عشق بھی ہو حجاب میں، حسن بھی ہو حجاب میں: علامہ اقبال

عشق بھی ہو حجاب میں، حسن بھی ہو حجاب میں

گیسوئے تاب دار کو اور بھی تاب دار کر
ہوش وخروشکار کر، قلب ونظر شکار کر
عشق بھی ہو حجاب میں، حسن بھی ہو حجاب میں
یا تو خود آشکار ہو یا مجھے آشکار کر
توہے محیطِ بے کراں، میں ہوں ذرا سی آبجُو
یا مجھے ہمکنار کر یا مجھے بے کنار کر
میں ہُون صدف تو تیرے ہاتھ میرے گُہر کی آبرو
میں ہُوں خزف تو تُو مجھے گوہرِ شاہوار کر
نغمۂ نو بہار اگر میرے نصیب میں نہ ہو
اس ومِ نیم سوز کو طائرکِ بہار کر
باغ بہشت سے مجھے حکمِ سفر دیا تھا کیوں
کارِ جہاں دراز ہے‘ اب میرا انتظار کر
روزِ حساب جب مرا پیش ہو دفترِ عمل
آپ بھی شرمسار ہو‘ مجھ کو بھی شرمسار کر


علامہ اقبال کی کتاب بالِ جبریل سے اقتباس

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: