ہجوم نما قوم : محمد صغیرقمر

اس ہجوم نما قوم پر جب بھی کوئی آفت آتی ہے ،نت نئے نجات کے راستے تلاش کرتی ہے۔اس ملک کا ایک طبقہ پہلے دن سے اس کی منزل کے راستے میں آن کھڑا ہوا تھا۔استعما ر کے پروردہ ان لوگوںکو اس ملک کا قیام ہی کھٹک رہا تھا۔اس طبقے نے ہمیشہ اپنی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا۔افسوس ناک بات یہ ہے کہ وہ لوگ جو اس کو اصل منزل سے ہمکنار کرنا چاہتے ہیں ان کی آواز اب نقار خانے میں طوطی جیسی ثابت ہو رہی ہے۔اس کی دو وجوہ سمجھ آتی ہیں،ایک یا تو وہ منزل کاراستہ نہیں جانتے یا شارٹ کٹ راستے سے کم وقت میں وہ منزل حاصل کرنا چاہتے ہیں جس کا انہیں مکمل شعور ہی نہیں۔ان کی کیفیت ایسی ہے کہ
چلتا ہوں تھوڑی دور ہر اک تیزرو کے ساتھ
پہچانتا نہیں ہوں ابھی راہ بر کو میں
ادراک منزل کے کسی ایسے لمحے سید کی یا دآئی۔خدا قبر نور سے بھرے۔کس قدر واضع اوردوٹوک بات سے انہوں نے اسلامی نظام کے داعیوں کوسمجھایاتھا۔
جولوگ سنجیدگی کے ساتھ یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان میں ایک مثالی اسلامی معاشرہ وجود میں آئے ،انھیںجو بات سب سے پہلے اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے ،کہ ہماری قوم میں اس کے لیے خواہش کی کوئی کمی نہیں ۔اصل کمی آمادگی کی ہے اور اس سے بھی زیادہ کمی استعداد کی ۔بیشتر لوگ ان کمی سے کم بنیادی اوصاف سے بھی خالی ہیں جن کا ہونا اس کام کے لیے ناگزیر ہے ۔دوسری بات یہ ہے کہ ہماری قوم کے اندر جتنے با اثر عناصر پائے جاتے ہیں،وہ زیادہ تر بگاڑکے لیے کام کر رہے ہیں۔ جو بگاڑنے میں لگے ہوئے نہیں ہیں،وہ سنوارنے کی فکر سے فارغ ہیں۔اصلاح و تعمیر کے لیے کوشش کرنے والوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابرہے۔تیسری بات یہ ہے کہ موجودہ دور میں اجتماعی زندگی کو بنانے اور بگاڑنے والی سب سے بڑی طاقت حکومت ہے اور جس جگہ جمہوری نظام رائج ہو ،وہاں حکومت کے صحیح یا غلط ہونے کا سارا انحصار اس امر پر ہے کہ عوام الناس صحیح لوگوںکے ہاتھ میں اقتدار سونپتے ہیں ۔بگاڑ کے لیے کام کرنے والے تمام لوگ کسی دوسرے کام پر اتنی طاقت صرف نہیں کرتے ، جتنی اس سلسلے میں عوام کو بہکانے پر صرف کرتے ہیںتاکہ وہ کبھی صحیح انتخاب کرنے کے قابل نہ ہو سکیں۔یہ تین حقیقتیں مل جل کر ایسا بھیانک منظر پیش کرتی ہیں کہ ایک بار اسے دیکھ کر آدمی کا دل بیٹھ جاتا ہے ، اور وہ مایوسی کے ہجوم میں سوچنے لگتا ہے :یہاں کچھ بنائے بن بھی سکے گا یا نہیں ؟لیکن ان کے مقابلے میں چند حقیقتیں اور بھی ہیں جنھیں نگاہ میں رکھنے سے یا س کے بادل چھٹنے لگتے ہیں اور امید کی شعاعیں چمکنی شروع ہو جاتی ہیں ۔پہلی حقیقت یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ صرف فاسد عناصر ہی سے بھرا ہوا نہیں ہے بلکہ اس میں کچھ صالح عناصر بھی موجود ہیں ، ان کے اندر اصلاح و تعمیر کی صرف خواہش ہی نہیں بلکہ آمادگی و استعداد بھی پائی جاتی ہے ۔ اگر اس میں کچھ کمی ہے تو وہ تھوڑی سے توجہ اور سعی سے دور کی جا سکتی ہے ۔
دوسری حقیقت یہ ہے کہ ہماری قوم بحیثیت مجموعی شر پسند نہیں ہے ،بے علمی و نادانی کی وجہ سے وہ دھوکہ کھا سکتی ہے اور کھاتی رہی ہے لیکن وہ اس بگاڑ پر راضی نہیں ہے جو دھوکہ دینے والوں کے ہاتھوں رونما ہوتا ہے ۔اگر حکمت کے ساتھ منظم اور پیہم سعی کی جائے تو یہا ں کی رائے عامہ کو اصلاح پسند طاقتوں کامددگاربنانے میں بالآخر کامیابی ہو کر رہے گی۔مایوسی صر ف اس صورت میں ہو سکتی تھی کہ قوم کا سواد ِاعظم خود ان برائیوں کا طالب ہوتا جو معاشرے میں مفسد طاقتوں کے غلبے سے برپا ہو رہی ہیں۔تیسری حقیقت یہ ہے کہ بگاڑ کے لیے کام کرنے والوں کو سب کچھ میسر ہے ، مگر دو چیزیں میسر نہیں ہیں ۔ایک سیرت و کردار کی طاقت ، دوسر ی اتحاد و اتفاق۔آخری اور سب سے اہم حقیقت یہ ہے کہ اقامت دین کا کام اللہ تعالیٰ کا اپنا کام ہے اور اس کے لیے جو لوگ بھی کوشش کریں ان کو اللہ تعالیٰ کی تائید حاصل ہوتی ہے بشر طیکہ وہ اخلاص اور صبر کے ساتھ کام کریں اور حکمت سے غافل نہ ہو ں ۔
ایسے لوگوں کی تعداد خواہ کتنی ہی کم ہو اور ان کے وسائل چاہے کتنے ہی قلیل ہوں ، آخر کار اللہ کی تائید ہر کسر پوری کر دیتی ہے ۔مایوس کن ظاہر کے پیچھے امید کا یہ سروسامان ہے جوڈھارس بندھاتا ہے کہ پاکستان میں ایک اسلامی فلاحی معاشرے کا وجود محض ممکن ہی نہیں بلکہ یہ ہی اس کی اصل منزل ہے۔ وہ لوگ جو اس کام کی حقیقی خواہش رکھنے والے ہیں، وہ آرزوﺅں اور تمناﺅں کی منزل سے نکل کر کچھ کرنے کے لیے آگے بڑھیں ، اور ان طریقوں سے کام کریں ، جو سنت اللہ کے مطابق کامیابی کے لیے مقرر ہیں —سنت اللہ یہ نہیں کہ آپ بس خرابیوں پر تنقید کرتے رہیں اور وہ تقریروںسے دور ہو جائیں ۔ جنگل کا ایک کانٹا اور راستے کا ایک روڑا بھی اپنی جگہ سے نہیں ہٹتا ، جب تک ہاتھ پاﺅںنہ ہلائے جائیں ۔پھر بھلا معاشرے میں مدتوں کی رچی بسی خرابیاں محض نعروں اور تقریروں سے کیسے رفع ہو جائیں گی۔گندم کا ایک دانہ بھی کسان کی عرق ریزی کے بغیر پیدا نہیں ہوتا، پھر کیسے امید کی جا سکتی ہے کہ معاشرے میں نیکی اور فلاح کی کھیتی بس دعاﺅں اور تمناﺅں سے لہلہانے لگے گی۔تنقیدیں کارگر ہوتی ہیں مگر اس وقت جبکہ عالم اسباب میں ہم اپنے کرنے کا کا م پورا کر دیں اور پھر اس کے بارآور ہونے کے لیے اللہ سے دعائیں مانگیں ۔فرشتے بلا شبہ اترتے ہیں مگر خو د سے لڑنے کے لیے نہیں ، بلکہ اہل حق کی مدد کے لیے اترتے ہیں جو خدا کی راہ میں جانیں لڑا رہے ہوں ۔
جو لوگ تبدیلی کے لیے تیار ہو ں ،انھیں غلط توقعات اور بے جا امیدوں کو چھوڑ کر ٹھنڈے دل سے اس کام کے تقاضوں کو سمجھنا چاہیے ۔ خوب سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہیے کہ انھیں یہ کام کرنا ہے یا صرف بگاڑ پر نوحہ خوانی کرنے اور بناﺅکی آرزوئیں دل میں پالنے پر قناعت کرنی ہے ۔عمل کا فیصلہ جسے بھی کرنا ہو ، جوش میں آ کر نہیں بلکہ ٹھنڈے دل سے سوچ کر کرنا چاہیے ۔ وقتی جوش میں یہ طاقت تو ضرور ہے کہ آدمی اٹھے اور سینے پر گولی کھا کر جان دے دے لیکن اس میں یہ طاقت نہیں ہے کہ آدمی کو چار دن بھی کسی ایک برائی سے اجتناب پرقائم رکھ سکے ، کجا کہ اس کے بل بوتے پر کوئی شخص عمر بھر ایک مقصد کے پیچھے لگا تا ر محنت کرتا چلا جائے ۔تعمیر ی کام صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں جن کا سوچا سمجھا فیصلہ یہ ہو کہ انھیں اپنی عمر عزیز اسی کام میں کھپانی ہے ۔
وقتی ابال ،جذباتی نعروں،مسلسل تنقید سے نہ کبھی اصلاح ہوتی ہے نہ وہ پائیدار انقلاب آتا ہے جو اس معاشرے کو مطلوب ہے۔تبدیلی صرف اسی طریقے سے آ سکتی ہے جو حضور نبی اکرمﷺنے اپنے عمل سے سیکھایا۔دلوں کو فتح کرنے والی تبدیلی ہی اصل انقلاب ہوتی ہے۔چند پوسٹر،کچھ نعرے،اوربھنگڑے جماعتوںکو اسمبلی میں سیٹیں تو دے سکتے ہیں لیکن اس ملک کو مطلوب اصل حقیقی اور پائیدار انقلاب سے ہمکنار نہیں کیا جا سکتا،یہ سراسرفطری اصولوںکے خلاف ہے۔برس ہا برس تک اس کوشش میں لگے رہیں ،جب تک تبدیلی کا فطری راستہ اختیار نہیں کیا جاتا منزلیں یوں ہی دور رہتی ہیں ،انسان یوں ہی بھٹکتے رہیں گے،رہزن نما رہنما کہلاتے رہیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *