مارخور

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بستی کے قریبی پہاڑ پر ایک مارخور رہتا تھا-اس مارخور نے وہ پہاڑ اس لئے چنا تھا کیونکہ اس پہاڑ پر بہت سے چھوٹے بڑے زہریلے سانپ رہتے تھے جو اپنی خبیث حرکتوں سے دوسرے جنگلی جانوروں اور انسانوں کو تنگ کرتے رہتے تھے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ مارخور سانپ کھا جاتا ہے تو ان سانپوں کا وہ شکار کیا کرتا تھا۔ آہستہ آہستہ پہاڑ پر بسنے والی انسانی آبادی اور تمام مخلوقات میں وہ مارخور مقبول ہوتا گیا۔ لوگ اسے نجات دہندہ سمجھنے لگے۔ اور اس سے پیار کرنے لگے۔
دوسری طرف سانپوں میں کھلبی مچی ہوئی تھی۔ وہ دن رات مارخور کو ڈسنے کا سوچتے رہتے۔ مگر جیسے ہی کوئی اسکے قریب آتا مارا جاتا۔ پھر جب کوئی سانپ مار خور کے ہاتھوں مارا جاتا تو یہ بات انکے خاندانوں میں بڑی عزت کی بات سمجھی جاتی تھی۔ جب کسی سانپ کے مرنے کی خبر آتی تو سب سانپ خوب روتے، آنسو بہاتے، اور مرنے والے سانپ کے دوستوں اور رشتےداروں کی تو اچھی خاصی مشہوری ہوجاتی تھی۔ کہ بیچارہ ظلم کے خلاف سچائی کی جدوجہد کرتا مارا گیا
آہستہ آہستہ جب ان سانپوں نے دیکھا کہ مارخور کو براہ راست مقابلہ کر کے مارنا ناممکن ہے تو انہوں نے ایک خطرناک منصوبہ بنایا
ایک مارخوراب ہر سانپ کے پیچھے تو نہیں جا سکتا تھا۔ انہوں نے سوچا کہ وہ ایک سانپ کو مارخور کے سامنے بھگائیں گے جب وہ اسکا پیچھا کرے گا اتنے میں دوسرے سانپ انسانی بستی میں داخل ہو کر انسانوں کو تنگ کیا کریں گے اور ایسا ہی ہوا۔
اب مارخور کی موجودگی کے باوجود انسانی بستی اور دوسری معصوم جنگلی مخلوقات میں سے روز کوئی نہ کوئی سانپ کے کاٹنے سے مرنے لگا۔ لوگوں میں سخت غم و غصہ پایا جانے لگا۔ کوئی کہتا کہ مارخور کو مار دو خوامخواہ یہ یہاں رہ رہا ہے۔ اسکے رہنے کا کیا فائدہ جب یہ کچھ کر نہیں سکتا-کوئی کہتا کہ اسکو ذبح کر دو اسکے سینگ بیچ دیں گے۔ جنگلی جانور بھی بہت پریشان تھے کہ آخر ایسا کیا ہوا کہ ہمارا پیارا مارخور ان سانپوں کو دیکھ نہیں پا رہا۔
ایسے میں کچھ برفانی لومڑیاں جو مارخور کا گوشت کھانے کے خواب دیکھتی تھیں اور ہمیشہ ناکام رہتی تھیں میدان میں آگئیں۔ انہوں نے مارخور کے خلاف پوری مہم ہی چلا ڈالی۔
ہر طرف شور مچنے لگا کہ مارخور کا کیا فائدہ ؟
مارخور بیچارہ دن رات محنت سے اپنے کام پر لگا رہتا۔ اسے خبر ہی نہ تھی کہ اس سے پیار کرنے والی مخلوقات اب اسکی دشمن بنتی جا رہی ہے۔ اسکے خلاف سازشیں سنتی ہے اور اسکے دشمنوں کی ہر بات کا یقین کرتی جا رہی ہے۔
اب مارخور تک بھی وہ نفرت پہنچنے لگی تھی۔ اور اسے نظر آرہا تھا کہ اسکا وہاں رہنےکا اب کوئی فائدہ نہیں۔
اداس دل کے ساتھ ایک رات وہ بستی کے قریبی ویرانے کی طرف جانے والے راستے پر بیٹھا تھا۔ کہ اس نے کچھ سانپ دیکھے مارخور کی بھوک تو کب کی مٹ چکی تھی- اس نے انکا پیچھا نہیں کیا
اب سانپوں کو بڑی حیرت ہوئی کہ یہ پیچھے کیوں نہیں آرہا ہے
اگر یہ جلدی نہ آیا تو بستی میں جانے والے سانپوں کو دیکھ لے گا اور انکا پول کھل جائے گا۔ یہ سوچ کر وہ سانپ شور مچانے لگے جان بوجھ کر اسکے آس پاس منڈلانے لگے- مارخور کو یہ بات کچھ عجیب لگی وہ حقیقت جاننے سونے کا بہانہ کرنے لگا۔ اب ان سانپوں نے سوچا کہ شاید اب ہمیں اس سے کوئی خطرہ نہیں رہا کیونکہ اسکو اب اسکے چاہنے والوں کی حمایت حاصل نہیں رہی۔ تو انہوں نے اس پر آوازیں کسنا شروع کر دیں۔ اور خوشی سے ناچنے لگے۔ ناچتے ناچتے دوسرے سانپ بھی انکے قریب جمع ہونا شروع ہو گئے اور کچھ سانپ موقع عنیمت جانتے ہوئے بستی میں داخل ہونے لگے۔ جنہیں مارخور نے دیکھ لیا۔ اب اسکی سمجھ میں ساری بات آگئی۔ اس نے نہایت پھرتی سے قریبی سانپوں کو ختم کیا اور بستی میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے سانپوں کی گردن دبوچ لی۔
کہا جاتا ہے کہ اس رات سینکڑوں سانپ مارے گئے۔ اور برفانی لومڑیاں جو مارخور کے مرنے کے انتظار میں رالیں ٹپکا رہی تھیں پھر سے بھوکی رہ گئیں۔
سنا ہے کہ آج بھی اس علاقے میں سانپ ان مرنے والے سانپوں کی یاد میں موم بتیاں جلاتے ہیں اور لومڑیاں دوسری تمام مخلوقات میں خوب بن ٹھن بال کٹا کر جاتی ہیں اور مارخور کے خلاف باتیں کرتی ہیں اور اس رات والے واقعے کو مارخور کی حیوانیت، ظلم اور درندگی بتاتی ہیں۔ کچھ انکا یقین کر لیتے ہیں اور کچھ انہیں مار کر بھگا دیتے ہیں۔ لیکن سانپ آج بھی جب اپنے گھروں سے نکلتے ہیں تو وصیت کر کے نکلتے ہیں کہ
”اگر مجھے کچھ ہوا تو اسکا ذمےدار صرف اور صرف مارخور ہوگا”
منقول

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *