھی۔
یہ سخت سردی کے دن تھے،کشمیری نوجوان سرو سامانی میں اکثر ایک جوڑا لباس یا فیرن(کشمیری چوغہ) پہنے جنگ بندی لائن عبور کر لیتے تھے ۔ یہ لوگ برف کے بلند و بالا پہاڑ پار کرکے آتو جاتے تھے، مگرشدید سردی میں کچھ فراسٹ بائٹنگ کا شکار ہو جاتے تھے، ہاتھ اور پائوں کی انگلیاں کٹ جاتی تھیں،انہیں ہیسپتالوں میں لے جانا پڑتا تھا،علاج کے انتظامات ناکافی تھے۔اس مرحلے پرامیر جماعت اسلامی پاکستان قاضی حسین احمد بروئے کار آئےجو اہل پاکستان کے بیدارضمیر کا زندہ نشان تھے۔انہوں نےاس چیلنج سے نبرد آزما ہونے کا فیصلہ کیا۔ مجھے ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا تھا کہ جب ہم نے دیکھا کہ پاکستان کی تکمیل کی جنگ لڑنے والے یہ مجاہدین بے سروسامان ہیں اوران کی تعداد روز بروزبڑھتی جا رہی ہے،جب کہ حکومتِ وقت اس صورت حال سے لاتعلق بنی ہوئی ہے، تو ہم نے اہل پاکستان کو آزادی کی اس تحریک سے آگاہ کرنے کے بارے میں سوچا ۔
میں نےاسی ملاقات میں قاضی صاحب سے پوچھا تھا کہ آپ نے پانچ فروری کا دن کس طرح اہل کشمیر سے یک جہتی کا دن بنادیا؟اس دن کو منانے کی غرض و غایت کیا تھی اور خاص طور پر آپ کے نام ہی قرعہ فال کیوں نکلا؟یہ کام تو پاکستان کے حکمرانوں کو کرنا چاہیے تھا؟ میرے سوال کے جواب میں قاضی صاحب نے کہا، پانچ فروری کا دن منانے کی ضرورت اس طرح پیش آئی کہ کشمیری مجاہدین ہزاروں کی تعداد میں مقبوضہ کشمیر کے برفانی پہاڑوں سے اتر کر آچکے تھے اورابھی آرہے تھے ،ہزاروں افغانستان کے سرحدی علاقے میں ڈیرے ڈالے ہوئے تھے اور بہت سے ابھی راستوں میں تھے ۔ جماعت اسلامی کے علاوہ کوئی ان کا پُرسان حال نہ تھا۔ میں نے پانچ جنوری1990ء کو ایک پریس کانفرنس میں پاکستانی میڈیا کو خبردار کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں اتنی بڑی عوامی تحریک چل رہی ہے،کشمیری نوجوان اپنے سر ہتھیلیوں پر اٹھا ئے ہوئے چل رہے ہیں اورپیپلز پارٹی کی حکومت اس تحریک کو پاکستانی عوام سے چھپائے ہوئے ہے،حکومت نے لوگوں کو اس تحریک آ زادی کی بھنک بھی نہیں پڑنے دی۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ کا فرض ہے کہ وہ پاکستان کے عوام کواس کام میں شریک کریں۔

قاضی صاحب نے پانچ جنوری 1990ء کو اپنی اس پریس کانفرنس میں قومی میڈیا کے نمائندوں کوان کا فرض یاد دلاتے ہوئےکہا ، آپ لوگ نیا کو یہ بتائیں کشمیر بھارت کا حصہ نہیں ،بلکہ ایک متنازعہ علاقہ ہے اور وہاں کے لوگ بھارتی قبضے کے خلاف جائز اور قانونی مزاحمت کررہے ہیں۔ آپ لوگ اہل پاکستان کو بائیں کشمیری صرف کشمیر کی آزادی کے لیے ہی مصروفِ جہد نہیں،وہ پاکستان کی بقا کی جدو جہد بھی کر رہے ہیں ،اس لیے کہ کشمیر کا آزاد ہونا پاکستان کی شہ رگ کا آزاد ہونا ہے۔ خدا نخواستہ کشمیر پر بھارت کا قبضہ مستحکم ہو گیا،توبھارت پوری کوشش کرے گا کہ پاکستان کے پانیوں پر قبضہ جما کر پاکستان کو بنجر اورصحرا بنا دے ۔ قائد اعظم نے بجا طور پرجموں کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ کہا تھا ۔اس لیے کہ کشمیر پاکستان کا تاریخی ،جغرافیائی اور مذہبی جزو بھی ہے ،کشمیر کے بغیر پاکستان کی تکمیل نہیں ہو سکتی،لیکن کشمیر پاکستان کے لیے اقتصادی اور معاشرتی شہ رگ بھی ہے ،اس لیے ان آمادئہ جہد نوجوانوں کی مدد کرنا تمام اہل پاکستا ن کا مقدس فرض ہے ۔عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ اتنی بڑی تعداد میں آنے والے نوجوانوں کی مدد کریں،عوام کو یہ احساس دلایا گیا کہ ریاست تحریک آ زادی شروع ہو چکی ہے ،اس وقت لوہا گرم ہے ،تحریک کو ہماری حمایت اور سپورٹ کی ضرورت ہے ۔
قاضی صاحب نےپانچ جنوری کی اسی پریس کانفرنس میں یہ اعلان بھی کیا کہ ٹھیک ایک ماہ بعد(پانچ فروری کو) کشمیریوں سے یک جہتی کے اظہار کے لیے ہڑتال کی جائے۔ تاکہ کشمیریوں کویہ اعتماد ہو کہ پاکستان کی پوری قوم ان کی پشت پر ہے۔صوبہ پنجاب میں نواز شریف اسلامی جمہوری اتحاد کے کے وزیر اعلیِ تھے، انہوں نے قاضی صاحب کی کال کی حمایت کی 5فروری1990ء کو پنجاب بھر میں سرکاری طور پر یومِ یک جہتی کشمیر منانے کا اعلان کر دیاگیا۔بے نظیر بھٹو مرکز میں وزیر اعظم تھیں انہوں نے بھی قاضی صاحب کی کال کی حمایت کردی۔اس دن پورے پاکستان میں قومی چھٹی کا اعلان ہو گیا۔ پانچ جنوری سے پانچ فروری 1990تک اس ایک ماہ کے عرصے میں کانفرنسوں، اجتماعات اور مظاہروں کے ذریعے ایسی فضا بنائی گئی کہ پانچ فروری 1990ء کو تاریخی ہڑتال ہوئی۔ پاکستان کی حکومت، اپوزیشن ،سیاسی جماعتوں اور عوام نے مل کر یوم یک جہتی کشمیر منایا ۔

تحریک آزادیٔ کشمیر کے پیغام کوعالم اسلام کی سطح تک اجاگر کرنے لیے قاضی حسین احمد کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی پارلیمانی وفد مسلمان ممالک کا دورہ کر کے ان ممالک کی حکومتوں اور اسلامی تحریکوں کے ذمہ داروں سے ملا۔ ان کو بھی مسئلہ کشمیر کی نوعیت و اہمیت سے اور بھارت کے اسلام اور عالم اسلام کے خلاف عزائم سے آگاہ کیا۔بقاضی صاحب نے مختلف ممالک کی اسلامی تحریکوں سے بھی یہ دن یومِ یک جہتی کشمیر کے طور پر منانے کی اپیل کی؛ چنانچہ اس کے بعد سے یہ دن نہ صرف یہ کہ سرکاری طور پر اہتمام کے ساتھ پورے ملک میں منایا جاتا ہے بلکہ دنیا کے اکثر ملکوں میں وہاں کی اسلامی تحریکوں کی طرف سے بھی اسے یومِ یک جہتی کشمیر کے طور پر منایا جاتا ہے۔
مئی1990ء کے اوائل میں مظفر آباد میں قاضی حسین احمد کی صدارت میں ایک عالمی اسلامی کانفرنس منعقد کی گئی جس میں تمام عالمی اسلامی تحریکوں کے قائدین اور نمائندے شریک ہوئے۔گزشتہ اٹھا ئیس برس سے یہ روایت قائم و دائم ہے۔ ہر سال یوم یک جہتی کشمیر کے موقعے پر آزاد کشمیر اور پاکستان کے کونے کونے میں کشمیر کی تحریک آزادی سے اظہار یک جہتی کے لیے اجتماعات اور سیمی نار ہوتے ہیں اور ریلیاں منعقد کی جاتی ہیں ۔ مختلف شہروں میں انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائی جاتی ہے۔ اگرچہ حکومتی سطح پرہونے والے پروگرام زیادہ تر بے جان اور رسمی نوعیت کے ہوتے ہیں، تاہم عوام الناس کے جوش و خروش میں کمی نہیں آئی ،خصوصاً جماعت اسلامی آج بھی پانچ فروری کو ہر اول دستے میں موجود نظر آتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *